لوگ مرتے ہیں تو مرنے دو مجھے اپنی ذات سے مطلب ہے!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

عبید الرحمان عقیل ندوی

موجودہ دور کا یہ فلسفہ سب پر نہیں تو کچھ لوگوں پر ضرور فٹ ہوجاتا ہے کہ صرف میری ہی ذات تمام پر مقدس ہے اور میں ہی بام عروج کے کمال پر پہونچنے کا حق رکھتا ہوں چنانچہ میرے علاوہ سب کمتر ہیں اور اسی لئے دوسروں کی عزت لٹے تو اسے لٹنے دیا جاتا ہے کوئی مرے تو اسے مرنے دیا جاتا ہے لیکن مجھے تو اپنی پرواہ ہے .

اس ملک میں ہونے والے تمام حالات کا اندازہ اخبارات کی سرخیوں سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ  کہیں عزت لوٹی گئی تو کہیں مذاہب کے مابین فرقہ وارانہ فسادات کرائے گئے تو کہیں کسی پر گولی داغ دی گئی تو کہیں منتظم کی سستی و لاپرواہی نے ہزاروں معصوم بچوں کی جانیں چھین لی لیکن جب ان تمام حالات پر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو اس کی آواز کو ہمیشہ کیلئے پرواز کرادیا جاتا ہے جب کبھی کسی کی زبان نے بولنا چاہا تو اس کی زبان کھینچ لی گئی جب کسی قلم نے لکھنا چاہا تو اسکی انگلیاں تراش لی گئیں اور جب کبھی سڑکوں پر مظاہرے ہوئے تو اس وقت یہ بول کر خاموش کردیا گیا کہ اس میں صرف بیرون ممالک کے دہشت گردوں کا ہاتھ ہے چنانچہ آخر میں ان بے چارے مرنے والوں کی فائلیں سمیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں اور خود امریکہ اور لندن کے سفر پر نکل جاتے ہیں اندرون ملکی حالات سازگار نہیں لیکن اپنی نمائش کی فکر کمال انتہا کو ہے اندر کاروبار تھپ پڑے ہیں لیکن بہار کی سیاحت انتہائی ضروری ہے اندر بے روزگاری سے نوجوان خودکشی کررہے ہیں لیکن ہمیں فضا میں اڑنے کا بہت شوق ہے گویا جسے جو بکنا ہے

بکے لیکن میں وہی کروں گا جو میرا دل چاہے اسی لئے شاید دل کی بات مانتے ہوئے صاحب سیر کو نکل گئے شاید اب تو انہیں یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ پتہ نہیں پھر یہ زندگی یہ آزادی یہ عہدہ یہ منصب یہ پیسہ کی ریل پیل نہ کوئی منصف نہ کوئی عدالت جو کچھ ہیں سب ہمیں ہم ہیں یعنی میں ہی میں ہوں اور اب کہیں چھن نہ لی جائے آئندہ ملے نہ ملے بس مجھے میری ذات پیاری ہے ……… ان تمام حالات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ہماری قومیں سوچیں کہ قوم کا سردارقوم کاامیر کیسا ہونا چاہیے .؟
سوچیں ……… !

روزانہ جاری
عبیدالرحمان عقیل ندوی
اسماء پبلک اسکول ڈومریا