سچی محبت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

بشریٰ منہاج
لہسنیا،مشرقی چمپارن (بہار)
آدمی جب پہلی بار کسی کی محبّت کا اسیر ہوتا ہے تو نوع بہ نوع انوکھے جذ بے اس کے دل کی ویران دھرتی پر خوشبو دار پھول اگانے لگتے ہیں. اجنبیت کی بنجر زمین پر شادابی آجاتی ہے. احساسات امنگوں سے لبریز ہوجاتے ہیں.دل کے آئینے میں مختلف قسم کے عکس دکهائ دینے لگتے ہیں. جذبات دهنک رنگ کا روپ اختیار کرنے لگتے ہیں. احساسات و کیفیات آبشار کی نغمگی میں گم ہونے لگتے ہیں. تتلیاں ان کی نگاہ میں پیامبر کی طرح نظر آنے لگتی ہیں.
محبّت کی اسیری بهی عجیب شئے ہے. محبوب کے گرد طواف نہ ہو تو سکون میں خلش پیدا ہونے لگتی ہے. محبوب سے بے شمار قسم کے احساسات منسلک ہونے لگتے ہیں۔ اس کے انتظار میں ویران رستوں پر گھنٹوں نظریں جمائے رکھنا کبھی دل ہی دل میں محبوب سے خفا ہو جانا اور پھر خود ہی مان جانا، اس کی ایک ایک ادا سے سو سو مطالب اخذ کرنا اور پھر ہجر کی طویل راتوں میں اسے ہی غور کرتے رہنا. اس کی ایک جھلک پانے کے لیے سب کچھ تج دینے پر آمادہ ہوجانا، ہر لمحہ یہ سوچنا کہ ملاقات پر کیا کیا شکوے کریں گے. لیکن محبوب کے سامنے آتے ہی ساری خفگی ایک لمحے میں کافور ہوجانا وغیرہ….
بلا شبہ ان جیسے ہزاروں احساسات محبّت میں ایک طوفان کی طرح سر اٹهاتے ہیں اور آدمی کو اپنی سحر انگیزیوں میں جکڑ لیتے ہیں.
پھر یوں ہوتا ہے کہ آدمی دھیرے دھیرے محبوب کی محبّت کی بجا ئے محبّت کرنے کے عمل سے ہی محبّت کرنے لگتا ہے۔
اور محبوب فقط جذبوں کا عمل اختیار کر لیتا ہے. یہ جذبے اس وقت تک نئے واردات قلبی کا احساس بنے رہتے ہیں جب تک آدمی کو محبوب کا ملن میسر نہیں ہوجا تا۔
فاصلہ ختم ہونے کی دیر ہوتی ہے. وصل کی لذت نصیب ہوتی ہے. مگر اذیت ناک حقیقت پھن پھیلا ئے کھڑی ہوتی ہے کہ ہمارا محبوب تو اس تصویر سے یک سر مختلف تھا جو ہم نے اپنے دل کے اندر بسا یا ہوا تھا. ذہن رکھنے والے سمجھ جاتے ہیں.
مگر عام آدمی حواس باختہ ہوکر سوچتا ہے کہ وہ خوبصورت کیفیات کیا ہوئے، وہ دل کش جذبے کدھر کھو گئے، مگر وہ اتنا سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے کہ یہاں وقتی محبّت ہوتی ہے وقت کے ساتھ جذبات و احساسات میں ہزار تبدیلیاں آجا تی ہیں. جب وقت گزر جاتا ہے تو ہزار کنڈیشن آ جاتے ہیں اور جب کنڈیشن پوری نا ہو تو انسان اسے چھوڑ دیتا ہے کیونکہ وہ Condition.پورانہیں ہو پاتا….
میری بہنو! دنیاوی محبّت صرف ہوا اور ہوس ہے اور یہ دنیا ہوس کے پجاریوں سے بھری ہوئی ہے.
پیاری بہنو! سوچو اس کے بارے میں جس نے آپ کو بے لوث محبّت دیے بغیرکسی شرط کے آپ کے ناز نخرے برداشت کیے. آپ نے بدلے میں کیا دیا؟؟؟ صرف رسوائی!! اس لیےنا کہ آپ کو اپنی محبّت پر بہت یقین تھا، اس محبّت پر جو وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے .
ملت کی بیٹیو! آپ کو بے غرض، بے لوث اور سچی محبّت صرف اور صرف آپ کے والدین ہی دے سکتے ہیں باقی تو آپ کی آبرو سے کهیلنے کے لیے ہیں.