صدقئہ فطر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*جو آدمی* زکوة لینے کا مستحق ہے ،اسے فطرہ دینا بھی جائز ہے ۔ *صدقئہ فطر* کے مستحق پاس پڑوس، گاوں اور شہر میں رہنے والے فقراء اور مساکین ہیں، تاکہ وہ بھی *عید* کی خوشیوں میں شریک ہوسکیں ،بعض لوگ غریبوں کو دینے کے بجائے مدرسہ میں دیتے ہیں، جہاں عید کے بعد بلکہ اس سے پہلے (غریب) کو رخصت رہتی ہے، عید کے بعد جب وہ مدرسہ آتے ہیں تو ان کو پہنچتا ہے، یہاں بھی عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، اگر چہ ذمہ دار کو دے دینے سے ادائیگی ہوجاتی ہے، لیکن یہ طریقہ اختیار کرنا زیادہ بہتر نہیں ہے ۔ بعض لوگ خیرات فنڈ کو صدقئہ فطر دے دیتے ہیں، جو غرباء پر خرچ کرنے کے علاوہ خیراتی کاموں میں بھی اس رقم کو خرچ کرتے ہیں ۔ اسی طرح بعض مدارس میں مدات کی رعایت نہیں ہوتی اور یہ رقم عمارت میں خرچ ہو جاتی ہے ،ان تمام صورتوں میں صدقئہ فطر کی ادائیگی مشکوک ہوکر رہ جاتی ہے ،اس لئے احتیاط اور مقصد کی رعایت کرنا ضروری ہے ۔
ایک فقیر کو ایک صدقئہ فطر دینا مستحب اور بہتر ہے، البتہ کم دینا بھی جائز ہے اور زیادہ دینے کی بھی گنجائش ہے ۔ ( فتاوی رحیمیہ ۸/۲۴۷)
*غیر مسلم* محتاج اور فقیر کو صدقئہ فطر دینا کیا جائز ہے؟ صحیح قول کے مطابق غیر مسلم (ہندو،عیسائ،یہودی وغیرہ) کو *صدقئہ فطر* دینا جائز نہیں ہے، بلکہ *صدقئہ فطر* ادا ہی نہیں ہوگا،احناف میں *امام ابو یوسف رح* کا قول عدم جواز کا نقل کیا گیا ہے اور *حاوی قدسی* کے حوالے سے اسی پر فتوی نقل کیا گیا ہے، اور *امام طحاوی رح* نے *امام ابو یوسف رح* کے قول کو اختیار کیا ہے ۔ *علامہ عینی رح* نے بھی *امام ابو یوسف رح* کے قول کو صحیح قرار دیا ہے ۔ غرض اصل مسئلہ تو یہی ہے کہ *صدقئہ فطر* غیر مسلم کو دینا جائز نہیں ہے ۔ لیکن کیا حالات کے پیش نظر اور تلیف قلب یعنی غیر مسلم بھائیوں کی دلجوئ کے لئے دینا جائز ہے یا نہیں؟ تو اس سلسلے میں علماء کرام اور فقہاء عظام کی رائیں الگ الگ ہیں، جمہور علماء کرام کی رائے یہ ہے کہ تالیف قلب کا مصرف ساقط نہیں ہوا ہے بلکہ اب بھی باقی ہے اس لئے اس طور پر یہ رقم غیر مسلم کو بھی وقت ضرورت دے سکتے ہیں ۔ پس اگر موجودہ دور میں تالیف قلب کی واقعی ضرورت پڑے (بلکہ واقعی ضرورت ہے ) تو علماء اور اہل افتاء کے مشورے اور رائے سے غیر مسلم کو بھی مصلحتا صدقئہ فطر دینا درست ہوگا ۔
*صدقئہ فطر* کی مقدار کی تفصیلات خود *آپ صلی اللہ علیہ وسلم* نے بیان فرمادی دی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اسی متعینہ مقدار کو صدقئہ فطر کے طور پر نکالتے تھے ۔
*صدقئہ فطر* کی مقدار کی تفصیلات یہ ہیں ۔ اگر گیہوں دیا جائے تو نصف صاع اور اس کے علاوہ دوسری چیز مثلا جو، کھجور اور کشمش میں ایک صاع دینا واجب ہے ،آج کے رائج اوزان کے لحاظ سے ایک صاع کا وزن تین کلو ایک سو انچاس گرام،دوسو ملی گرام ( ۲۸۰_۱۴۹-۳) ہے ۔ اور اس کا آدھا ایک کلو پانچ سو چوہتر گرام،چھ سو چالیس ملی گرام۔۔۔۔۔( ۶۴۰، ۱۵۷۴) نصف صاع کا وزن ہے ۔ *صدقئہ فطر* میں گاوں، قصبہ یا جو قریبی بازار ہو،وہاں کی قیمت سے *صدقئہ فطر* ادا کرنا چاہئے، شہر والے شہر کی منڈی کے اعتبار سے *صدقئہ فطر* ادا کریں گے ۔ اگر آدمی گہیوں دے رہا ہے تو اسے نصف صاع یعنی ایک کلو چھ سو گرام احتیاطا نکالنا واجب ہے ۔ بعض علماء نے پونے دو کلو لکھے ہیں وہ بھی احتیاط پر مبنی ہے ۔ اگر قیمت دے دے تو بھی کوئ حرج نہیں ہے، لیکن عام بازاری قیمت ہونی چاہئے، کنٹرول کی قیمت سے ادا کرنا درست نہیں، اس لئے کہ اس قیمت سے فقیر بازار سے نصف صاع نہیں خرید سکے گا ۔ ( مستفاد فتاوی رحیمیہ: ۵/ ۱۷۱)
*آج* ہم مسلمان صرف گہیوں ہی سے نصف صاع کی قیمت صدقئہ فطر میں نکالتے ہیں کیونکہ یہ سستا پڑتا ہے اور اس کی قیمت کم ہوتی ہے جبکہ چاہئے یہ تھا کہ *صدقئہ فطر* کے طور پر جن اجناس کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تذکرہ کیا ہے اور آپ جس طرح کجھور اور کشمش سے صدقئہ فطر نکالتے تھے ہم کو بھی ان اجناس کی قیمت کے اعتبار سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے خاص طور پر جو زیادہ متمول اور مالدار ہیں ان کو تو ضرور اس کا خیال رکھنا چاہیے کیوں کہ یہ انفع للفقراء ہوگا ۔ گہیوں کے سلسلہ میں نصف صاع اور ایک صاع دونوں طرح کی روایات کتب حدیث میں موجود ہے اس لئے کبھی کبھی ایک صاع گیہوں کی قیمت بھی ادا کرنا زیادہ بہتر ہوگا تاکہ اس حدیث پر بھی عمل ہوجائے اور فقراء کا بھی فائدہ زیادہ ہو جائے ۔
*آپ صلی اللہ علیہ وسلم* اور *صحابہ کرام رضی اللہ عنھم* زیادہ تر کھجور اور کشمش سے صدقئہ فطر ادا کرتے تھے کیونکہ حجاز میں گہیوں کی پیداوار نہیں ہوتی تھی حجاز میں گیہوں شام اور یمن سے اسپورٹ کیا جاتا تھا ۔ اس لئے جن غذائی اشیاء کو *صدقئہ فطر* کا معیار بنایا گیا تھا ان میں گیہوں سب سے زیادہ قیمتی چیز تھی اس لئے دوسری چیز ایک صاع مقدار میں واجب قرار دی گئیں اور گہیوں نصف صاع ۔ لیکن اب معاملہ اس کے برعکس ہے ۔
اس لئے خاکسار کی رائے یہ ہے کہ جن لوگوں پر *صدقئہ فطر* واجب ہے ان میں سے جو زیادہ متمول ہیں یا بڑے تاجر ہیں ان کو کجھور اور کشمش کی قیمت سے *صدقئہ فطر* ادا کرنا چاہئے اور جو ان سے کم درجے کے ہیں ان کو بھی نصف صاع گیہوں کے بجائے ایک صاع گہیوں کی قیمت صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے تاکہ تمام روایات پر عمل ہو جائے ۔ یہی رائے استاد محترم جناب مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کی بھی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں