علماء اور عام امت مسلمہ سے شاہ ولی اللہؒ کا خطاب

انسان کو انسانیت، صدق و صفا اور مختلف خداوں کے بجائے خدائے واحد کی راہ پر گامزن کرنے اور ان کے اندر عشق و معرفت کی جوت جگانے میں سلف صالحین کی صحبتیں اور ان کی تربیت کے طور و طریقے ان کے مواعظ و ارشادات، خطاب و ملفوظات نہایت موثر ثابت ہوتے ہیں جنھیں سننے پڑھنے اور ان پر عمل کرنے سے انسان کی زندگی میں حیرت انگیز تبدیلی رونما ہوتی ہے .
ہندوستان میں بھی اسلام کی تبلیغ اور علوم دینیہ کی ترویج و اشاعت علماء ربانی،مبلغین،مصلحین اور شیوخ طریقت کے ذریعہ ہوئ اور دہلی کی تخت شاہی سے بنگال کی کھاڑی تک،صوبئہ سرحد اور ملتان سے کیرالہ تک لا تعداد اور ان گنت انسانوں پر صاحب نسبت بزرگوں کی نظر معرفت اور اقوال و عرفاں اور مواعظ و ملفوظات کا ایسا اثر ہوا کہ بجلی کی تیزی سے لوگ آغوش اسلام میں آتے چلے گئے ۔

آج جہاں ایک طرف قرآن و حدیث کے مطالعے سے بے توجھی ہے قرآن و حدیث میں تدبر اور تفکر کرنے والوں کی کمی ہے، وہیں دوسری طرف بزرگوں کے ملفوظات و مواعظ اور ان کی مجلسی گفتگووں کو پڑھنے اور ان سے استفادہ کرنے کا رجحان بھی ختم ہوتا جا رہا ہے ۔ جدید انٹرنیٹ کی سہولت اور حضرت مفتی گلوگل نے مطالعہ کا رجحان ہی ختم کردیا ہے بعض لوگ تو پورا سال گزر جاتا ہے اخبارات کے علاوہ قرآن مجید کی تلاوت اور دینی و شرعی کتابوں کے پڑھنے کا ان کو موقع ہی میسر نہیں ہوتا وہ اپنی ساری توانائ اور جدو جہد کمرشیل تعلیم اور اکنامکس تعلیم میں صرف کردیتے ہیں ۔ قرآن مجید کی کثرت سے تلاوت اور احادیث نبویہ کو پڑھنا اور ان دونوں پر عمل کرنا یہ تو شریعت میں مطلوب ہے ہی ان کے علاوہ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بزرگوں، اور اسلاف کی تحریروں اور ان کے مواعظ و ارشادات اور ملفوظات و خطابات کا بھی اہتمام سے مطالعہ کریں اور خاص طور پر سیرت و سوانح اور شخصیات و رجال اور ان کے کارناموں کا مطالعہ اپنی زندگی کا ایک حصہ بنائیں، اس سے عمل کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے اور فکر آخرت پیدا ہوتی ہے ۔

آج ایک کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا دوران مطالعہ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح کا ایک انتہائی پر مغز و پر اثر خطاب علماء اور عام امت مسلمہ کے نام پڑھا، دل پر اثر ہوا ایک کچوکے سا لگا، اپنی حالت زار ،لا پرواہی اور بے ہنگم و بے ترتیب اور عمل سے خالی زندگی پر شرمندگی اور ندامت ہوئ، سوچا آپ حضرات تک بھی شاہ صاحب رح کے اس مختصر سے خطاب کو پہنچا دوں، اس جذبہ سے کہ خود بھی عمل کروں اور دوسروں کے عمل کے لئے ذریعہ بن جاوں ۔
شاہ صاحب نے اپنے زمانے کے علماء اور عام لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا تھا اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ آج کے علماء اور عوام سے خطاب کر رہے ہیں ۔ آئیے اس خطاب کو توجہ سے اور عمل کے جذبہ سے پڑھتے ہیں ۔
اے وہ لوگو ! جنہوں نے اپنا نام ۔۔علماء ۔۔ رکھ چھوڑا ہے، تم یونانیوں کے علوم و فنون میں ڈوبے ہوئے ہو،اور صرف و نحو معانی میں غرق ہو اور سمجھتے ہو کہ یہی علم ہے ،یاد رکھو ! علم یا تو قرآن کی کسی آیت محکم کا نام ہے یا سنت ثابتہ قائمہ کا ۔

جن علوم کی حیثیت صرف ذرائع اور آلات کی ہے( مثلا صرف و نحو وغیرہ) تو ان کی حیثیت آلہ اور ذریعہ ہی رہنے دو نہ کہ خود ان ہی کو مستقل علم بنا بیٹھو علم کا پڑھنا تو اس لئے واجب ہے کہ اس کو سیکھ کر مسلمانوں کی بستی میں اسلامی شعائر کو رواج دو ۔ لیکن تم نے دینی شعار اور اس کے احکام تو پھیلائے نہیں اور لوگوں کو زائد از ضرورت باتوں کا مشورہ دے رہے ہو ۔
آدم کے بچو ! دیکھو ،تمہارے اخلاق سو چکے ہیں ،تم پر بے جا حرص و آرزو کا ہوا سوار ہو گیا ہے، تم پر شیطان نے قابو پا لیا ہے، عورتیں مردوں کے سر چڑھ گئ ہیں اور مرد عورتوں کے حق برباد کر رہے ہیں، حرام کو تم نے اپنے لئے خوش گوار بنا لیا ہے اور حلال تمہارے لئے بدمزہ ہو چکا ہے ۔ دیکھو ! اپنے مصارف وضع قطع میں تکلف سے کام نہ لیا کرو،اسی قدر خرچ کرو جس کی تم میں سکت ہو،غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھو ،تم میں کچھ لوگ جو دنیا کماتے ہیں اور اپنے دھندوں میں اتنے پھنس گئے ہیں کہ نماز کا انہیں وقت ہی نہیں ملتا، تم میں بعض لوگ ہیں جنہوں نے تقریبات کی دعوتوں میں حد سے زیادہ تکلف برتنا شروع کردیا ہے ،تم نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کر لئے ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ گئ ہے ۔ دیکھو! رہنے سہنے اور ہر معاملے میں اعتدال کا جادہ اختیار کرو ۔ اللہ کی یاد کے لئے جو فرصت دستیاب ہو اسے غنیمت شمار کرو ۔ کم از کم تین وقتوں صبح، شام،اور پچھلی رات کے ذکر کا خاص طور سے خیال رکھو ،حق تعالی کی یاد ،اس کی تسبیح و تہلیل اور قرآن کی تلاوت کے ذریعہ سے کرو ،حدیث، قرآن اور ذکر کے حلقوں میں حاضر ہوا کرو ۔۔۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو ان قیمتی اور بیش بہا خطاب اور نصیحت پر بھر پور عمل کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین

محمد قمرالزماں ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں