زندگی زندہ دلی کا نام ہے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمدصابرحسین ندوی ایم پی

زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں۔(امام بخش ناسخ)
    *حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں زندگی حقیقی تسکین،چین وسکون اور خوش باش و خوش پوشاک ہو کر خوش مزاجی کے ساتھ گزاردینا قدرے مشکل ہے،”لا تحزن ولا تخف” کا آئینہ دار تو صرف اور صرف جنت یے،حیات بعد الموت کی آرائش و زیبائش “و لهم ما یشتھون”کے کیا کہنا؛لیکن سچ کہئے! تو حیات قبل الموت جنت سے عدم محض کا تعلق نہیں رکھتا ہے؛بلکہ اسے بھی آپ اپنی خوش دلی و خوش مزاجی اور توکل و توسع نیز جہد پیہم اور محبت و ومودت سے جنت نما بنا سکتے ہیں،اپنی کامیابیوں اور ناکامیابی کو خدائے عزوجل کے سپرد کرتے ہوئے ذہنی و جسمانی اضمحلال وتکان اور دماغی کوفت و الجھن اور دل کی غمی و رنجوری سے نجات پا سکتے ہیں،آپ یہ لوح دل پر نقش کر لیجئے! کہ دنیا آپ کے اشاروں پر نہیں؛ بلکہ مرضیات الہی پر گامزن ہے،اسی کی منشا اور اسی کا حکم چلتا ہے،نہ پیدا ہونا آپ کے ہاتھ میں تھا اور نا ہی موت پر آپ کا بس ہے،زندگی کے چند لمحات جس کی پلک جھپکنے کے برابر بھی حیثیت نہیں؛یا شرعی اصطلاح میں کہا جائے تو جس کی حیثیت مچھر کے پر کے برابر نہیں؛ اس کیلئے بھلا کیوں حاکم مطلق بن جانے کی خواہش کرتے ہوئے یا اپنی مرضیات پر سر دھنتے ہوئے زندگی دوبھر کرنے کی کیا ضرورت ہے؟بس یاد رکھئے!*
جب نہیں کچھ اعتبار زندگی
اس جہاں کا شاد کیا ناشاد کیا(فانی بدایونی)
     آپ نے اگر ہر غم دھوئیں میں اڑانا نہ سیکھا اور دل کو رطب و یابس کا مرکز بنا دیا ہو؛ تو یقینا آپ کا دل کسی کورے کا ڈھیر اور کچرے کا پلندہ بن جائے گا، اور آپ کا سراپا “کلا علی الارض” کی تصویر ہوگا، آپ کے قرب وجوار میں ہر کسی کو کوفت ہوگی،غم ورنج کا تار ایسے بناہوگا؛ کہ آپ لا کھ تمنا کے باوجود بھی اسے پارہ پارہ نہ کر پائیں گے،اعزا واقربا اور جگر وگوشوں کو چھوڑئے اجنبی اور غیر معروف اشخاص بھی ہیبت کھائیں گے،آپ سے دوری بنانے حتی؛ کہ آپ کے سایہ سے بھی پناہ مانگی جائے گی،آپ “بئس الرجل” کا خطاب پائیں گے،ہو سکتا ہے کہ آپ کو “دکھتی آتما” کہا جائے، اور محفلوں میں موضوع سخن بن کر ہنسی ٹٹھولے کا مجسم بن جائیں،اور ہاں ایسے اجسام کو امراض اپنا محبوبہ سمجھتی ہیں؛ بلکہ اس محبوب لونڈی کے مثال مانتی ہیں، جسے روندنا اپنا پیدائشی حق سمجھا جاتا ہے۔
   *ذرا غور کیجئے! کیا آپ چڑھتے سورج کو روک سکتے ہین؟کیا آپ ڈھلتی شام اور زوال پذیر سحر کا کوئی علاج کر سکتے ہین؟کیا مستقبل پر آپ کا کوئی زور ہے؟کیا آپ اپنے ماضی کو بدل سکتے ہین؟اگر نہیں تو پھر سعی لا حاصل کو حاصل سمجھ کر سر پٹ دوڑنا اور زندگی کو یکسر الم و اندوہ کا مجموعہ بنانا کہاں تک صحیح ہے؟بلا شبہ منصوبہ بندی کرنا اور خود احتسابی کے ساتھ مستقبل کی راہ طے کرنا، نیز ماضی کی غلطیوں سے سبق لے کر نئی منزلوں کی نشاندہی کرناآپ کے ہاتھ میں ہے، اور بغیر کسی شبہ و شک کے کیجئے! یہ عین فطری تقاضہ اور مومنانہ شان بھی ہے؛لیکن اس پر تکیہ کرلینا اور شبانہ روز کی کلفت مقدر کرتے ہوئے، زندگی کو لعنت تصور کرلینا نہ صرف فطرت کے خلاف ہے؛ بلکہ انسانیت اور خالق انسانیت کی چاہت کے بھی مغایر ہے،آپ اگر زندہ ہیں تو زندگی کو جینا آپ کا کام ہے،اوراگر کہا جائے کہ یہ آپ پر فرض ہے تو غلط نہ ہوگا،اگر آپ نے زندگی میں مردنی کو جگہ دی ؛تو ہوسکتا ہے؛ کہ “وھو یمیت” پر قدغن لگانے کی کوشش کر رہے ہوں، اور ممکن یے کہ آپ خدائی غضب کو دعوت دے رہے ہوں!*
*آخر اک روز تو پیوند زمیں ہونا ہے*
*جامۂ زیست نیا اور پرانا کیسا*   (لالا مادھو رام جوہر)

✍ *محمد صابرحسین ندوی*ایم پی