روزہ کی حقیقت شریعت کی نظر میں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
امام غزالی رح روزہ کے اسرار و رموز اور مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
روزہ کا مقصد ہوائے نفس ( نفسانی خواہشات ) کو کچلنا ہے ،تاکہ نفس کو تقوی پر قوت ملے ،اور روزہ کی روح اور اس کی مشروعیت کا راز اس قوت کو کمزور کرنا ہے جو شر و فساد پر ابھارنے کے لئے شیطان کے وسائل و ذرائع ہے*
(احیاء علوم الدین :۱ /۲۷۴)
علامہ ابن قیم رح روزے کی حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں :
*روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کےشکنجے سے آزاد ہو سکے،اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال و توازن اور میانہ روی پیدا ہو اور اس کے ذریعے سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائ حاصل کرسکے اور حیات ابدی کے حصول کے لئے اپنے نفس کا تزکیہ کر سکے*
(زاد المعاد : ۲/۲۸)
معلوم یہ ہوا کہ روزہ کا مقصد اصلی روح و نفس کا تذکیہ اور خدائے وحدہ لاشریک لہ کی رضا مندی کے لئے صبر و شکیب کی کیفیت اور ہمت و طاقت کا حاصل کرنا اور جٹانا ہے اور اپنی محدود،مستعار اور فانی زندگی کو تقوی و طہارت کی خوشبو سے معطر اور پاکیزہ کرنا ہے اور اسی مقصد کے لئے اللہ تعالی نے اس عبادت کا اپنے بندے کو مکلف بنایا ہے اور اس عبادت کی عملی صورت گری بھی فرمائ ہے ۔
قرآن کریم میں روزہ کے لئے ۰۰ صیام ۰۰ کا لفظ استعمال ہوا ہے ،جو صوم کی جمع ہے ،صوم کے لغوی معنی رکنے اور چپ رہنے کے ہیں ،جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ درحقیقت انسانی خواہشات ،بہیمی جذبات اور سفلی میلانات سے بچنے اور پرہیز کرنے کا نام ہے ،اللہ تعالی نے انسان کے اندر دو طرح کی قوتیں ودیعت کی ہیں ،حکیم الامت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رح نے انہیں قوت بہیمی اور قوت ملکی سے تعبیر کیا ہے ،پہلی قوت معائب و مفاسد کا سرچشمہ ہے، جب کہ دوسری قوت سے خیر و بھلائ اور نیکیوں کا ظہور ہوتا ہے ،انسان کی بہیمی و شہوانی قوت کی شدت و جوش عام طور پر کھانے پینے کی کثرت اور جنسی لذتوں میں مشغولیت و انہماک سے پیدا ہوتی ہے ،اس لئے مذہب اسلام نے اس جوش و شدت کو کم کرنے اور انسان کے اندر ملکوتی قوت و صفات پیدا کرنے کے لئے روزے کے دنوں میں کھانے پینے اور جنسی تعلقات سے روک دیا ہے ۔
روزہ کا بنیادی مقصد قرآن مجید نے جو بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ روزہ دار روزے کی برکت سے( بعید نہیں کہ) متقی اور پرہیز گار بن جائے گا اس کے اندر خوف خدا پیدا ہو ۔ دل کدورتوں، گندگیوں، آلائشوں اور برے خیالات و تصورات سے پاک ہو جائے ۔
الغرض روزہ کا سب سے بڑا مقصد تقوی اور دل کی پرہیز گاری اور صفائ ہے۔
تقوی کیا ہے ؟ اس کی تعریف کرتے ہوئے *علامہ سید سلیمان ندوی رح* فرماتے ہیں :
*تقوی دل کی اس کیفیت کا نام ہے جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک باتوں کی طرف اس کو بے تابانہ تڑپ ہوتی ہے*
امام غزالی رح فرماتے ہیں :
*روزہ صرف یہی نہیں کہ کھانا ،پینا اور جماع ایک وقت مخصوص سے ایک وقت مخصوص تک نہ کی جائے ،یہ تو محض روزہ کی شکل و صورت ہے، اصل روزہ یہ ہے کہ زبان برائیوں سے رک جائے، کان غیبت سے باز آجائیں ،آنکھ ناجائز چیزوں کو نہ دیکھے،ہاتھ ظلم و زیادتی سے رک جائیں ،پاوں حرام کی طرف چلنے سے انکار کریں اور ان سب کے بادشاہ دل و دماغ خلاف شرع باتوں کے سوچنے اور سمجھنے تک کی قوت سے محروم ہو جائیں* ۔
اللہ تعالٰی ہم سب کو روزے کو اس کی روح اور حقیقت اور ظاہر و باطن کی خوبیوں کے ساتھ رکھنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ