شریعت کے معاملے میں ہمارا مزاج یہ ہونا چاہئے

حضرت توکل شاہ رح ایک بزرگ تھے ،کتا پالے ہوئے تھے،حدیث شریف میں کتا پالنے کی ممانعت آئ ہے (اگر چہ فقہاء نے شریعت کی روشنی میں چند مخصوص حالات میں اس کی اجازت دی ہے کہ ان حالتوں اور صورتوں میں کتا پالا اور رکھا جاسکتا ہے مثلا شکار کے لئے کلب معلم ، گھر مکان کی نگرانی،رکھوالی اور حفاظت کے لئے، اسی طرح جاسوسی کے لئے اور کھیت کھلیان کی حفاظت اور نگرانی وغیرہ کے لئے) کہ جس گھر میں کتا ہوتا ہے اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے ،ان بزرگ کے یہاں کوئ عالم تشریف لائے اور ان کے( یعنی حضرت توکل شاہ کے) کتا پالنے پر نکیر اور اعتراض کیا اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے،ان کی زبان سے یہ جملہ اور حدیث کا یہ حوالہ سنتتے ہی شاہ توکل صاحب رح نے کتے سے کہا کہ تم یہاں سے چلے جاو، مولوی صاحب کہہ رہے ہیں کہ نبی صاحب ( صلی اللہ علیہ والہ وسلم) نے کتا پالنے کو منع فرمایا ہے ،یہ سننا تھا کہ کتا اٹھا اور کہیں چل دیا، پھر اس کے بعد کسی نے اس کتے کو دیکھا ہی نہیں، معلوم نہیں کسی اور شہر چلا گیا یا کہیں ڈوب کر مر گیا۔

اس واقعہ سے بتلانا یہ مقصود ہے کہ جو حضرات متبع سنت ہوتے ہیں،وہ شریعت کا ہر موقع پر احترام کرتے ہیں اور شریعت کو ہی ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں کبھی اپنی انا اور سوچ اور نطریہ کو شریعت پر مقدم ہونے نہیں دیتے۔
شاہ توکل صاحب رح کے لئے یہاں یہ گنجائش تھی کہ ان عالم اور مولانا صاحب سے فرما دیتے کہ میں نے ضرورة کتے کو پال رکھا ہے ،اس لئے کہ حدیث شریف میں جہاں ممانعت ائ ہے وہیں حراست چوکیداری یا شکار کے طور پر اس کو پالنے اور رکھنے کی گنجائش اور استثناء بھی آیا ہے۔

،لیکن ان بزرگ نے شریعت مطہرہ کا حکم اور فرمان سن کر ان عالم اور مولوی صاحب سے کوئ بحث و تکرار اور مبازعت (لڑائی) بھی گوارہ نہ کی اور فورا کتے کو گھر سے باہر نکال دیا ۔
آج ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی کمی کوتاہی اور زیادتی یہ ہے کہ لوگ شریعت کے مقابلے میں طبیعت کو مقدم کئے ہوئے ہیں، شریعت تابع ہے اور رسم و رواج اپنی سوچ اپنا فیصلہ اپنا نظریہ،اپنا حکم و آڈر اور اپنا اصول و ضابطہ متبوع اور مقدم ہے گویا شریعت پیچھے ہے اور طبعیت آگے ہے ۔ انہیں یہ گوارہ ہے کہ شریعت پر حرف آجائے اسلام بدنام ہوجائے غیروں کو اسلام پر ہنسنے کا موقع مل جائے لیکن ہماری انا ،نخوت، گھمنڈ ،غرور اور پندار پر حرف اور شکن نہ آنے پائے، زوجین (میاں و بیوی) بیوی کے ہزاروں ایسے مسائل اور مقدمات ہیں جہاں شریعت کا حل ،فیصلہ، تصفیہ اور طریقہ و ضابطہ موجود ہے اور جس کو اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے میں دونوں فریق کے لئے سہولت اور آسانی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی انا ، جھوٹی شہرت و نخوت اور بیجا خاندانی شان اور فخر کے غرور اور نشہ میں شریعت کے فیصلہ اور تصفیہ کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور اپنے مقدمات اور معاملات و تنازعات کو عصری عدالتوں میں پیش کرکے شریعت کی توھین پر آمادہ نظر آرہے ہیں، چپلیں اور جوتے گھس گئے ہیں لیکن آج تک فیصلہ نہیں ہو پایا ہے ۔ اپنی گاڑھی اور قیمتی سرمایہ وکیلوں کو دے کر ضائع اور برباد کر رہے ہیں ۔اور اپنی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں بعض تو کنگال ہوگئے ہیں مکان اور اپنی قیمتی جائداد ،روڈ کنارے کی زمینیں بھی فروخت کر چکے ہیں حویلی بیچ کر کرایہ کے ایک چھوٹے سے مکان میں رہنے پر مجبور ہوگئے ہیں ۔ تب بھی بلند و بانگ دعوی ہے کہ میری بیٹی میرے گھر کی چوکھٹ پر مرجائے گی لیکن سسرال جانے نہیں دوں گا اور کسی طرح میں چھکنے کے لئے تیار نہیں ہوں گا ۔

خاکسار کو آئے دن اس طرح کے کیسیز اور معاملات کو سلجھانے کے لئے فریقین کے درمیان جانا پڑتا ہے وہاں مشاہدہ ہوتا ہے کہ کس طرح مسلمان خود شرعیت اسلامیہ پر عمل سے کوسوں دور ہیں اور اسلام اور شریعت کو بازچئہ اطفال بنا کر اس کی بدنامی اور رسوائ کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں اور بن رہے ہیں ۔
عوام کو تو جانے دیجئے وہ تو کالانعام ہیں (گویا چوپایہ کی طرح ہیں) خواص کا بھی ایک بڑا طبقہ جو دن رات شریعت کی ، اسلامی عدالت اور دار القضا کی دہائ دیتے ہیں اور وہاں سے رجوع کا مشورہ دیتے ہیں خود ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو اپنے مقدمات خواہ وہ زمین و زر سے متعلق ہو یا گھریلو تنازعات سے متعلق مقدمہ ہو یا مدرسہ اور ادارہ پر حق ملکیت کی لڑائی ہو ان کے مقدمات بھی ضلع عدالت اور ہائ کورٹ میں ہیں ۔ گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شریعت کے احکام اور فیصلے پر تمہیں عمل کرنا ہے میرے مسائل اور معاملات کو میرے اوپر رہنے دو میں جہاں اور جس طرح چاہوں گا عمل کرلوں گا ۔ اگر خواص کی سوچ یہ ہوجائے اور راہبر و رہنما ہی غلط سمت بھٹک جائے تو اس امت کا خدا ہی حافظ ہے ۔

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اپنا تبصرہ بھیجیں