زندگی ہے یاالف لیلی کی کہانی!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد اطھر القاسمی ارریہ/بنگلور
——————————————-
کل ہم نہیں تھے،ہمارے والد تھے،پرسوں والد نہیں تھے،ہمارے دادا تھے۔ دادا گئے،والد آئے،والد گئے،ہم آئے، کل ہم جائیں گے،پرسوں ہماری اولاد آئے گی اور ترسوں ہمارے پوتوں سے یہ دنیا آباد رہے گی۔ مطلب یہ کہ یہ دنیا یوں ہی آباد رہیگی اور ہم آتے جاتے رہیںگے ۔
غضب کی بات تو یہ ہے کہ ہم بھی آئے تو روتے آئے،اور پوری زندگی میں بار بار روئے۔ ماں نے دودھ نہیں دیا تو روئے،باپ نے چاکلیٹ نہیں دی تو روئے،بھائ نے بسکٹ نہیں کھلایا تو روئے، بچوں نے مارا تو روئے،استاذ نے ڈاںٹا تو روئے،بڑے ہوئے تو ذریعہ معاش کے چکر میں روئے،شادی کے بعد چھپ چھپ کر روئے،ارادہ ناکام ہوا تو روئے،والدین رخصت ہوئے تو روئے،عزیز جدا ہوئے تو روئے،اپنے پرائے ہوئےتو روئے،پرائے نےستایا تو روئے،خوش حال زندگی بدحالی کا شکار ہوئی تو روئے،جوانی کے بعد بڑھاپا آیا تو روئے اور بڑھاپے نے تو ایسا رُلایا کہ اس پر بیوی اور بچے بھی نہ روئے اور پڑوسی تو اسلئے روئے کہ یہ کمینے اور زیادہ کیوں نہ روئے یعنی پیدائش،بچپن،جوانی اور بڑھاپا؛ہر موڑ پر روئے۔
رونا رونا رونا اور روتے رہنا، روتے ہوئے آنا اور روتے ہوئے جانا!
دوستو!
کیا ہے یہ زندگی؟زندگی ہے یا کسی الف لیلی کی کہانی!
ہم کہتے ہیں اپنا گھر،اپنی گاڑی،اپنی دولت،اپناخاندان،اپنا کنبہ ،اپنے لوگ ،اپنی جائیداد،اپنے دوست،اپنی جماعت،اپنا محلہ،اپنا علاقہ،اپنا عہدہ،اپنا ایجنڈا،اپنا پلان،اپنا منصوبہ——-اپنا اپنا اپنا ۔۔۔۔۔ہم ہم ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارا ہمارے ہماری ۔۔۔۔۔۔۔۔اور نتیجہ ہرموڑ پر رونا، روتے ہوئے آنا اور روتے رُلانے مرجانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
دوستو!
ذرا رکئے اور ٹھہرئے اور دونوں آنکھیں بند کرکے اور اپنے دھڑکتے ہوئے کلیجے پر ھاتھ رکھ کر سوچئے کہ کیا ہم اس طویل عرصے کے رونے میں اپنی دنیا کے بجائے آخرت کے لیے بھی کبھی روئے؟روٹھے رب کو منانے کے لیے بھی کبھی روئے؟اس کے خوف سے بھی کبھی روئے؟اس کے عذاب کے ڈر سے بھی کبھی روئے؟قبر کی ہولناکی سے کبھی روئے؟پل صراط کی دشواری سے کبھی روئے؟ میدان محشر کے خطرات سے کبھی روئے؟
دوستو !
رمضان المبارک کی رحمت والا عشرہ آج ہی چلا گیا، مغفرت والا عشرہ آچکا ہے اور یہ بھی بھت جلد چلا جائے گا ۔
آئیے! ہم سب جھاں ہیں،جس حال میں ہیں، اپنے روٹھے ہوئے رب کے حضور مخلصانہ اور عاجزانہ درخواست کے ساتھ اس انداز سے روئیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے مان جائے ۔ اور بچی ہوئے بیسیوں رمضان المبارک کی راتوں میں رب کی بارگاہ عالی پناہ میں رونے کی ایسی عادت بنالیں کہ آئندہ ہمیشہ اپنے رب کی رضا کیلئے روتے رہیں اور روئیں بھی تو ایسے جیسے ماں کی گود میں ماں کی ممتا کی تلاش میں اس کا معصوم بچہ ایسا بلک بلک کر روتا ہے کہ ماں کو بھی رونے کا جی چاہتا ہے ۔ پھر ماں بچے کی ہر اس خواہش کی تکمیل کردیتی ہے جو اس کے بس میں ہوتا ہے ۔ اور رب کائنات کے بس میں کون سی چیز نہیں ہے؟ وہ مان جائے تو پھر کس کو منانے کی ضرورت ہے؟