قرآن مجید اور روزہ انسانی ہدایت کا سرچشمہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

الحاج حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی

مولائے رحیم وکریم نے انسانوں کی ہدایت کے لئے قرآن کریم کو نازل فرماکر انسانوں پر احسان عظیم فرمایا اور قرآن مجید میں فرمایا: ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَارَیْبَ فِیْہِ ھُدَلِّلَمُتَّقِیْن (القرآن ،سورۃ بقرہ آیت ۶۲)۔ترجمہ: (یہ) وہ عظیم کتاب ہے جس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔ اس میں ہدایت ہے ڈرنے والوں کے لئے۔ انسانوں کی ہدایت کے لئے اللہ نے دنیا میں نبوت و رسالت کا سلسلہ جاری فرمایا اور انسانوں کی رہنمائی کے لئے پیغمبر آتے رہے اور ان پر خدا کی طرف سے آسمانی کتابیں بھی نازل ہوئیں اور انبیائے کرام اپنی ذمہ داری بخوبی ادا کرتے رہے۔ سلسلہ نبوت ورسالت آخری رسول حضرت محمد ﷺ پر ختم ہوااور آپ پر خدا کی طرف سے جو کتاب ہدایت نازل ہوئی اسے قرآن کریم کے نام سے جانا جاتاہے۔آسمانی کتابیں جتنی نازل ہوئیں ان میں قرآن مجید ہی وہ کتاب ہے جس میں آج تک کسی قسم کی کوئی تحریف(حرف یا بیان کا بدلنا) نہیں ہوسکی ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ رب العزت نے فرمایاہے۔ اسی وجہ سے آنے والی صبح قیامت تک بھی اس میں کسی تحریف کا امکان نہیں۔ اس کتاب کے لاکھوں اعجازوں میں سے یہ بہت بڑا اعجاز ہے کہ اس کے مثل کوئی بھی کلام پیش کرنے سے انسان عاجز ہے۔ القرآن ،سورۃ الاعراف ، آیت ۵۲ میں اللہ فرماتاہے :اور بے شک ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے جسے ہم نے ایک بڑے علم سے مفصل کیا ہدایت و رحمت ایمان والوں کے لئے۔(کنز الایمان)
قرآن کریم کلامِ مؤثر ہے۔ یہ کلام نازل ہی اسی لئے ہوا ہے کہ سوتے ہوؤں کو جگائے، غافلین کو خبردار کردے، ظالموں اور سرکشوں کو ان کی ہلاکت اور ان کے برے انجام سے آگاہ کردے۔ جو لوگ بھٹکے ہوئے ہیں انہیں راہِ ہدایت عطا کرے۔ القرآن ، سورۃ یونس، آیت ۵۷میں اللہ فرماتاہے:اے لوگو!تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آئی اور دلوں کی صحت اور ہدایت اور رحمت ایمان والوں کے لئے (کنز الایمان) اسی مفہوم کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں مطالعہ فرمائیں(۱) سورۃ بنی اسرائیل آیت ۸۲(۲) سورۃ السجدہ، آیت ۱،۲) وغیرہ۔ انسانوں کی رہنمائی کے لے اس سے بڑھ کر اور کوئی کتاب نہیں جب اللہ رب العزت نے فرمادیا کہ یہ کتاب ہدایت ہے تو پھر آج مسلمان کیوں بھٹک رہے ہیں؟ہمیں غور وفکر کرنا ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر مسلمان قرآن کریم کی تلاوت کرے ، اس کا مطالعہ کرے اسی احساس و ذمہ داری کے ساتھ کہ یہ کتاب الٰہی انسانی زندگی کیلئے ایک کامل ہدایت نامہ ہے۔زندگی کی ضرورت سے تعلق رکھنے والے سارے ہی احکام ایمانیات، عبادات، معاملات ، معاشرت ،اخلاقیات وغیرہ وغیرہ قرآن مجید میں موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے قرآن مجید اعلان فرمارہا ہے :وَنَزَّ لْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَا ناً لِّکُلِّ شَیْ ءٍ وَّھُدًی وَّ رَحْمَۃً وَّ بُشْرٰی لِلْمُسْلِمِیْن(القرآن ،سورۃ النحل،آیت ۸۹) ترجمہ: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے ۔ او رہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کو۔(کنزالایمان)اس میں انسانی زندگی کے ہر گوشے کے لئے ہدایت حق کا سامان موجود ہے دنیا یا آخرت کو جو بھی مسئلہ ہو اس سلسلے میں سب سے پہلے اسی کتاب کی طرف رجوع کیا جانا چاہیئے اور کتاب الٰہی جو اصول و رہنمائی دے اس کی روشنی میں عمل کرنا چاہئے تبھی کامیابی و کامرانی ملے گی ۔قرآن مجید کا مطالعہ اس کی تلاوت کی اہمیت خود قرآن کریم بتاتا ہے کہ اللہ کے سچے اور مخلص بندوں کی یہ صفات ہے کہ وہ اللہ کا ذکر اور میری آیتوں (قرآن) کی تلاوت کیا کرتے ہیں۔ قرآن کریم گزشتہ امتوں کی بارے میں بھی فرمارہاہے کہ فسق و فجور میں ڈوبی ہوئی اور گمراہیوں کی ماری ہوئی قوم بنی اسرائیل میں صرف وہ لوگ حق پر قائم اور باقی رہے جو آیاتِ الٰہی کی تلاوت کیا کرتے تھے۔(القرآن، سورۃ آل عمران، آیت ۱۱۳)ترجمہ: سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں جو حق پر قائم ہیں اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں(کنز الایمان)کلام الٰہی کی تلاوت کرنے والے اس پر عمل کرنے والے ہی ہدایت پر قائم رہیں گے ورنہ اسے …..گمراہی کا سبب بن جائے گا۔ قرآن کریم کی ہدایت کی سچی طلب کے ساتھ پڑھنا چاہئے۔ نیت بھی سچی ہونی چاہئے کیونکہ اللہ کی اس کتاب کے علاوہ کامل حق کہیں اور ممکن ہی نہیں ۔ ہدایت حاصل کرنی ہے ، منزل پر پہنچنا ہے تو قرآن کو دلوں میں لے کر عملی طور پر ہدایت کی راہ پر چلنے کا مصمم ارادہ کرے۔ اللہ کریم ہے ہدایت سے سرفراز فرمائے گا۔قرآن کریم کی بے شمار خوبیا ں ہیں ۔ لکھنے والے لکھتے آرہے ہیں آگے بھی لکھتے رہیں گے پھر بھی حق ادا نہ ہوسکے گا۔بڑے بڑے مفسرین کرام نے لکھا، صحابہ، بزرگانِ دین نے لکھا حتی کہ غیر مسلم علم دانوں نے بھی لکھا ۔ چند کا مطالعہ فرمائیں۔آج جو قرآن مسلمانوں کے درمیان رائج ہے ، اس کی صحت میں کسی فرقہ کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ یہ قرآن کا ایسا وصف ہے جس کا معاندین تک اعتراف کرتے ہیں۔سر ولہم میور(Sir Vilhelm) لکھتے ہیں…………
’’محمد(ﷺ) کی وفات کے چوتھی صدی بعد ہی ایسے مناقشات اورفرقہ بندیاں ہوگئیں جس کے نتیجے میں (حضرت) عثمان
قتل کر دئے گئے ۔اور یہ اختلافات آج بھی باقی ہیں۔ مگر ان سب فرقوں کا قرآن ایک ہی ہے۔ ہر زمانہ میں یکساں طور پر
سب فرقوں کا ایک ہی قرآن پڑھنا ، اس بات کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ آج ہمارے سامنے وہی مصحف ہے جو اس خلیفہ
(عثمان) کے حکم سے تیار کیا گیا تھ۔ شاید پوری دنیا میں کوئی دوسری کتاب ایسی نہیں ہے جس کی عبارت بارہ صدیوں تک
اس طرح بغیر تبدیلی کے باقی ہو(لائف آف محمدمطبوعہ۱۹۱۲،دیباچہ)َ۔‘‘
لین پول نے اس حقیقت کا اعتراف ان لفظوں میں کیاہے…….
’’ قرآن کی بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کی اصلیت میں کوئی شبہ نہیں۔ہر حرف جو آج ہم پڑھتے ہیں ، اس پر اعتماد کر سکتے ہیں کہ تقریباً
تیرہ صدیوں سے غیر مبدل رہا ہے۔‘‘(سولوشن فرام دی قرآن)
قرآن کریم جس طرح ہدایت انسانی کا سر چشمہ ہے اسی طرح روزہ بھی انسانی ہدایت کے لئے ہی اللہ نے ایمان والوں کو حکم دیاکہ تم پر روزہ اس لئے فرض کیا گیاتاکہ تم متقی و پرہیز گار، نیک ،ہدایت یافتہ بن جاؤ۔ ایک حدیث میں روزہ شیطان کے وار سے بچنے کا ڈھال بتایا گیا ہے ۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہم قرآن و روزہ سے ہدایت قبول کریں ۔۔آمین ثم آمین
حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب و امام مسجد ھاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشید پور جھاڑ کھنڈ الہند