عید الفطر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

عبد الخالق ندوی جودھپور
اسلام دین فطرت ہے اور اس میں فطرت انسانی کے تقاضوں کی آخری حد تک رعایت رکھی گئی ہے ، رمضان المبارک کا مہینہ روحانیت اور ملکوتیت میں ترقی کیلئے بظاہر بہت خشک مجاہدہ کا مہینہ معلوم ہوتا ہے ، دن کو روزہ اور رات کو تراویح ، اورتوفیق ملے تواس کے علاوہ بھی نوافل میں مشغولیت اور ذکر و تلاوت کی کثرت۔
اب جب یہ مہینہ ان اشغال میں اور اس مجاہدہ اور ریاضت میں ختم ہوگیا تو انسانیت کے دونوں پہلوں ( مادیت اورملکوتیت ) کے تقاضوں میں اعتدال اور توازن قاٸم رکھنے کے لئے ضروری ہوا کہ ان بندوں کیلئے نشاط اور انبساط کا بھی کوئی خاص موقع اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے چنانچہ رمضان کےختم پر شوال کی پہلی تاریخ کو یوم العید قرار دیاگیا ۔۔۔۔۔۔۔ یہ مسرت و شادمانی اور تشکروامتنان کا دن ہے،مسرت اس بات کی اور شکروسپاس اس امر کا کہ حق تعالی نے رمضان کی رحمتوں اور برکتوں سے بہرہ ور ہونے کی توفیق دی ،روزے رکھوائے،قرآن پڑھوایا اور سنوایا ، اور محض اپنے فضل و کرم سے اس مبارک مہینہ کے دنوں اور راتوں میں عبادت و انابت کا کوئی حصہ عطا فرمایا۔
پھر اس عید کی مسرت و شادمانی میں بھی خدا پرستی کے عناصر کو ایسا سمویا گیا کہ قالب اگرچہ جشن و نشاط اور سروروانبساط کا ہے لیکن روح اس میں بھی عبدیت و انابت کی ہے۔
حکم ہے کہ آج سب سے پہلے ، نہانےدھونے اور کپڑا بدلنے سے بھی پہلے کرنے کا کام یہ ہیکہ جولوگ کچھ وسعت رکھتے ہوں وہ اپنی طرف سے اور اپنے بچوں کی طرف سے مقررہ مقدار کے مطابق اپنے حاجت مند قرابت داروں اور پڑوسیوں کو یا پھر جو بھی اہل حاجت غرباء ومساکین ان کے علم میں ہوں ان کو صدقہ فطر ادا کریں ۔
صدقہ فطر کے علاوہ عید کے دن کا دوسرا خاص عمل ” نمازعید “ ہے ، اس کی حیثیت بھی یہ ہیکہ اس مبارک اور مقدس مہینہ کے حقوق و فراٸض کی اداٸیگی اور اس کی برکات کی قدردانی میں جو کوتاہیاں ہم سے ہوٸیں اجتماعی طور سے ان کی استدعاء معافی کا،اور جو بے حساب رحمتیں اور برکتیں نازل ہوئیں ان کی شکر گزاری کا ،اور جن اعمال صالحہ کی توفیق ملی انکی اجر طلبی کا یہ ایک خاص اجتماعی موقع ہےجو خود رب کریم نے اپنے بندوں کیلۓ مہیا فرمایا ہے۔
صدقہ فطر اور نماز عیدکے علاوہ آج عیدگاہ کے راستہ میں آتے جاتے تکبیر تہلیل اور تحمید کا جامع کلمہ”الله اکبر الله اکبر لا اله الا الله و الله اکبر الله اکبر ولله الحمد “ ورد زبان رکھنے کا حکم ہے۔
سبحان اللہ یہ ہے اسلامی عید اور اللہ و رسول کا بتلایا ہوا یوم جشن و نشاط کہ نہا دھوکر اچھے کپڑے پھننے کا بھی حکم ہے نفیس سے نفیس جو خوشبو میسر ہو اس کو لگانے کا بھی حکم ہے ، کھانا پینا بھی مرغوب و محبوب ہے اور تفریح و خوش طبعی کیلئے جاٸز قسم کے کھیل کود کی بھی ہمت افزائی کی گئی ہے ، کہ جشن و نشاط کے دنوں اور سرور و انبساط کی ساعتوں میں یہ چیزیں انسانی فطرت کی مانگ ہیں ، تفریحی اور جشنی عناصر کے ساتھ ساتھ صدقہ ہے ، نماز ہے ، دعا و استغفار ہے ، تکبیر و تہلیل ہے چنانچہ اس بڑھ کر اور کیا تحفہ ہوسکتا ہے ہمارے لئے جو ہمارے پروردگار نے عید کی شکل میں عنایت فرمایا ” ان لکل قوم عیدا وهذا عیدنا۔
(الله اکبر الله اکبر لا اله الا الله و الله اکبر الله اکبر و لله الحمد)

عید الفطر” ایک تبصرہ

  1. Tauhid Alam Faizi نے کہا:

    ّعید مبارک

اپنا تبصرہ بھیجیں