صدقئہ فطر

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

*صدقئہ فطر = احکام و مسائل*
(۲ )
*محمد قمرالزماں ندوی*
*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ*

*یکم شوال المکرم* یعنی عید الفطر کی صبح صادق کے وقت جو مسلمان زندہ ہو اور ضرورت سے زائد ایسے نصاب کا مالک ہو جس پر زکوة واجب ہو جاتی ہے، یا اس کے گھر میں روز مرہ کے استعمال کی چیزوں سے زائد ایسا سامان ہو جو ساڑھے باون تو چاندی برابر (۳۵/ ۶۱۲ گرام ) یا ساڑھے سات تو سونا برابر ( ۴۷۹/ ۸۷ گرام) کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو پھر اس پر *صدقئہ فطر* واجب ہے، خواہ اس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے ہوں یا نہ رکھے ہوں ۔ غیر روزہ دار پر بھی صدقئہ فطر واجب ہے کیونکہ وجوب صدقئہ فطر کے لئے محض مسلمان ہونا شرط ہے، نہ کہ روزہ رکھنا بھی،اس لئے کہ روزہ مستقل فریضہ ہے اور صدقئہ فطر الگ مستقل واجب ہے ۔ پس روزہ نہ رکھنے کا گناہ ہوگا اور صدقئہ فطر نکالنے سے اس کے ذمہ سے ایک وجوب ساقط ہو گا اور اس کا ثواب اس کو ملے گا ۔ البتہ روزہ کی قبولیت اور اس کی کمی کی تلافی کا مقصد حاصل نہ ہونا ظاہر ہے لیکن اس کے علاوہ صدقئہ فطر کے ثواب اور فوائد ان شاءاللہ حاصل ہوں گے ۔
*صدقة الفطر* اپنی طرف سے اور نابالغ بچوں کی طرف سے ادا کرنا واجب ہے، بالغ لڑکے ،لڑکیاں، بیوی ،اس کے زیر پرورش چھوٹے بھائ بہن اور والدین کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب نہیں ہے لیکن ہندوستانی سماج اور معاشرہ میں بیوی اور شوہر کا مال ملا جلا ہوتا ہے اور بالغ لڑکے جب تک ماں باپ کی کفالت میں ہوتے ہیں اور تعلیم وغیرہ میں مشغول ہوتے ہیں، تو ان کی بھی ساری ذمہ داریاں گھر کا ذمہ دار اور مکھیہ خود ہی انجام دیتا ہے ،یہی حال ان چھوٹے بھائی، بہن اور والدین کا ہے جن کی کفالت گھر کا کوئ مرد انجام دیتا ہو، اس لئے بہتر ہے کہ ان سب کی طرف سے بھی صدقة الفطر ادا کیا جائے ۔ جس غلام کو اپنی خدمت کے لئے رکھا جائے نہ کہ بیچنے کے ارادہ سے ہو اس کا صدقئہ فطر نکالنا بھی مالک پر ضروری ہے ۔ آج کے زمانہ میں گھر میں خادم اور خادمہ رکھنے کا رواج عام ہے یہ اگر چہ غلام نہیں ہوتے ۔ خادم ہوتے ہیں لیکن یہ بھی انسان کو وہی سہولت اور آرام پہنچاتے ہیں جو اس زمانہ میں غلام پہنچایا کرتے تھے اس لئے بہتر ہے کہ ان کی طرف سے بھی صدقئہ فطر ادا کرنا چاہئے اگر واجب نہ بھی ہو تو باعث اجر و ثواب ضرور ہوگا ۔
صدقئہ فطر کے مصارف بھی تقریبا وہی ہیں جو زکوة کے مصارف ہیں، جن لوگوں کو زکوة نہیں دی جاسکتی ،ان کو صدقة الفطر بھی نہیں دیا جاسکتا ،البتہ اس اعتبار سے ایک فرق ہے کہ زکوۃ غیر مسلم کو نہیں دی جاسکتی ،صدقئہ فطر ان کو بھی دیا جاسکتا ہے ۔ ( بدائع الصنائع :۲/۴۹ / )
ملک کے موجودہ حالات میں جہاں ہندو مسلم منافرت میں دن بدن شدت اور اضافہ ہوتا جارہا ہے ،دوریاں بڑھتی جارہی ہیں، فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو الگ تھلگ کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے اور یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ مسلمان صرف اپنے لئے سوچتا اور جیتا مرتا ہے دوسروں کے لئے اس کے مال میں کوئ جگہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جو سراس غلط تصور ہے، تو اس تاثر کو ختم کرنے کے لئے اور وقت اور حالات کے پیش نظر اس منافرت کو کم کرنے کے لئے اگر کہیں صدقة الفطر کے مد سے غیر مسلم حضرات کی بھی تالیف قلب کے لئے نصرت کر دی جائے تو یہ بہت ہی حکمت اور دانشمندی کی بات ہوگی،اور ایک بہتر اور مناسب قدم ہوگا ۔
صدقة الفطر ادا کرنے کا بہترین اور مسنون وقت عید کے دن عید کو جانے سے پہلے ہے،لیکن اگر پہلے بھی یعنی رمضان میں بھی ادا کردے تو ادائیگی ہو جائے گی بلکہ بعض علماء نے حسن انتظام کے لئے اس کو افضل کہا ہے ۔
بسا اوقات باہر رہنے والے لوگوں کی طرف سے ان کے عزیز و اقارب اور رشتہ دار صدقئہ فطر ادا کرتے ہیں، اس میں اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ باضابطہ صریح اجازت لی جائے ۔ اگر گپیوں ادا کر رہا ہے تو عمدہ گپیوں ۱ کلو چھہ سو گرام ادا کرے اور اگر قیمت ادا کر رہا ہے تو جہاں آدمی رہ رہا ہے وہاں کی قیمت کے لحاظ سے مقدار گپیوں کی قیمت ادا کرے اور اگر ہندوستان میں قیمت زیادہ ہو تو یہاں کی قیمت ادا کرے اس میں فقراء کا فائدہ زیادہ ہے۔
*نوٹ باقی کل کے پیغام میں*

اپنا تبصرہ بھیجیں