سر سید کے چمن کو نظر نہ لگے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد وسیم ، ایم- فل ، اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی
———————————————
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ، ہے تو اتر پردیش میں مگر
سر سید کے چمن کے بلبلوں کی آوازیں دنیا کے کونے کونے میں سنی جاتی ہیں ، رات کی تاریکی میں ایک بزرگ شخص گھر کے بر آمدے میں بڑی بے چینی کے ساتھ ادھر ادھر چل رہا تھا ، گھر کے ایک شخص نے پوچھا کہ اتنی رات میں آپ اتنا پریشان کیوں ہیں ؟ سر سید نے کہا کہ مسلمانوں کی درد بھری حالت مجھ سے دیکھی نہیں جاتی ، میری قوم پسماندگی کا شکار ہے ، میں اسے بلندی پر کھڑا کرنا چاہتا ہوں ، میں اپنی قوم کے بچوں کو آسمان کی بلندیوں سے بھی اوپر دیکھنا چاہتا ہوں ، میں ان کے ایک ہاتھ میں قرآن ، دوسرے ہاتھ میں سائنس اور پیشانی پر کلمہء توحید لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ دیکھنا چاہتا ہوں ، اور میں یہ کر کے رہوں گا ، پھر وہ شخص اپنی عیش و عشرت کی زندگی کو قوم کے لئے قربان کر دیتا ہے ، اور ہندوستانی مسلمانوں کو اعلٰی تعلیم کی طرف ترقی کرتے دیکھنے کے لئے ایک ادارہ قائم کرتا ہے ، جسے دنیا سرسید کا چمن اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے نام سے جانتی ہے ، میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا طالبِ علم تو نہیں ہوں ، مگر میں اپنے آپ کو کو روحانی طور پر علی گڑھ کا طالبِ علم سمجھتا ہوں

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جامع مسجد میں ایک اور ادارے کی بنیاد رکھی گئی ، جسے دنیا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام سے جانتی ہے ، یہ دونوں ادارے تعلیم و تربیت کے بہترین ادارے ہیں ، ہاں میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے تمام ملکوں کو ان دونوں اداروں پر ناز ہے ، یہ دونوں ادارے ایمانی جذبے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے غمخوار بھی ہیں ، دنیا نے با رہا مشاہدہ کیا ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے درد کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے درد کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء نے محسوس کیا ہے ، یونیورسٹی میں آج کل امتحانات چل رہے ہیں ، طلباء امتحانات کی تیاری میں مشغول ہیں_ لیکن باطل طاقتیں سرسید کے بچوں کو سرسید کے چمن میں لہو لہان کرنے میں مشغول ہیں ، باطل طاقتوں اور اسلام و مسلمان دشمنوں کو ہمارے ان دونوں اداروں سے کیوں نفرت ہے ؟ انھیں کیوں ان سے پریشانی ہے؟ یہ دونوں ادارے کیوں ان کی نظروں میں کھٹکتے ہیں ؟

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں 2 مئی کے دن ایک پروگرام تھا ، جس میں حامد انصاری کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا لائف ٹائم کا اعزازی ممبر بنانے کا اعلان ہونا تھا ، مگر ہندو یووا واہنی کے غنڈوں نے نائب صدر جمہوریہ ہند کے اوپر حملہ کرنے کی پوری کوشش کی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے محافظوں نے روکنے کی کوشش کی تو ان سے اور پھر طلباء سے جھڑپ ہوئی ، یوپی پولیس نے طلباء پر زیادتی کی ، جس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی یونین کے صدر زخمی ہو گئے ، اس کے بعد ملک کی مختلف یونیورسٹیوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے حق میں مظاہرے کئے گئے ، 3 مئی کو شام پانچ بجے امتحان کی تھکن کے باوجود بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے حق میں ریلی نکالی اور ان سے اظہارِ ہمدردی کی ، اور یہ کہا گیا کہ یہ دونوں ادارے ہندوستان کی آزادی سے وابستہ ہیں ، اس کی تاریخ دشمنوں کو کھٹکتی ہے ، مگر ہر مشکل حالات میں جامعہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے رہیں گے..ان شاء اللہ

قارئین کرام ! یہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہے ، جس نے ہر دور میں باطل کی شکستِ فاش دیکھی ہے ، یہ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہے ، جس نے انگریزوں کو شکستِ فاش دی ہے ، آج بھی کفر دونوں پر نظریں گڑاےء ہوئے ہے مگر دین کا سفر جاری ہے ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کو بار بار حکومتوں کی طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے ، اب ایک بار پھر طلباء اور یونین کے صدر کو بھی پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا ہے ، باطل کان کھول کر سن لے ، تجھے بھاری قیمت چکانی پڑے گی. وقت آ چکا ہے کہ ہندوستان میں کوئی مولانا ابو الکلام آزاد پیدا ہو ، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ جامعہ ملیہ اسلامیہ اور مسلمانانِ ہند کی امیدوں کا مرکز بن سکے ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء مایوس نہ ہوں ، حکمتِ عملی بنائیں ، عوام کے درمیان جائیں ، مسلمانوں کو آپ سے بڑی امیدیں ہیں ، اللہ پر بھروسہ رکھیں ، اسی یونیورسٹی سے کسی کو مولانا آزاد بن کر نکلنا ہے ، اور مسلمانانِ ہند کے ساتھ ساتھ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دشمنوں کی سازشوں سے محفوظ رکھ کر ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کرنی ہے…ان شاء اللہ
سرسید کے چمن کو ہمیشہ برباد کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، مگر میری دعا ہے کہ سرسید کے چمن کو دشمنوں کی نظر نہ لگے…آمین

محمد وسیم ، ایم- فل ، اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی