عمل و دعا کی برکت و تاثیر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ڈاکٹر عابد علی خاں صاحب کراچی یونیورسٹی کے شعبئہ فارسی کے پروفیسر تھے،ان کا اصل تعلق مراد آباد سے تھا ۔ ڈاکٹر صاحب بڑی خوبیوں اور کمالات کے مالک تھے بچپن کے زمانے ہی سے بزرگی کے آثار ان کی پیشانی سے ظاہر ہوتے تھے ،بزرگوں کی اولاد ہیں اور خود بزرگ ہیں، اور بزرگوں کی صحبت سے مستفیض ہوئے ۔

انہوں نے اپنا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ ۰۰ میں ۱۹۳۶ء چشمہ لگاتا تھا ،میں نے ہر فرض نماز کے بعد گیارہ بار * یا نور* پھر تین بار ۰۰ *فکشفنا عنک غطاءک فبصرک الیوم حدید* ۔۔ ( پھر ہم نے تیرا پردہ ہٹا دیا چنانچہ آج تیری بینائ تیز ہے ) پڑھ کر دونوں ہاتھوں کی پہلی انگلیوں پر پھیرنا شروع کر دیا تو کچھ عرصہ بعد میرا چشمہ چھوٹ گیا ۰۰ ۔
ڈاکٹر صاحب کی عمر اس وقت 1996ء میں ۸۰ سال کے قریب ہے اور چشمہ کے بغیر اخبار و دیگر کتب پڑھ لیتے ہیں ۔
( غالبا ۲۰۱۳ء میں ڈاکٹر عابد علی خاں صاحب کا انتقال ہو گیا ہے اور اب وہ رحمة الله علیہ کے زمرے اور شمار میں داخل ہوچکے ہیں)

یہ حقیقت ہے کہ آدمی اگر صدق دل سے کوئ عمل کرے تو اس کو اس کا ضرور بالضرور فائدہ ہوگا ،اسی طرح کے اور بھی واقعات ہیں کہ پابندی کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت کرنے مسواک کے استعمال اور مخصوص آیات کا درد رکھنے سے آنکھ کی بینائ قائم اور باقی رہتی ہے اور چشمہ کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔ ( انسانی عظمت کے تابندہ نقوش صفحہ ۱۹۳ بحوالہ/ کچھ یادیں کچھ باتیں )
اوپر کا یہ واقعہ مثبت اور دینی و شرعی طرز عمل ہے بندے کو خدا کی ذات پر بھر پور یقین و ایمان اور اعتماد و بھروسہ ہونا چاہیے اور یہ امید رکھنی چاہیے کہ مسلسل یقین کے جذبہ کے ساتھ اور صدق دل کے دعا کرنے سے اللہ تعالی بندے کی حاجت کو ضرور سنتا ہے اور اس کی دعا کو قبول بھی کرتا ہے ۔
یہ تصویر کا ایک رخ ہے تصویر کا ایک دوسرا لیکن منفی رخ دیکھئے کہ سر سید احمد خان دعاؤں کی قبولیت کے قائل نہ تھے ،اور اس لئے قبولیت کے دعا مانگنے کو فعل عبث( بیکار کام) قرار دیتے تھے ،اس مسئلے پر ۔۔ *تہذیب الاخلاق* ۔۔ میں ان کے مضامین اور نواب محسن الملک کے سوال و جواب چھپ رہے تھے،اسی زمانہ میں علی گڑھ کے ایک ہندو بزرگ جو اچھے پڑھے لکھے اور صوفیانہ خیال کے آدمی تھے ،اعظم گڑھ میں پوسٹ ماسٹر تھے ،انہوں نے سرسید کے مضمون ۔ الدعا و الاستجابہ ۔

کی تردید مین ایک دلنشیں رسالہ شائع کیا،جس پر نواب وقار الملک نے نہایت عمدہ ریویو (تبصرہ) لکھا ۔ اور ریوریو کے سلسلے میں اس پر افسوس کیا کہ سر سید جو نہ صرف مسلمان اور مسلمانوں کے لیڈر ہیں، بلکہ خانوادئہ رسالت کے چشم و چراغ ہیں، وہ تو دعا کو جو بندہ اور خدا کے درمیان میں ربط کا واحد ذریعہ ہے، غیر ضروری اور فضول بتائیں ،اور ایک ہندو جس کو کافر کہا جاتا ہے ،اس کی حمایت کو کھڑا ہو ،اس رسالہ کی قوت استدلال اور انداز بیان سے بعض لوگوں کو شبہ ہوا کہ اس کے مصنف در اصل مولانا شبلی ہیں ،اور اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ اعظم گڑھ میں لکھا گیا ،جو مولانا کا وطن تھا ،اور وہ پوسٹ ماسٹر صاحب مولانا کے واقف کار اور شناسا بھی تھے ۔
(حیات شبلی صفحہ ۲۸۹)
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*
محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نورالاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی