لباسِ زندگی ہیں مرد و عورت ایک دوسرے کےلئے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از: محمد عباس دھالیوال
مالیر کوٹلہ،پنجاب
آج معاشرہ میں فضول قسم کی نئی نئی اخراجات بڑھانے والی رسومات کا چلن عام ہو رہاہے عوام کے ساتھ ساتھ خواص بھی ان فرسودہ قسم کی رسوم کے مکڑی جال میں بری طرح سے پھنسے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔مشاہدہ میں آیا ہے کہ سماج میں لوگوں کا جن چیزوں پر بے تحاشہ خرچ ہو رہا ہے۔ان میں شادی بیاہ کے موقع پر ہونے والے اخراجات یقینا ہم سب کے لیے لمحہء فکریہ کا مقام رکھتے ہیں۔

قران میں اللہ پاک نے عورتوں کو مردوں کے لیے اور مردوں کو عورتوں کے لیے لباسِ زندگی بتایا ہے قرآن حکیم کے بموجب ”ھن لباس لکم وانتم لباس لھن “یعنی وہ تمہارے لیے لباس ہیں اورتم ان کے لیے لباس ہو،قرآن کی یہ تعبیرنکاح کی اہمیت اور مقصدیت کا انتہائی جامع،بلیغ اور معنی خیز بیان ہے،لباس کا لفظ اپنے جلو میں اس موقع ِ استعمال میں بے حد معنویت رکھتا ہے۔نکاح تمام انبیاء علیہ السلام کی سنت ہے۔ اسلام کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ نے نکاح کو ایک قلعہ سے مماثلت دی ہے اور اسکے متعلق کہا ہے کہ جو نکاح کرنے کی طاقت رکھتے ہوئے بھی نکاح نہ کرے تو وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔محمد ﷺ نے نکاح کو سادگی سے کرنے کی ہدایات دیں ہیں اور آپﷺ نے سادہ نکاح میں برکات ہونے کی بشارت دی ہے یقینا نکاح ایک ایسی سنت اور سماجی رشتوں کا وہ پاک عہد و اقرار نامہ ہے جو معاشرے میں پھیلنے والی بہت سی برائیوں پر نہ صرف لگام لگاتاہے بلکہ ان برائیوں کو جڑ سے اکھاڑتے ہوئے معاشرے میں مجموعی انسانیت کے لیے عزت و آبرو والا پاک وصاف ماحول پردان کرواتا ہے۔نکاح کے پاک بندھن میں بندھنے کے بعد انسان اپنی خوشیاں اور غم اپنے جیون ساتھی کے ساتھ مشترکہ کرتے ہوئے اپنی روزانہ زندگی میں سکون عافیت حاصل کرتا ہے۔جس معاشرے میں نکاح کی رسم سادہ اور کم سے کم خرچیلی ہوگی،تو یقیناایسا سماج زنا جیسی نامراد اور انسان کو خسارہ میں ڈالنے والی کتنی ہی برائیوں سے بچا رہے گا۔بے شک نکاح ایک قلعہ ہے جس کے عہد واقرار نامے کو قبول کرنے کے بعد دو لوگ معاشرے میں پاکی کے ساتھ عزت والی زندگی گزارتے ہوئے اپنے خاندان کو آگے بڑھاتے ہیں۔
لیکن افسوس کہ ہم لوگوں نے آج نکاح کو شادی کا نام دیکر بہت بھاری بھرکم اور خرچیلی رسم میں تبدیل کر دیا ہے۔اگر ارد گرد کی شادیوں کا جائیزہ لیں تو بہت سی فضول رسومات ہمارے معاشرے میں پولیوشن کی طرح پھیلتی نظر آرہی ہیں اوردیکھا دیکھی اس سے روزانہ زندگی جینے والے عام غریب لوگ بھی متاثر ہو رہے ہیں۔شادی بیاہ میں فرسودہ رسوم کا چلن یقیناانسان کے قت اور پیسہ دونوں ہی کو بری طرح سے ضائع کر رہا ہے اور ساتھ ہی خونی رشتوں میں کبھی نہ پر ہونے والی دراریں ڈالنے کی وجہ بن رہی ہیں۔اگر سچ کہیں توان فرضی رسومات کے چلتے رشتوں میں تصنع و بناوٹی پن کا بول بالا عام ہو رہا ہے جبکہ اس کے پس پردہ خالص رشتے ختم ہو رہے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ خالص رشتوں کا ایک طرح سے سفاقانہ قتل ہو رہا ہے۔
اسی بیچ شادی بیاہ کے موقع پر متوسط اور غریب طبقہ کے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی امیروں کی شادیوں کے دیکھا دیکھی رسمومات کو ادا کرنے کے دوران خواہ مخواہ اپنے سر پہ قرض چڑھاکرنہ صرف مالی پریشانی کا شکار ہو تے ہیں بلکہ انھیں دیگر بہت سی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔یا یوں کہہ لیں کہ نا چاہتے ہوئے بھی ان فضول قسم کی رسومات کو نبھانا ان کے لیے ایک ناک کا مسئلہ بن جاتا ہے اور کئی بار تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ اپنی جھوٹی انا و ناک کوبچانے کے چکرّ میں اپنی گردن تک کٹوانے کو مجبور ہو جاتے ہیں۔
ہر چھوٹی بڑی رسم ادا کرنے کے موقع پر جس طرح سے کچھ لوگ بے تحاشہ خرچ کرتے ہیں ایسے لوگوں کے سامنے بھلے ہی دوسرے لوگ ان کی جھوٹی تعریف کے پل باندھتے پھریں،لیکن ان کے پیٹھ گھماتے ہی ا نکی برائیا ں و انکے خلاف اناپ شناپ بولنے میں قطعاً پرہیز نہیں کرتے اور ایسے بے جا خرچ کرنے والے لوگوں کو اکثر عقل کے دیوالیہ پن کا شکار والے القاب دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔
اگرآج ہم ایک متوسط طبقہ کی شادی کو ہی لیں توپیلس،ویٹرز،ٹینٹ وینٹ،ڈی۔جے اور باجے گاجے اور دعوت ناموں کے علاوہ قسم قسم کے پکوانوں اور مہنگی سے مہنگی شرابوں کو مہمانوں میں پروسے جانے کی تیاری پرہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں روپے خرچ آتا ہے۔ سچ کہیں تو آج کے دور میں شادی کی تقریب بیوپاری قسم کے لوگوں کے لیے ایک وسیع پیمانے کا دھندہ بن چکی ہے۔ جس میں پیلس،ٹینٹ،ویٹرز، تام جھام ولائیٹ سسٹم اور طرح طرح کی سویٹس اور قسم قسم کے کھانے وغیرہ اہل خانہ کو مہیا کروانے کے عوض میں مزکورہ کاموں سے وابسطہ لوگ دونوں ہاتھوں سے لوٹتے محسوس ہوتے ہیں ۔!جبکہ جس کے یہاں شادی ہو وہ بھی مانو خود کو دونوں ہاتھوں سے لٹوانے میں جیسے فخر محسوس کرتا ہوا نظر آتا ہے۔!
جس طرح سے بڑے سے بڑا مہنگے داموں والا پیلس بک کرنا، لوگوں میں ایک سٹیٹس سمبل بنتا جا رہا ہے۔اس کو کسی بھی صورت میں صحیح اور جائز قرار نہیں دیا جاسکتا اور پھر مختلف پروگراموں کو انجام دینے کے لیے جس طرح سے پانی کی طرح بے تحاشہ پیسہ بہایا جارہا ہے اس کو بھی معمولی سے معمولی عقل رکھنے والا انسان کسی بھی صورت میں صحیح و درست قرار نہیں دے سکتا۔
تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ آج ان خرچیلی شادیوں کے چلتے کتنے ہی غریب والدین کے جزبات مجروح ہو رہے ہیں اور ان کے جوان لڑکے و لڑکیوں کی وقت رہتے شادی نہ ہونے کے چلتے ارمان وحسرتیں اندر ہی اندردم توڑتے جارہے ہیں۔
ان مہنگی شادیوں کے چلن کو یقینا ہمیں بدلنا چاہیئے۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہم شادیوں پہ فضول خرچی کرنے کی بجائے وہی پیسہ غریب،یتیم اور بے سہارا بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے پہ خرچ کریں۔ شادیوں پہ بے تحاشہ خرچ کرنے کی بجائے ضروت مندلوگوں کی ضروریات پوری کرنے پہ صرف کریں تو ہمیں یقینا اس کے بہت سے مثبت نتائج دیکھنے کو ملیں گے اور معاشرے میں جو غریب لوگ بنا کسی بنیادی ضروریات کے اپنی زندگی کے شب وروز کاٹ رہے ہیں،یہی بے جا پیسہ اگر ہم ان کی ضرویات کو پورا کرنے پہ خرچ کریں ہوتو ہمارے معاشرے کی تصویرایک دم بدل سکتی ہے۔
آج کتنے لوگ ایسے ہیں جن گھروں میں چولہا جلے کئی کئی دن نکل جاتے ہیں،جبکہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو بے گھر ہیں اگر ایسے لوگوں کی معاشی مدد کی جائے، تو کتنا ہی اچھا ہوگا۔ جب بھوکے لوگوں کے منھ سے دعائیں نکلیں گی تو اس سے شادی والے اہل خانہ کو جو سکون و راحت ملے گی اسکا الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ۔ابھی حال ہی میں تامل ناڈو میں ایک صاحب ثروت نے اپنی بیٹی کے شادی نہایت سادگی کہ ساتھ کی جبکہ اس موقع پر بیٹی کی شادی کی خوشی منانے کا ایک منفر د انداز اپناتے ہوئے یعنی اپنے مثبت و صحت مند دماغ کا استعمال کرتے ہوئے ،غالباً ۰۵ بے گھر لوگوں کو رہنے کے لیے کواٹر نما گھر بنوا کر دیئے۔ میں سمجھتا اس نیک اقدام سے ان لوگوں کو جو خوشیاں ملیں گی وہ یقینا حقیقی و سچی ہونگی اور ایسے مثبت اقدام سے انشاء اللہ بہت ہی خوش آیئندنتائج سامنے آئیں گے۔یقینا ایسی سوچ رکھنے والے لوگوں کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ہم اہل سماج کو ایسی سوچ رکھنے والے لوگوں سے سیکھ لینے کی ضرورت ہے۔
صاحب دولت ہونے کے باوجود اگر ہم سادہ نکاح کرتے ہیں تو اسکا سماج کے متوسط اور غریب طبقوں میں بہت مثبت اور اچھا اثر پڑیگا۔یقینااس سے غریب لوگوں کواپنے بچوں کی شادیاں کرنے میں بہت آسانیاں ہونگی۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ اس سلسلے میں ہماری قوم کے نوجوان آگے آئیں اور معاشرے کا ہر جوان لڑکا ہو یا لڑکی اپنے من میں سادہ نکاح کرنے کاپختہ عہد کر لیں تو انقلابی تبدیلیاں برپا ہو سکتی ہیں،اسکے علاوہ اگر ہر نوجوان اپنے دل میں یہ ازم کرلے کہ وہ شادی میں جہیز کی بجائے پڑھی لکھی لڑکی سے نکاح کرنے کو ترجیح دے گا اور لڑکی کے ماں باپ بھی اپنی بچیوں کے لیے دولت کی ریل پیل والے گھرانوں کی جگہ پڑھے لکھے اور قابل لڑکوں کو پہل دیں گے توپھر دیکھئے سماج میں کیا خوبصورت فضا ئیں جنم لیتی ہیں۔
اگر ہم کسی شادی میں اصراف کی کثرت دیکھیں تو ہمیں اسکی تعریف کرنے کی بجائے ایسے فضول خرچی کرنے والے فیصلوں کی بھرپور مذمت کرنی چاہیئے کیونکہ اگر ہم شادی بیاہ میں فضول خرچی کی تعریف کرتے ہیں تو اس سے دوسرے لوگوں کو بھی اصراف کے ساتھ خرچ کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔باقی شادی بیاہ میں سادگی کو فروغ دینے کے لیے سرکاری اور غیر سرکای تنظیموں کی طرف سے بھی بیداری مہم چلائی جانی چاہئیں، یقینا اسی میں ہم سب کی خیر و عافیت ہے۔