شب برات کی حقیقت اور حیثیت دوسری قسط

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

دوسری قسط
محمد قمرالزماں ندوی
یوں تو تمام ہی رات اور دن مہینے اور سال اپنے اپنے طور پر عند اللہ محترم و مبارک ہیں ۔ لیکن *اللہ تعالی* نے اپنی خاص مصلحت اور اپنی حکمت بالغہ سے کچھ مہینوں، دنوں اور راتوں میں بڑی فضیلت و سعادت خیر و برکت اور دو چند ثواب و بدلہ رکھا ہے ،ان ہی مہینوں میں شعبان کا عظمت والا مہینہ اور بالخصوص اس کی پندرہ تاریخ کی رات اور دن بھی بہت ہی مبارک اور بابرکت ہیں ۔
اس رات کو عربی میں لیلة البراءة اور اردو میں شب براءت کہا جاتا ہے ۔ تفسیر کشاف میں ہے :
یقینا یہ رات برات و نجات کی رات ہے کیوں کہ یہی وہ مبارک رات ہے جس میں خدائے وحدہ لا شریک کی طرف سے مومن بندوں کے لئے پروانئہ نجات لکھا جاتا ہے ۔ ( تفسیر کشاف ۳/۵۰۰ بحوالہ شب براءت حقیقت ،فضیلت اور عمل خیر از خالد فیصل ندوی )

شعبان کی پندرہویں رات کے متعلق یہ بھی آیا ہے کہ اس میں موت و حیات اور رزق کے فیصلے کئے جاتے ہیں چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ تعالی تمام فیصلے (موت وحیات اور رزق وغیرہ کے) شعبان کی پندرہویں رات میں طے کرتے ہیں اور ان فیصلوں کو متعلقہ فرشتوں کے حوالے شب قدر میں کرتے ہیں ۔ (تفسیر بغوی ۱۴۹/۴بحوالہ شب براءت حقیقت، فضیلت اور عمل خیر )
جو لوگ اس رات کی اہمیت کا انکار کرتے ہیں اور جب تک علامہ ناصر الدین البانی اس روایت اور حدیث کو صحیح قرار نہیں دے دیتے تب تک ان کو اطمنان نہیں ہوتا ۔ وہ تقلید کا سرے سے انکار کرتے ہیں اور مقلدین حضرات سے زیادہ امام ابن تیمیہ رح ابن قیم رح اور البانی رح کی تقلید کرتے ہیں ان کی خدمت میں اس رات کی فضیلت کے حوالے سے حضرت البانی رح کا یہ ارشاد گرامی نقل کرتے دیتے ہیں تاکہ انہیں اطمینان ہوجائے ۔
*امام البانی رح* فرماتے ہیں :
کہ پندرہ شعبان سے متعلق حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی ایک جماعت سے مختلف طرق سے احادیث مروی ہیں ۔۔۔۔۔۔
۰۰بعض روایتیں بعض کو قوت پہچاتی ہیں ۰۰
۰۰ جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ پندرہ شعبان کی رات سے متعلق کوئ صحیح حدیث موجود نہیں ہے ۔ ان پر اعتماد نہیں کرنا چاہیے ۔اگر کسی نے یہ بات کہی ہے تو وہ جلد بازی کا نتیجہ ہے ،اور اس نے اس طرح سے احادیث کے طریقوں کی جستجو اور تحقیق نہیں کی ہے جس طرح کی تحقیق آپ کے سامنے ہے ۔ یہ ساری باتیں سلسلة الاحادیث الصحیحة ۴/۳۴۲میں دیکھی جاسکتی ہیں ۔
*علامہ انور شاہ کشمیری رح* نے لکھا ہے کہ بیشک یہ رات شب براءت ہے اور اس رات کی فضیلت کے سلسلہ میں روایات صحیح ہیں ( العرف الشذی / ۱۵۶ بحوالہ شب براءت حقیقت، فضیلت اور عمل خیر )
مولانا مفتی شفیع صاحب رح نے معارف القرآن جلد ۷/صفحہ ۷۵۸ میں لکھا ہے :
کہ۰۰ شب براءت کی فضیلت کی روایات اگر چہ باعتبار سند کے ضعف سے کوئ خالی نہیں ہے لیکن تعدد طرق اور تعدد روایات سے ان کو ایک طرح کی قوت حاصل ہوجاتی ہے اس لئے بہت سے مشائخ نے ان کو قبول کیا ہے کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف روایات پر عمل کر لینے کی گنجائش ہے۰۰ ۔

لیکن یہاں یہ یاد رہے کہ اس رات میں صرف نفلی عبادت تسبیحات و تلاوت استغفار اور کبھی کبھی (بلکل ہر سال ضروری اور فرض سمجھ کر نہیں ) اس رات کے آخری حصے میں انفرادی طور پر جماعت اور گروہ اور جتھہ بناکر نہیں مردوں کے لئے قبرستان جاکر دعائے مغفرت کی جائے ۔
پندرہویں شعبان کا خاص طور پر روزہ رکھنا مستحب اور نفل نہیں ہے اگر کسی کو روزہ رکھنا ہے تو وہ ایام بیض کے روزے رکھے یعنی ۱۳/۱۴/اور ۱۵ کے روزے رکھے ۔ جس روایت سے سے اس دن کے روزے کو نفل اور مستحب ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ حدیث محدثین کے نزدیک ناقابل اعتبار ہے ۔
مولانا منظور صاحب نعمانی رح لکھتے ہیں کہ
لیکن محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ حدیث سند کے لحاظ سے نہایت ضعیف قسم کی ہے اس کے ایک راوی ابو بکر بن عبد اللہ کے متعلق ائمہ جرح و تعدیل نے یہاں تک کہا ہے کہ وہ حدیثیں وضع کیا کرتا تھا ( معارف الحدیث ۴/ ۳۸۹)
الغرض احادیث سے ماہ شعبان کے جو خصوصی اعمال ثابت ہیں بس وہی قابل عمل ہیں اس کے علاوہ ہم جن بہت سی باتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور ان کو شریعت کا حصہ سمجھتے ہیں ان کی کوئ حقیقت نہیں ہے ۔ بندئہ مومن کا کام یہ ہے کہ خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے احکام کو بس سمھجے اور باقی کو ہوس ۔

لہذا علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ جہاں وہ شب براءت کی اہمیت اور اس رات کی فضیلت بتائیں اس سے کہیں زیادہ اس کے خرافات و منکرات اور بدعات و رسم و رواج پر نکیر کریں اور اس پر قدغن لگائیں ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک نفلی چیز کے پیچھے بہت سے منکرات جنم لے لیں اور یقینا جنم لے چکے ہیں اس لئے اس پہلو پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے ۔