طبی پیشہ میں اشتہاریت اور تشہیر پسندی کا رجحان

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حکیم فخرعالم
ریجنل ریسر چ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ۔علی گڑھ
تجارت کی دنیا میں اشتہاریت نے ایسا رواج پا لیا ہے کہ خود اشتہاریت ایک شعبۂ تجارت بن گئی ہے اور اس کی لا تعداد کمپنیاں وجود میں آگئی ہیں، جو اشتہار اور تشہیر سے جڑے اُمور کے سلسلے میں خدمات فراہم کر رہی ہیں ۔اِس وقت یہ ایڈورٹائزنگ کمپنیاں خود تجارت کا ایک مستقل شعبہ ہیں ۔
موجودہ زمانہ میں تجارت کے فروغ کا بڑا انحصار اشتہاریت پر ہے۔کمپنیاں نہایت دیدہ زیب اور پُر کشش انداز میں اپنے پروڈکٹ کی تشہیر کر کے صارفین کو راغب کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے لیے زرِ کثیر صرف کرتی ہیں ۔فاصلاتی تجارت کا تو سارا انحصار ہی تشہیریت پر ہے۔عہد حاضر میں اس قسم کی بہت سی کمپنیاں ہیں جو اشتہاروں کے ذریعہ فاصلاتی طرز پر تجارت کررہی ہیں ۔یہ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ اپنے پروڈکٹ کی تشہیر کر کے ہوم ڈیلیوری کی صورت میں خدمات مہیا کرتی ہیں ،اِن سے گھر بیٹھے مطلوبہ سامان حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
اب بڑی بڑی کمپنیوں کے علاوہ عام تجارت کے فروغ میں بھی اشتہاریت نے جگہ بنا لی ہے۔گویااشتہاریت کے ذریعہ تجارت کی توسیع عہدِ حاضر کا ایک معروف اسلوب بن گیا ہے۔فی زمانہ یہ چلن اتنا عام ہوگیا ہے کہ اس کے اثرات میڈیکل پروفیشن میں بھی سرایت کرنے لگے ہیں اور اس پیشے کے حاملین بھی اپنے مطبوں اور ہسپتالوں کی اشتہاروں کے ذریعہ تشہیر کرنے لگے ہیں۔یہ کام الیکٹرنک اور پرنٹ میڈیا سے لے کر پمفلٹ ،پوسٹر،بینرز، ہورڈنگس،ہر ذریعہ سے ہورہا ہے۔

اشتہاریت اور تشہیر پسندی ایک تاجرانہ انداز ہے،اس سے پیشہ ورانہ رویّے کا اظہار ہوتا ہے ۔لہٰذا طبّی پیشے کی شرافت اُن تمام رویوں کی حوصلہ شکنی کرتی ہے، جن میں کسی قسم کا پیشہ ورانہ رجحان شامل ہواور ہر اُس جذبہ کی نفی کرتی ہے ،جو کسی بھی طرح تاجرانہ ذہنیت کا غماز ہو۔سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن نے بڑی سختی سے اشتہاریت کی مذمت کی ہے اور اس قسم کی تمام حرکتوں کو غیر اخلاقی اور فنّی وقار کے منافی قرار دیاہے۔سی سی آئی ایم کی اس بندش کا مقصد در اصل پیشہ ورانہ رویوں پر قدغن لگانا ہے۔مگر اُس کی تمام کوششیں بے اثر ثابت ہورہی ہیں ،اب دوسرے تجارت پیشوں کی طرح طبّی برادری کے لوگوں میں بھی اشتہاروں کے ذریعہ تشہیر کا رواج ہے،بلکہ کچھ ایسا ہے جو دیکھنے تک میں قبیح اور غیر شریفانہ معلوم ہوتا ہے۔ملک کے کسی بھی کونے میں چلے جایئے ،عام شاہراہوں اور گزر گاہوں کے کنارے واقع عمارتوں کے در و دیوار پر حکیموں اور ویدوں کے اشتہار ضرور نظر آجائیں گے۔حتیٰ کہ گندے نالوں کے کنارے تک ان کے اشتہار سے خالی نہیں ہیں۔نہ جانے یہ وہاں تک کیسے کیسے پہنچ کر اپنے اشتہار لکھ ڈالتے ہیں ۔یہ اشتہار خصوصاً جنسی امراض سے متعلق ہوتے ہیں ۔جن جنسی بیماریوں کا تذکرہ مریض کسی کے سامنے کرنے میں شرماتا ہے اور مجبوراً کسی طبیب یا وید کے پاس جاتا بھی ہے تو بہت گھما پھیرا کر ،نظریں جھکائے ہوئے سرگوشی کے انداز میں بدقّت تمام اس طرح کرتا ہے ،جیسے اسے مجرمانہ احساس دامن گیر ہواور وہ شرم کے مارے گڑا جارہاہوتا ہے۔مگر اِن امراض کے ناموں کو یہ طبیب اور وید حضرات عمارتوں اور کھنڈرات کی دیواروں پر اتنے جلی حروف میں لکھتے ہیں کہ ممکن ہی نہیں کہ وہاں سے گزرنے والوں کی نگاہ سے یہ چھپ سکیں ۔اس قسم کے دیواری اشتہار ہر جگہ اور ہر وقت دیکھے جا سکتے ہیں۔صبح و شام انہیں دیکھتے دیکھتے ،جوانوں کو تو چھوڑیے ! جن کی عمر ہی اس مرض میں مبتلاہونے کی ہے، اُن کم عمر لڑکے لڑکیوں کو بھی جنسی امراض کے یہ سارے نام عمرِ خاص کو پہنچنے سے پہلے ہی یاد ہوجاتے ہیں ۔
جنسی امراض کے یہ اشتہار بعض اوقات ایسے دہشت ناک ہوتے ہیں کہ انہیں پڑھتے ہی نوجوان خوف و دہشت کا شکار ہوجاتا ہے ۔کچھ اشتہار اس قسم کے ہوتے ہیں ، جسے پڑھتے ہی نوجوان خود کو جنسی بیمار سمجھنے لگتا ہے اور دزدیدہ نگاہوں سے اشتہار کے نیچے لکھے ایڈریس یا فون نمبر کو ذہن نشین کرتا دیکھائی دیتا ہے۔
ویدوں اور حکیموں کے اشتہاروں نے بہت سے الفاظ کے معانی تک بدل ڈالے ہیں ۔’’نا امیدی حرام ہے‘‘ اور’’ مایوسی کفر ہے‘‘ جیسے الفاظ اب اپنے اصل مفہوم سے ہٹ کر امراض جنسیہ کے قابلِ حل اور لائقِ علاج ہونے کا استعارہ اور کنایہ بن گئے ہیں ۔اگر کبھی غلطی سے کسی شناسا کی تسلی کے لیے یہ الفاظ زبان پر آجاتے ہیں تو خِفّت کا احساس ہونے لگتا ہے،جیسے اُسے نہ جانے کیا کہہ دیا ہو۔

’’فائدہ نہ ہونے پر پیسے واپس‘‘،’’شرطیہ علاج‘‘اور ’’گارنٹی کے ساتھ علاج ‘‘۔ایسے بے شمار دعووں کے ساتھ طبیبوں اور ویدوں کے ہزاروں اشتہار راہ چلتے دیکھے جا سکتے ہیں ۔اب تو ان لوگوں نے اشتہاروں اور پوسٹروں کو چپکانے کی نت نئی جگہیں ڈھونڈ لی ہیں ۔ٹرینوں کے ٹوائلٹ اور عومی استنجا خانوں کے دروازوں اور دیواروں کی کھوج ،ان کی حیرت انگیز دریافت ہے۔
اشتہاریت اور تشہیر پر تمام اخلاقی پابندیوں کے علیٰ الرغم ،اگر اس کا مقصد مطب اور ہسپتال کا عام تعارف ہوتو اخلاقی طور پر نا پسندیدہ ہونے کے باوجود اسے مباح قرار دے سکتے ہیں ،مگر یہ اشتہار سرا سر فریب دہی کے لیے ہوتے ہیں ،جن کا مقصد کسی طرح مریض کو پھانس کر ،اس کی جیب پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے۔اب تک جن بیماریوں کا شافی علاج نا پید ہے ،اُن کے شرطیہ علاج کا پوسٹر بھی جگہ جگہ نظر آتا ہے۔مثلاً جسم میں کینسر خواہ کہیں بھی ہو اور کسی درجے میں ہو،اسی طرح انسولیں چھڑاکر شوگر کو جڑ سے ختم کردینے کے دعووں کے پوسٹر گلی کوچوں کے موڑ تک پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔اس قسم کے اشتہاروں کا منشا صرف یہ ہوتا ہے مایوس مریضوں کو دامِ فریب میں لاکر انہیں لوٹا جائے۔حالانکہ یہ مریض بھی سمجھتا ہے کہ یہ سب محض جھوٹے دعوے ہیں ، صرف تسلی کے لیے ،وہ انہیں ایک بار آزمانے چلا آتا ہے۔دراصل مرض کے لا علاج ہونے کے باوجو مریض اور اس کے تیماردار ،جب تک زندگی سانسوں کی ڈور سے بندھی ہے،کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور تنکے کے سہارے کو بھی غنیمت جانتے ہیں ۔
اخلاقیات کے بیان میں طبیبوں کی وضع قطع ،ان کے لباس اور پہناوے وغیرہ کا تذکرہ خصوصیت سے ملتا ہے۔چونکہ طب شرفاء کا فن ہے اس لیے طبیب سے توقع کی جاتی ہے کہ اس کے پہننے اور اوڑھنے کے طور طریقوں میں بھی شریفانہ جھلک ہو ۔ فنی وقار کی متانت اور سنجیدگی کے برعکس بعض حاملینِ فن عجیب و غریب انداز میں اپنا پروپیگنڈہ اور تشہیر کرتے دیکھے جاتے ہیں ۔اکثر ٹی وی کے صبح کے پروگرام میں ایک حکیم صاحب رنگ برنگے لباس میں عجیب و غریب حلیہ بنائے اونٹ پر سوار مطب میں داخل ہوتے ہیں ۔اُن کا انداز اتنا مضحکہ خیز ہوتا ہے کہ وہ طبیب کم، سر کس کے جوکرزیادہ معلوم ہوتے ہیں۔
اس وقت طبی معاشرے کی تشہیریت نے تمام اخلاقی قدروں کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔اشتہار بازی کا ہر وہ طریقہ جو تجارت کے دوسرے شعبوں میں ہے ،اُس کا چلن یہاں بھی ہے۔بلکہ یہاں اشتہاریت کی بعض ایسی شکلیں بھی ہیں،جو عام معاشرہ میں بھی قابلِ قبول نہیں ہیں ،جیسا کہ مذکورہ مثالوں سے اندازہ ہوتا ۔فاصلاتی تجارت، جس کا ذکر سطورِ بالا میں کیا گیا ،اب تجارت کی یہ خاص شکل طب کے حاملین میں بھی رواج پژیر ہے ،روز ٹی وی اور اخباروں میں ان کی شعبدہ بازی کے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں ۔عسیر العلاج بیماریوں کا چٹکیوں میں علاج، دوائیں استعمال کرتے ہی بوڑھوں میں جوانوں جیسی چستی پھرتی کا احساس ۔الغرض دواؤں کی جادوئی تاثیر کے ایسے ایسے مظاہرے کیے جاتے ہیں کہ میڈیکل سائنس بھی شرمسار ہوجائے۔

طبی اشتہاروں کے ذریعہ جس طرح اخلاقی ضابطے پامال ہورہے ہیں ،وہ محض ضابطہ شکنی نہیں ہے ،بلکہ سنگین اخلاقی جرم کا ارتکاب ہے ،اس کے انسداد کے لیے سخت تعزیراتی قوانین کی ضرورت ہے۔،اس لیے کہ ان حرکتوں سے نہ صرف فنّی وقار مجروح ہورہا ہے ،بلکہ اشتہاروں کے ذریعہ مریضوں کے ساتھ کھلا فریب اوردھوکہ بھی ہورہا ہے۔یہ اخلاقی زوال کی بے حد افسوس ناک صورت ہے کہ جو پیشہ ہر قدم پر اخلاقی درس دیتا ہو ،اس کے حاملین ایسے بے راہ رو ہوجائیں کہ مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ جذبہ رکھنے کے بجائے ،اُن سے رہزنوں جیسا سلوک کرنے لگیں۔
حکیم فخرعالم
ریجنل ریسر چ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن ۔علی گڑھ