علماء کرام ٹی وی مباحث کے لیے اپنے آپ کو تیار کریں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

تحریر:توصیف القاسمیؔ،
پیراگپوری، سہارن پور

مباحثے اور مناظرے ایک تو مذہبی اور مسلکی ہوتے ہیں، اس قسم کے مناظرے انسان سے ایمان و یقین کی دولت چھین کر شکوک و شبہات میں ڈال دیتے ہیں۔ دوسرے احترام باہمی کی تمام حدود و قیود میں رہتے ہوئے عصری مسائل پر بحث ومباحثہ ہوتے ہیں جو جمہوریت میں بہت ضروری ہیں۔ ایک دوسرے کے نظریات رسم و رواج اور ان کی معقولیت و نامعقولیت سمجھنے کا موقع فراہم ہوتاہے، عملی اور نظری اختلاف کے باوجود اتحاد کا مظاہرہ ہوتاہے وغیرہ۔آخرالذکر قسم کے ٹی وی مباحث اِسی وجہ سے ضروری ہیں۔

ہمارے محترم علماء ہند سیکولرزم کے حامی ہیں، اس لیے ہم علماء کرام مباحثے و مکالمے اور سوال وجواب سے بھاگ نہیں سکتے، اگر مباحثے سے فرار اختیار کرتے ہیں تو یہ واضح طورپر اپنے موقف کی صحت سے انکار ہوگا۔

سال 2017ء کے نصف ثانی میں بی جے پی نے مسئلہ طلاق اُٹھایا تو پورے ملک میں طلاق پرمباحثہ عام ہوا۔ ان TVمباحث میں ہمارے معزز علماء کرام اسلام اور مسلمانوںکی ذلّت کا سبب بنے، آخر کار دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مفتی ابوالقاسم صاحب نے T.V. Debate میں حصّہ نہ لینے کا مشورہ دیا۔

زیرنظر مضمون اس امید کے ساتھ لکھاجارہاہے کہ ہمارے مدارس کے ذمہ داران اور مسلم تنظیموں کے قائدین اپنے اپنے حلقۂ اثر میں اسلام و مسلمانوں کی نمائندگی کرنے والے مضبوط اور حاضر جواب افراد تیار کریں گے۔ یاد رہے مقابلے سے فرار قابل عزت زندگی سے فرارہے، اس لیے مدمقابل سے ہر میدان میں لوہا لینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، مگر پیشگی تیاری کے ساتھ۔

اسلام اور مسلمانوں کی ذلت کا سبب یہ ہواکہ ہمارے محترم علماء اپنے روحانی حجروں سے نکل کر بغیر کسی تیاری کے ان نمائندوں،ترجمانوں اورٹی وی اینکروں سے بھڑ پڑے جن کے فکری تانے بانے میں خدا اور رسول تو ہے ہی نہیں مزید یہ کہ ان کے فکری سفر کا آغاز مذاہب کے تمسخر سے شروع ہوتاہے تو یہ صورت سنار و لوہار کی زور آزمائی کی ہوگئی۔ جس میں لوہار قسم کے حضرات جیت گئے۔

یہ بے رحم لوہارہر چیز کو وقت کے عقلی معیار پر پرکھنا چاہتے ہیں، زمانے کی رفتار کے ساتھ ساتھ ان مفکرین اور قانون دانوں کے معیارات بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں استدلال طریقۂ استدلال نتائج وغیرہ مکمل ڈھانچہ ہی زیروزبر بلکہ منہدم ہوتا رہتا ہے۔

ہمارے محترم علماء کرعام کے لیے لازم ہے کہ وہ اسلامیات و عصریات دونوں کا گہرا مطالعہ کریں، اِن ملحد و مفکرین کے ساتھ جب بھی بحث کریں تو علماء کرام کو مندرجہ ذیل اُمور کا خیال رکھنا چاہیے:

1۔علماء کسی ایک مسلک کی نمائندگی ہرگز نہ کریں بلکہ اسلام کا نمائندہ بنیں۔ T.V.مباحث کھلے اسٹیج ہوتےہیں، وہاں مسلکی دھماچوکڑی کرنے سے دینِ متین دینِ رجیم بن جاتاہے اور ناظرین دین اسلام کے سلسلے میں منفی رائے قائم کرلیتے ہیں اور اہلِ اسلام کے ایمان ویقین کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

2۔ موضوع سے متعلق تقابلی مطالعہ کرنا ازحد ضروری ہے۔

3۔ دیے گئے عنوان Topic سے متعلق نیشنل اور انٹرنیشنل اعداد و شمار پر گہری گرفت ہونی چاہیے، متعلقہ موضوع کے ماہرین کی آراء و اقوال ازبرہونے چاہیے۔

4۔ موضوع کے بارے میں عدلیہ کے فیصلے کو غور سے پڑھنا چاہیے۔ فاضل ججوں کے تبصرے Remarks ذہن نشین رکھنا چاہیے۔

5۔ مباحثے میں شریک مدمقابل کے دلائل اور اخذ کردہ نتائج پر زور دار اور طاقت چوٹ کریں۔

6۔ اپنے موقف کے موافق و مخالف مواد ضرور پڑھیں، سب سے بڑی چیز حاضرجوابی اور الزامی جواب دینا ہے، یہ دونوں چیزیں فریق مخالف کو ذہنی انتشار میں مبتلا کردیتی ہیں۔ دلائل و شواہد پر اس کی گرفت کمزور کردیتی ہیں۔

7۔ اپنے موقف کے خلاف سوچیں، خود اپنے خلاف دلائل قائم کرکے ان کا جواب تلاش کریں اور ان کو نوٹ کریں۔

8۔ اصل بحث میں حصّہ لینے سے پہلے اپنے حلقۂ یاراں میں مشقی بحثیں کرنا، انتہائی مفید ہوتا ہے۔

9۔ مباحثے و مناظرے کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ مدمقابل کو اشتعال دلاکر اس کو مخبوط الحواس (Sensless)کردیاجائے اور اس کی تمام علمی بوقلمونیوں کو بھلادیا جائے، پھر وہ ازخود بے دست وپاہوجائے گا۔لیکن یاد رکھیے اس ہتھیار کا استعمال دوسروں پر تو کیجیے خود اس کا شکار نہ ہوجائیں، اشتعال انگیزی کا یہ زہرمدمقابل کو تو بھربھرپلائیے لیکن خودچکھ بھی نہ لیں۔

ہمارے محترم اسلامی نمائندوں میں بعض عادتیں انتہائی معیوب ہوتی ہیں، اس قسم کی عادتوں کو فوراًترک کردینا چاہیے، مثلاً: بعض علماء جذبات سے مغلوب ہوکر ’’جلالی بزرگ ‘‘ بن جاتے ہیں اور ’’کفرو جہنم ‘‘ کی دھمکیاں دینے لگتے ہیںجس سے یہ مباحثہ مشاتمہ بن جاتاہے۔ یاد رکھیے آپ کا یہ رویہ آپ کے علمی ہتھیار کو کند کردے گا اور آپ ’’لطیفۂ محفل ‘‘بن جائیں گے، اس لیے اپنے آپ پر کنٹرول کریں، فریق مخالف کتنے ہی بھدّے الفاظ کا استعمال اور طنز کرے آپ صبر کا دامن ہرگزنہ چھوڑیں، آپ کے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رہنی چاہیے، مباحثے میں غصّہ کا نہ آنا ہی کامیابی ہے۔

مباحثے کے بعض مسلم مساہمین شخضیت کے وزن پر اپنا دعویٰ ثابت کرنا چاہتے ہیں، یہ سراسر غیرعلمی طریقہ ہے، دعویٰ صرف اور صرف دلائل و ثبوت سے، عقلی مواد سے، حکمت سے پُرنکات سے مضبوط ہوتاہے۔ ہمارے علماء کرام میں یہاں تک  حوصلہ ہونا چاہیے کہ وہ مسلّم شخصیات پر بھی علمی تنقید کرسکیں کیوںکہ کسی بھی علمی میدان میںشخصیات سے مرعوب ہونا، ذہن و قلوب کومنجمد کردیتا ہے۔

ہماری محترم اسلامی شخصیات ہر سوال کا جواب دینے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سوال ہی میں الجھادیاجائے( یعنی سوال پر ہی سوال قائم کیاجائے)جواب کی نوبت ہی نہ آنے دی جائے۔ واضح اور معقول سوال کا صحیح جواب دیں۔

مسلکی اور گروہی اسلام کی نمائندگی سے احتراز ہی لازم ہے، ہم کو معلوم ہونا چاہیے کہ اسلام پر جس قدر بھی اعتراض ہیں، وہ درحقیقت اس اسلام پر اعتراض ہے جو مسلکی حدود و قیود میں جکڑا ہوا ہے، ’’ان الذین عنداللہ الاسلام ‘‘پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اگر کوئی اعتراض ہے بھی تو اس کے ہزاروں دندان شکن جواب ہیں۔

آخری بات

ہمارے ملک میں ایک درجن سے زائد بڑے بڑے اسلامی مدارس ہیں اور تقریباً آدھا درجن مسلم انتظامیہ والی یونیورسٹیاں اورکالج ہیں، اول الذکر اداروں میں موجود شعبۂ مناظرہ اور آخرالذکر اداروں میں شعبۂ قانون Law Department کے اشتراک سے انتہائی شاندار اور راسخ فی العلم اسلام اور مسلمانوں کے نمائندے تیار ہوسکتے ہیں۔ انحصار باہمی کے اصول پر دنیا قائم ہے، اسی اصول پر اسلام کے نمائندے بھی تیار ہونے چاہئیں،قرآن کا ہمیں حکم ہے کہ دشمنوں کو پُشتِ فرار نہ دِکھائو ’’فلاتولّوہم الادبار ‘‘ ہم کو قرآن تیاری کے ساتھ پلٹ وار کرنے کا حکم دیتا ہے، ’’الّامتحرفاًللقتال اومتحیزاً الی فئۃ ‘‘پر غور کیجیے اور آئندہ کی حکمت عملی بنائیے۔ اسلامی تاریخ کو انتظارہے کہ ہم میں سے کون افراد قرآن کی اِس آیت کے مصداق بن کر اسلام کی شوکت و سربلندی کا ذریعہ بنیںگے اوریوم آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو ہوںگے۔ وممن خلقنا امۃ یہدون بالحق و بہ یعدلون۔