مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا سفر ساتویں قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

باسمہ تعالی
ساتویں قسط
طارق شفیق ندوی

قدر دانوں کا اصرار ہے سفر نامہ مکمل جلدکروں ادھر سفر جاری ہے غلطیاں بے شمار ہو سکتیں ہیں پیشگی معذرت چاہتا ہوں

مولانا محمد قمر الزماں ندوی
مناسب معلوم ہوا کہ اجلاس کے داعی اور سفر نامہ لکھنے کے محرک پر بھی مختصراً چند سطریں لکھوں۔
میرے فاضل دوست مولانا محمد قمرالزماں ندوی کی پیدائش ستمبر ۱۹۷۳ء میں مقام دگھی وایا مہگاواں ضلع گڈا جھارکھنڈ( سابق بہار ) میں ہوئی ۔ یہ گاؤں صوبہ بہار اور جھارکھنڈ کا نقطۂ اتصال ہے۔ جس نے ضلع گڈا کا انتہائ زرخیز اور متمول قصبہ کی شکل اختیار کر لیا ہے ۔

دو ڈھائی سو سے زیادہ علماء عظام اور حفاظ کرام ہیں۔متعدد مدرسے ، اسکول و مکاتب ہیں مولانا موصوف کا تعلق ایک علمی شیوخ خاندان سے ہے ۔ خاندان کے بیشتر افراد نے دینی وعصری دونوں درسگاہوں سے فیض حاصل کیا ہے ۔ مولانا کے نانا جان مولانا علاء الدین عزیزی بھی جید عالم دین تھے اور مدرسہ عزیزیہ بہار شریف کے قدیم فارغ التحصیل تھے ۔ جن کی علمی خدمات کا زمانہ معترف ہے اور حکومت ہند نے 1992ء میں صدر جمہوریہ کا گراں قدر اعزاز سے نوازا ہے اور انہوں نے شنکر دیال شرما کے ہاتھ سے یہ ایوارڈ حاصل کیا ۔
مولانا محمد قمرالزماں ندوی نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں حاصل کی اور ثانوی تعلیم مدرسہ ضیاء العلوم میدان پور تکیہ کلاں رائے بریلی اور مدرسہ انوار الاسلام مادھو پور سیوان بہار میں حاصل کی اور ثانویہ رابعہ کا سالانہ امتحان ندوہ میں دیا اور امتیازی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ۔ عالمیت 1993 میں اور فضیلت 1995 پاس کیا ۔ فضیلت کے بعد دار العلوم سبیل السلام حیدر آباد سے تخصص فی الفقہ کا خصوصی کورس کیا ۔ اس کے بعد حضرت مولانا عبداللہ حسنی ندوی رح کے حکم پر مدرسہ نور الاسلام کنڈہ میں معتکف ہو گئے اور تقریبا ۲۳ سال تدریسی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔ ملک بھر میں صرف علمی اسفار کرتے ہیں۔ فقہ اکیڈمی کے مندوب ہیں اور اس کے سمینار میں پابندی سے شریک ہوتے ہیں، فقہی موضوعات پر مقالہ لکھتے ہیں ۔ ماہنامہ ندائے اعتدال کے رکن مجلس ادارت ہیں اور پابندی سے اس میں دو کالم لکھتے ہیں ان کا آخری صفحہ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے جسے قارئین بہت پسند کرتے ہیں۔ کئ کتابوں کے مصنف و مرتب ہیں ۔ بچوں کی تربیت کیسے کریں ؟انسانی عظمت کے تابندہ نقوش ۔ رمضان کے شرعی احکام اور قربانی اور عقیقہ کے شرعی احکام مشہور کتابیں ہیں ۔

تین سو سے زیادہ مضامین ملک کے مختلف جرائد و رسائل میں شائع ہو چکے ہیں ۔
مولانا موصوف کا ایک کرشماتی کام یہ ہے کہ شوشل میڈیا پر آج کا پیغام کالم کے تحت متعدد موضوعات پر لکھتے ہیں۔ تقریبا ڈیڑھ سال سے لکھ رہے ہیں اور ایک دن بھی ناغہ نہیں ہوا ہے ۔ اس کالم کو روزانہ پڑھنے والوں کی تعداد بہت ہی زیادہ ہے ۔ یہ کام موصوف کا بہت ہی عظیم ہے ہزاروں کی تعداد ائمہ حضرات بھی اس سے جمعہ کی تقریروں میں استفادہ کرتے ہیں ۔
اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
موصوف مولانا علاء الدین ایجوکیشنل سوسائٹی جھارکھنڈ کے جنرل سیکرٹری بھی ہیں چونکہ ادارہ ابھی رجسٹرڈ نہیں ہے اس لئے اس کا تعارف زیادہ نہیں کرایا گیا ہے البتہ اس سوسائٹی کی طرف سے نصف درجن کتابین شائع ہو چکی ہیں ۔

اور امداد و تعاون کا سلسلہ بھی جاری ہے ۔
ابھی باقی ہے