ماہ رمضان اور مطالعہ قرآن

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد عادل ندوی پورنوی
ماہ رمضان اپنی تمام تر نعمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہوچکا ہے،جدھر دیکھو رحمتوں کا بادل نظر آتا ہے،نیکی کی نہریں بہ رہی ہیں،برائی کا گراف کم ہوتا ہوا نظر آرہا ہے،خیر کے طلبگار سبقت کررہے ہیں،

برائی کے طلبگار راہ فرار اختیار کررہے ہیں،یہ سچ ہے کہ یہ ماہ مبارک مسلمانوں کے لئے ایک ورکشاپ کی حیثیت رکھتا ہے،تاکہ اس میں مسلمان بقیہ گیارہ ماہ کی ٹرینگ لے لے،یہ‫ ماہ وہ غذا فراہم کرتا ہے،جس سے شکم سیری کے بعد انسان گیارہ مہینے تک شریعت کی پوری پابندی کرسکتا ہے،رمضان کا تعلق جہاں برکت،رحمت،اور تقوی سے ہے،وہیں قرآن کریم سے اس کا رشتہ بہت ہی گہرا اور مستحکم ہے،یوں سمجھ لیجئے کہ رمضان مسلمانوں کو قرآن سے جوڑنے کے لئے آیا ہے،قرآنی رنگ میں رنگنے کے لئے آیا ہے،خود قرآن نے رمضان سے اپنا رشتہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے،”شھر رمضان الذي أنزل فيه القرآن”عظیم ہے وہ مہینہ جس میں قرآن کا نزول ہوا،
قرآن مجید انسانیت کے نام الله کا پیغام اور انسانی دنیا کے لئے ایک کتاب انقلاب ہے،ماضی میں مسلمانوں کی ترقی کا واحد راز یہ تھا کہ انہوں نے اس کتاب کو محور غور و فکر بنایا،اور آج مسلمانوں کی پستی کا ایک بنیادی سبب یہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب سے اپنا رشتہ توڑ لیا،
رمضان کی آمد ہمارے لئے یہ پیغام لاتا ہے کہ ہم اس کتاب عظیم سے استفادہ کریں،جس نے انسانوں کو جینے کا سیلقہ سکھلایا،وحشی نما انسان کو صحیح معنوں ميں انسان بنایا،جس نے فکر میں گہرائی و گیرائ پیدا کا، تو آئے ہم بھی اس کتاب عظیم سے استفادہ کریں،
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کا مطالعہ کس انداز کا ہو؟اس سلسلہ میں یہ بات ذھن نشین رہنی چاہئے کہ محض قرآن کے الفاظ کا زبان سے ادا کرلینا مطالعہ نہیں کہلاتا ہے،بلکہ مطالعہ نام ہے،پڑھے جانے والے مواد پر غور و تدبر کا،معانی و مفاہیم سے واقفیت کا، فصاحت و بلاغت سے باخبر ہونے کا،قرآن کے اعجاز کو جاننے کے،
آج ہمارا معاشرہ اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ صرف قرآن کی تلاوت کر لینے سے قرآن کا حق ادا کردیا،اور بہت سے احباب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ آج کل ماشاءاللہ ہم ایک دن میں پانچ، دس پاڑھ پڑھ لیتے ہیں،ذرا سوچئے!

جو قرآن تیئس سال پر مشتمل ایک طویل عرصہ میں نازل ہوا،اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سبب تو رہا ہوگا؟کیا اس میں ہمارے لئے یہ پیغام نہیں کہ ہم بھی غور و تدبر کے ساتھ اس کی تلاوت کریں،خواہ اس میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگے،ہم پڑھیں تو ایسا لگے کہ ہمارا رب ہم سے مخاطب ہے،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ہم قرآن پڑھتے وقت یہ سوال ذھن میں رکھیں کہ ہمارا رب ہم سے کیا چاہتا ہے؟؟؟

اسی کا جواب تلاش کرتے جائیں، کرتے جائیں،کرتے جائیں،یہاں تک ہماری زندگی کا ورق باقی نہ بچے،اور ہم مالک حقیقی سے جا ملیں،،،
محمد عادل ندوی پورنوی

2 تبصرے “ماہ رمضان اور مطالعہ قرآن

  1. توحید عالم فیضی دہلی نے کہا:

    اللہ کا بہت بڑا احسان ہے
    اللہ ہم سب کو قرآن کریم کی تلاوت کی توفیق عطا فرمائے اور اعمالِ صالحہ توفیق نصیب فرمائے آمین ثم آمین

  2. چاندنی شبنم لکھنئو نے کہا:

    آمین ثم آمین یا رب العالمین

تبصرے بند ہیں