شادی بیاہ کی رسمیں بنام فضول خرچی کا اکھاڑہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد عباس دھالیوال
شادی جو کہ یقیناً سماج کا ایک ایسا پاک بندهن ہے جو کہ معاشرے میں پاکیزہ اور صرف و شفاف ماحول کی بنیاد رکهتا ہے. جبکہ ایک حدیث میں نکاح کو قلع سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی شادی کے بعد آدمی ایک طرح سے بہت سی برائیوں سے محفوظ ہو جاتا ہے. اس لیے کہا گیا ہے کہ شادی کو بہت آسان بنا نا چاہیے تاکہ سماج کو زنا و ناجائز جنسی براییئوں سے پاک رکھا جاسکے.
جب شادی کم خرچ میں ہو پائے گی تو غریب سے غریب صاحب اولاد اپنے جوان بچوں کی شادی بہ آسانی خوشی خوشی کرنے کے اہل ہوگا. ویسے بهی شادی جتنی سادہ ہوگی اس میں اتنی ہی زیادہ برکات ہونگی.
لیکن آج اگر ہم اپنے ارد گرد ہونے والی شادیوں کا جائزہ لیں تو شادی بیاہ کے موقع پر بہت سی فضول رسومات ہمارے معاشرے میں پولیوشن کی طرح پهیلتی ہوئی نظر آ رہی ہیں اور ان سے روزانہ زندگی جینے والے عام لوگ بهی بے حد متاثر ہو رہے ہیں یقیناً یہ ایسی رسومات ہیں جن میں وقت اور پیسہ تو فضول ضائع ہو ہی رہا ہے اور ساتھ ہی خونی رشتوں میں دراریں پڑ رہی ہیں اگر سچ کہیں تو خالص رشتوں میں بهی تصنع و بناوٹی پن کا پولیوشن پهیل رہا ہے۔
شادی بیاہ کے موقع پر متوسط طبقہ کے لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی فضول رسومات کو ادا کرنے کے دوران مالی پریشانی کا شکار ہو تے ہیں اور ساتھ ہی انہیں بہت سی دیگر مشکلات کا بهی سامنا کرنا پڑتا ہے یا یوں کہ لیں کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان فضول قسم کی رسومات کو نبهانا لوگ اپنی ناک کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور کئی بار مشاہدہ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ لوگ اپنی جهوٹی ناک کو بچانے کیلئے اپنی گردن تک کٹوا نے کو مجبور ہو جاتے ہیں.
ہر چهوٹی بڑی رسم اداکرنے کے موقع پر جس طرح سے کچھ لوگ اپنا رعب و دبدبہ قائم کرنے کے لیے بے تحاشا خرچ کرتے ہیں. اس سے یقیناً انً لوگوں کی عقل کادیوالیہ پن ظاہر ہوتا ہے اگر ہم ایک متوسط طبقہ کی شادی کو ہی لیں تو پیلس ،ویٹر ز، مٹهائی ، ٹینٹ، ڈی جے، والوں کے لیے ایک چهوٹی سی شادی کی تقریب بھی اتنا وسیع پیمانے کا دهندہ بن چکا ہے کہ اسے تفصیل سے بیان کرنے کے لیے الگ سے ایک اور مضمون درکار ہو گا.
جس طرح سے بہت ہی مہنگے داموں پر پیلیس بک کر نا ایک طرح سے سٹیٹس سمبل بنتا جا رہاہے . اس کو کسی بھی صورت میں صحیح نہیں کہا جا سکتا اور پهر مختلف پروگراموں کو انجام دینے کے لیے جس طرح سے پانی کی مانند بے تحاشا پیسہ بہایا جاتا ہے .اس سے معاشرے میں بہت ہی غلط پیغام جاتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ امیروں کے چوچلوں میں متوسط اور غریب طبقہ خوامخوہ بلی کا بکرا بنتا جا رہاہے.
امیر وں کا یہ خیال ہے کہ ان کے اس طرح کے بے جا اصراف سے عام لوگ انکی تعریف کریں گے اور عوام الناس پر ان کا رعب پڑے گا لیکن یہ ان لوگوں کی خام خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ بهلے ہی ایسے لوگوں کے منہ پر کچھ افراد انکی جهوٹی تعریف کریں ، لیکن ان کے پیٹھ پیچھے تو لوگ انکا مزاق ہی اڑاتے ہیں.
شادی بیاہ کا جائزہ لیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ جن چیزوں کی قطعی ضرورت نہیں ان چیزوں کو بهی ہم اپنی شادیوں کا ضروری حصہ بنانے میں اپنی شان و سٹیٹس خیال کرتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں جو پیسہ ایسے لوگ فضول دکهاوے و نمائش لیے خرچ کرتے ہیں. اگر وہی پیسہ کسی غریب بچی کی شادی کرنے، یا کسی غریب تنگ دست کی امداد کیلئے خرچ کر دیں تو یہ ان کے لیے اور مجموعی معاشرے کیلئے فلاحی کام ہو گا اور یقیناً اس کا ر خیر سے جو ان کو خوشی ملے گی وہ لاثانی ہو گی.
ہمارا یہ اولین فرض بنتا ہے کہ ہم لوگوں کو سادہ شادی بیاہ کرنے کی تلقین و ترغیب دیں تاکہ ہمارے معاشرے میں جن غریب والدین کے لڑکیاں جوان ہیں ان کو اپنی بچیوں کی شادیاں کرنے میں آسانیاں پیدا ہوں.
اس ضمن میں سرکاری و اصلاحی اداروں کو بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ وہ سادہ شادی کرنے کی لوگوں میں تبلیغ و تلقین کرتے رہیں.سرکاری سطح پر جس طرح نشہ آور ادویات کے خلاف اور پولیوشن کے خلاف لوگوں میں بیدار ی لانے کے لیے مہم چلائی جاتی ہیں ایسے ہی فضول خرچی یا اصراف فضول قسم کی رسومات کے خلاف بهی لوگوں میں بیدار ی پیدا کرنے کے لیے مہم چلائی جانی چاہیے یقیناً ایسے اقدامات سے معاشرے میں انقلابی تبدیلیاں برپا ہو سکتی ہیں۔

سابقہ گورننگ کونسل ممبر پنجاب اردو اکادمی. مالیر* کوٹلہ ضلع سنگرور ( پنجاب )
دهالیوال