قابل رشک ہے وہ مومن

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ
حضرت ابو امامہ* رضی اللہ عنہ حدیث کے راوی ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کہ *نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے فرمایا:
*اغبط اولیائ عندی لمومن خفیف الحاد ذو حظ من الصلوۃ احسن عبادة ربه و اطاعته فی السر وکان غامضا فی الناس لا یشار الیہ بالاصابع وکان رزقه کفافا فصبر علی ذلک ثم نفد بیدہ فواک عجلت منیئتہ قلت بواکیہ قل تراثه* (احمد / ترمذی / ابن ماجہ)

کہ میرے دوستوں میں سب سے زیادہ قابل رشک میرے نزدیک وہ مومن ہے جو سبک سار ہو ،نماز میں اس کا حصہ ہو،اپنے رب کی عبادت حسن و خوبی کے ساتھ کرتا ہو اور اس کی اطاعت اخفاء کے ساتھ کرتا ہو اور لوگوں میں گمنامی کی حالت میں ہو ،اس کی طرف انگلیوں سے اشارے نہ کئے جاتے ہوں ،اس کی روزی بقدر کفاف یعنی ضرورت اور حاجت بھر کی ہو اور وہ اس پر صابر و قانع اور شاکر ہو ۔ پھر آپ نے اپنے ہاتھ کی چٹکی بجائ اور فرمایا : جلد آگئ اس کی موت ،اس پر رونے والیاں کم ہیں ترکہ(وراثت) بھی کم ہے ۔
علماء نے لکھا ہے کہ *آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم* کے اس ارشاد گرامی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ زندگی میں قابل فخر لائق ذکراور قابل لحاظ چیز یہ نہیں ہے کہ آدمی کے پاس مال و دولت زر زمین اور اسباب و وسائل کی فراوانی اور کثرت ہو دنیا کی ریل پیل ہو اعلی اور اونچے عہدے پر متمکن ہو کوٹھی بنگلہ اور کار ہو اور جس طرف سے وہ گزرے لوگوں کی نگاہیں اس کی طرف اٹھتی ہوں لوگ ان سے سلام کرنے میں فخر محسوس کرتے ہوں ۔ لوگ ان کی طرف اشارے کرکے کہتے ہوں کہ یہ فلان بن فلاں ہیں بلکہ جو چیز زندگی میں قدر و قیمت اور شرف و عزت کی حامل ہے وہ آدمی کا اپنے رب سے گہرا اور سچا رشتہ اور تعلق ہے ۔ اگر یہ درست اور ٹھیک ہے تو پھر اس کی زندگی قابل فخر و شرف اور لائق ذکر بلکہ قابل صد رشک ہے ۔ ایسا آدمی اگر سبک بار ہے تو وہ اپنے دین کے لئے زیادہ وقت نکال سکے گا اور اپنے وقت کو قوم و ملت کی خدمت کے لئے زیادہ دے سکے گا، وہ زیادہ سے زیادہ خدا کی بندگی و اطاعت اور اپنے رب کی عبادت میں اپنے کو لگا سکے گا ،موت اسے دنیا سے رخصت کرنے کے لئے آئے گی تو وہ گراں بار نہیں ہوکر بلکہ ہلکا پھلکا ہوکر اپنے رب کے پاس حاضر ہوسکے گا ۔ اس کے پیچھے جائداد اور ترکہ کا کوئ جھگڑا کھڑا ہوگا اور نہ اس کے یہاں رونے والی زیادہ عورتوں کا مسئلہ ہوگا ۔
*حضرت عبد اللہ بن عمر* رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک موقع پر میرا شانہ پکڑ کر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو گویا تم پردیسی ہو یا راہ چلتے مسافر (بخاری)

اس حدیث سے بھی یہی اشارہ اور پیغام ملتا ہے کہ مومن کو دنیا مین مسافر ہی کی طرح ہلکا پھلکا اور سادہ رہنا چاہیے اس کے لئے مناسب نہیں کہ دنیا کے مال و متاع سے اپنے کو بوجھل کر لے اور آخرت کو فراموش کردے ۔

اس حدیث کی روشنی میں ہم لوگ جب اپنی زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ قابل رشک مومن کی فہرست سے کافی دور ہیں ہمارا ہر کام اور اقدام شہرت و نمود کے لئے زیادہ اور اجر و ثواب کے لئے کم ہے اللہ تعالی ہم لوگوں کو انہی قابل رشک مومن بنا دے جن کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشک فرمایا ہے ۔ آمین
محمد قمرالزماں ندوی