روزے کافدیہ اور قضاء و کفارہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حافظ عقیل احمد خان
مرکزِ لوح و قلم، نیتواپور ، سنت کبیر نگر
عموماً مسائل کی معلومات سے متعلق عوام کا حال یہ ہے کہ اس کو بھی سیزن پر موقوف کردیا ہے۔رمضان المبارک آیا تو اس کے متعلق مسائل و معلومات، عید قرباں قریب ہوئی تو اس کے متعلقات ، کسی کا انتقال ہوا تو قبرستان میں پہنچ کر مسائل تجہیز و تکفین پر گفتگو و مسائل متعلقہ پر گرما گرم بحث شروع ہوجاتی ہے ۔ حالانکہ کہ ہونا تویہ چاہئیے کہ ایک مسلمان و مؤمن ہونے کی حیثیت سے اسلام کے تمام شعبوں سے متعلق خاص خاص مسائل کی معلومات رکھے ۔
بہر کیف یہ نیکیوں کی بہار کا موسم ہے ، ماہ مقدس ہمارے اوپر سایہ فگن ہے ، ہم میں سے بہت سے لوگ ( مرد و خواتین )ایسے ہیں جو کہ کسی وجہ سے روزہ رکھنے کی برکت سے محروم ہوجاتے ہیں، الگ الگ اسباب ہیں ، یا کچھ لوگ روزہ رکھنے کی نیت سے سحری تو کھالئے مگر کسی وجہ سے دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد روزہ توڑ دیتے ہیں ، تو اب ایسے میں ان حضرات کو فدیہ اور قضاء و کفارہ ادا کرنے کی معلومات ہونا ضروری ہے کہ کس صورت میں کیا کرنا ہوگا ؟
تو آیئے پہلے جانتے ہیں کہ فدیہ کیا ہے اور اس کے ادائیگی کی کیا صورت ہے ؟
فدیہ کے شرعی معنی :
فدیہ: کسی برائی یا غلطی کی بناء پر شریعت کے مکلف و پابند شخص پر عائد ہونے والا بدل و عوض یا وہ مال ہے جو کسی عذر کی بناء پر بدنی عبادت سے چھٹکارے کے لئے دیا جاتا ہے۔
فدیہ کس پر ہے ؟
(فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ)
[Surat Al-Baqarah 184]
ترجمه ” اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے لیکن اگر تم سمجھو، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو”-
وضاحت :
اگر کوئی شخص بہت بوڑھا یا مرض کی وجہ سے انتہائی کمزور ہے، روزے کی سکت نہیں ہے، اس بنا پر اس نے ماہِ رمضان کا روزہ نہیں رکھا تو بعد رمضان جب بھی قوت حاصل ہوجائے اس پر چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا ضروری ہے۔ اگر وہ کمزوری دور نہیں ہوئی، بلکہ وفات تک باقی رہی تو اس شخص پر روزوں کی قضا لازم نہیں ہے اور نہ ہی اس پر فدیہ دینا یا فدیہ کی وصیت کرنا لازم ہے، البتہ اگر رمضان کے بعد قوت حاصل ہونے پر بھی اس نے قضا نہیں کی تو اس پر ضروری ہے کہ ”فدیہ“ کی وصیت کرجائے، ایسی صورت میں وہ جو کچھ ترکہ چھوڑے گا اس کے تہائی سے چھوڑے ہوئے روزوں کا فدیہ ادا کرنا ورثا یا وصی پر ضروری ہے، اگر چند روز قوت رہی پھر دوبارہ کمزوری آگئی تو جتنے یوم وہ روزہ رکھ سکتا تھا ان دنوں کے فدیہ کی وصیت کرنا ضروری ہے ۔
فدیہ کا نصاب :
ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو صبح شام دو وقت پیٹ بھر کھانا کھلانا ہے۔ یہ کھانا وہ اپنی مالی حیثیت اور استطاعت کے مطابق کھلائے گا۔
یا صدقة الفطر کے بہ قدر گیہوں (1633/ گرام) یا اس کی قیمت کسی غریب مستحق زکاة کو دینا ہے۔
قضا:
اگر کوئی شخص وقتی طور پر کسی ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے جس سے اس کے لیئے روزہ رکھنا مشکل ہو جائے ، یا اسے سفر درپیش ہو، یا ایسی خاتون جو حیض و نفاس کے سبب روزہ نہ رکھ سکے تو چھوٹے ہوئے روزے کی تعداد پوری کرنے کے لیئے رمضان کے بعد روزے رکھے جائیں گے ان روزوں کو قضا روزے کہتے ہیں۔ فرض روزوں کی قضا آئندہ رمضان سے پہلے پہلے کسی وقت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
کفارہ:

کفارہ کی تعریف :
کفارہ ان عبادات مالیہ یا بدنیہ کو کہتے ہیں جن کو شریعت مطہرہ نے بعض جرائم کی تلافی و تدارک اورآئندہ کے لیے ان جرائم کے ارتکاب سے انزجار کے لیے مقر ر کیا ہے
کفارہ کی اقسام
کفارہ کی چار قسمیں ہیں
1) کفارئہ یمین :یہ وہ کفارہ ہے جو قسم کھاکر قسم پوری نہ کرنے پر لازم آتا ہے یہ کفارہ دس مسکینوں کو صبح وشام پیٹ بھر کر کھانا کھلانے یا ان کو کپڑا پہنانے یا ایک غلام آزاد کرنے سے ادا ہوتا ہے اور اگرمذکورہ تینوں کاموں میں سے کسی کی قدرت نہ ہو تو لگاتار تین روزہ رکھنے سے ادا ہوجاتا ہے ۔
2 ) کفارۂ قتل :یہ وہ کفارہ ہے جو کسی کو غلطی سے قتل کردینے کی وجہ سے لازم آتا ہے یہ کفارہ ایک مومن غلام آزاد کرنے سے ادا ہوتا ہے اور مومن غلام آزاد کرنے پر قدرت نہ ہو تو لگاتار دوماہ روزہ رکھنے سے ادا ہوجاتاہے

3 )کفارۂ ظہار :یہ وہ کفارہ ہے جو اپنی بیوی کو ہمیشہ کے لیے حرام عورت کے مجموعہ یا ظہر یا بطن یا کسی جزء شائع سے تشبیہ دینے پر لازم آتا ہے یہ کفارہ ایک غلام آزاد کرنے سے ادا ہوتا ہے اگر غلام آزاد کرنے کی قدر ت نہ ہو تو لگاتار دوماہ روزہ رکھنے سے بھی ادا ہوجاتا ہے اور اگراس کی بھی طاقت نہیں تو ساٹھ مسکینوں کو صبح وشام پیٹ بھر کر کھانا کھلانے سے بھی ادا ہوجاتا ہے ۔
4) کفارۂ صوم : یہ وہ کفارہ ہے جو (بلا عذر شرعی) رمضان کا روزہ توڑنے سے لازم ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ قضاء بھی لازم ہوتی ہے۔ اس کا حکم مثل کفارہ ٔظہار کے ہے اس کے ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ
ایک تو وہ روزہ رکھے گا، دوسرا اس کے ساتھ اس گناہ کا کفارہ ادا کرے گا۔
یعنی ایک روزہ قضا ء کا اور ساٹھ روزے کفارہ کے واجب ہیں جیسا کہ در مختار میں ہے ” وان جامع فی رمضان الخ اوا کل و شرب غذائً او دوائً عمداً الخ قضی و کفر الخ ” ۔ اور شامی میں ہے ” وانما قدم القضاء اشعاراً بانہ ینبغی ان یقدمہ علی الکفارۃ الخ ”
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند)
ایک روزے کا کفارہ درج ذیل تین صورتوں میں سے کسی ایک سے ادا ہو جائےگا:
1) غلام یا باندی آزاد کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو جیساکہ آج کل کا دور ہے ۔
2)تو لگاتار دو مہینہ کے روزے رکھے، درمیان میں ایک بھی ناغہ نہ ہو، ورنہ پھر ازسر نو رکھنے پڑیں گے، اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو۔
3) تو ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے ۔