مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کا سفر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دوسری قسط
محمد طارق شفیق ندوی
میاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج گھورکھ پور

برادر رفیق مولانا محمد قمر الزماں ندوی کی خواہش اور حد درجہ اصرار پر سفر کا پختہ ارادہ کر لیا جبکہ ( 14/ 15 اپریل ) دو روزہ لکھنؤ کے انتہائی تھکا دینے والا سفر اور 16 کو کالج کی دن بھر کی مصروفیت کے بعد مجھ جیسے مریض کے لئے 17 کو سفر کرنا انتہائی دشوار کام تھا ادھر مولانا قمر الزماں صاحب کا بار بار فون کے میرا چھوٹا بیٹا عزیزم محمد صفوان شیبانی نے قرآن مجید حفظ کیا ہے اس کی دستار بندی کی تقریب ہے اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے آجائیے اور یقین مانئیے کہ میرے علاوہ بھی بہت سے لوگ آپ کے منتظر ہیں۔

میری اہلیہ اور بچے بھی مولانا کے طرفدار نظر آئےاور مجبوراً دوبارہ سفر کے لئے نکل پڑا۔ بڑا بیٹا محمد شاذان طارق اپنی گاڑی سے اسٹیشن چھوڑ گیا اور میں انٹر سٹی ٹرین سے لکھنؤ کے لئے روانہ ہوگیا۔ گونڈہ اسٹیشن پر برادرم مجاہد حسین ندوی گونڈوی( سن عالمیت 1992 ) سے ملاقات ہوگئی ۔ بڑے حوصلہ سے ملے۔ ندوی روایات کا خیال رکھا میرے ساتھ لکھنؤ تک آئے اور مجھے سفر کا احساس بھی نہیں ہونے دیا۔ لکھنؤ اسٹیشن پر اترنے سے قبل صالح نوجوان اور فعال عالم دین مولانا مفتی رحمت اللہ ندوی استاذ دارالعلوم ندوۃ العلماء کا فون آیا کہ میں بھی آپ کے ساتھ کنڈہ چل رہا ہوں اس خبر سے میری خوشی دو چند ہوگئی اور ہم دونوں بذریعہ شتابدی بس کنڈہ کے لئے روانہ ہوئے الحمداللہ یہ ایک اچھے رفیق ثابت ہوئے۔راستہ میں پھل فروٹ کے ساتھ مولانا محمد یوسف مظاہری مہتمم جامعہ نصیحت المسلمین للبنات رائے بریلی بھی شریک سفر ہوگئےاور اس طرح ایک جماعت تیار ہوگئی .

میں اکیلا ہی چلا تھا جانب منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ٹھیک ساڑھے تین بجے جدید مدرسہ کی گیٹ پر بس رکی تو مولانا محمد قمر الزماں ندوی کو سراپا انتظار پایا وہ اپنے رفقاء اور شاگردوں کے ساتھ پہلے سے استقبال کے لئے کھڑے تھے اس زحمت خاص کو میں نے کبھی پسند نہیں کیا بہر حال قدردانوں کی محبت کا انداز بھی نرالا ہوتا ہے پرجوش مصافحہ اور معانقہ کے بعد مولانا کے گھر جانا ہوا جہاں پر تکلف دستر خوان مرغ و ماہی سے سجا ہوا تھا کھانے اور قیلولہ سے فراغت کے بعد مدرسہ کی وسیع وعریض مسجد میں

( جو کسی خاص وجہ سے ابھی نامکمل ہے ) باجماعت نماز عصر پڑھی۔
طارق شفیق ندوی
میاں صاحب اسلامیہ انٹر کالج گھورکھ پور