صدقۃ الفطر روزے کا فدیہ بھی اور مسکینوں کی غذا بھی

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

نورالسلام ندوی پٹنہ
صدقۃ الفطر ہر مسلمان، آزاد، مالک نصاب پر واجب ہے۔رمضان کے مہینہ میں روزوں میں جو فضول اور بیکار باتیں ہو جاتی ہیں صدقہ الفطر ان کو ختم کر دیتا ہے۔روزہ داروں کو بالکل پاک و صاف کر دیتا ہے اور ہمدردی و غمخواری کا جذبہ پیدا کر تا ہے۔ چنانچہ رمضان کامہینہ ختم ہونے سے چند روزقبل یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ”قد افلح من تزکیٰ وذکرسم ربہ فصلیٰ“بلا شبہ کامیا ب ہو گیاوہ شخص جس نے اپنے آپ کو باطن کی کدورتوں سے پاک کر لیا، اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھی۔بعض مفسرین نے اس آیت کریمہ کامصداق صدقہ الفطر بتلایا ہے۔ حضرت عبد اللہ ابن عمراپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس آیت کریمہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد صدقہ الفطر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ، حضرت عمر ابن عبد العزیز رضی اللہ عنہ اور دوسرے بہت سے حضرات نے اس آیت کا مصداق صدقہ الفطر بتلایا ہے۔
آپ صلی اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عید سے ایک دو دن قبل صدقہ الفطر اور عید الفطر کے احکام و مسائل بیان فر ماتے تھے۔حضرت عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روزوں کو فضول،فحش اور لایعنی باتوں کے اثرات سے پاک و صاف کرنے کے لئے مسکینوں اور محتاجوں کے کھانے کے بندوبست کے لئے صدقہ واجب قرار دیا۔ غور کیجئے اس حدیث میں صدقہ الفطر کی دو حکمتوں اور دو فائدوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ مسلمان کے خوشی و مسرت اور جشن و عید کے اس دن میں صدقہ الفطر کے ذریعہ محتاجوں اور مسکینوں کی شکم سیری اور آسودگی کا انتظام ہو جائیگا۔ دوسر ے یہ کہ زبان کی بے احتیاطیوں اور بے باکیوں سے روزے پر جو برے اثرات پڑے ہوں گے صدقہ الفطر ان کا کفارہ اور فدیہ ہو جائیگا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندہ کا روزہ آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے جب تک کہ صدقہ الفطر ادا نہ کرے۔
صدقہ الفطر ہر صاحب نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے۔حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں میں سے ہر غلام، آزاد، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے تمام مسلمانوں پر صدقہ الفطر لازم ہے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا کہ نماز عید کے لئے جانے سے پہلے صدقہ الفطر ادا کر دیا جائے۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک صاع جو یا ایک صاع کھجور صدقہ الفطر ہر چھوٹے، بڑے، آزاداور غلام سب پر فرض قرار دیا تھا، انہیں سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ الفطر نماز عید کے لئے جانے سے پہلے نکالنے کا حکم دیا تھا۔
مذکورہ بالا احادیث میں ہر فرد کی طرف سے ایک صا ع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ الفطر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔چونکہ یہی دو چیزیں اس زمانے میں مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح میں عام طور سے بطور غذا استعمال ہوتی تھیں۔ اس لئے حدیث میں انہیں دو کا ذکر کیا گیا۔بعض حضرات نے اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس زمانے میں ایک چھوٹے گھرانے کی غذا کے لئے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو کافی ہوتے تھے۔ اس لئے ہر دولت مند،صاحب نصاب کو ہر چھوٹے بڑے فرد کی طرف سے عید الفطر کے دن اتنا صدقہ ادا کرنا واجب ہے جس سے ایک معمولی گھرانے کے ایک دن کا خرچ چل سکے ایک صاع موجودہ دور کے وزن کے حساب سے 1کیلو 633 گرام ہوتا ہے۔لہذا ہر صاحب نصاب کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی طرف سے اور اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے1کیلو 633 گرام جو، گیہوں، آنٹا یا اس کی قیمت اپنے اپنے علاقہ کے مارکیٹ کی قیمت کے اعتبار سے ادا کرے تاکہ غریب، مسکین، مجبور، مفلس اور حاجت مند بھی اپنی حاجتیں، ضرورتیں پوری کر سکیں اور عید کی خوشی میں عام مسلمان کے ساتھ وہ بھی برابر کے شریک ہو سکیں۔صدقہ الفطر جہاں روزے کی کمیوں اور کو تاہیوں کا کفارہ ہے وہیں اس کے ذریعہ محتاجوں اور ضرورت مندوں کے ساتھ ہمدردی، غمخواری، بھائی چارگی اور مساوات کا درس بھی دیا گیا ہے کہ بندہ مومن اپنے بھائیوں کو بھوکا چھوڑ کر کبھی بھی تنہا خوشی و مسرت کا لطف نہیں اُٹھا سکتا،یہ اسلام کی جامعیت بھی ہے اور آفاقیت بھی۔