روزہ انسان کیلئے صحت و توانائی کاپیغام ہے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حکیم نازش احتشام اعظمی
رب کائنات جو سارے جہان کا تنہا خالق ومالک ہے اوریہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بنانے والا ہی اپنی تخلیق کے بارے میں دوسروں زیادہ جانتا ہے۔اس لئے کہ بنانے والے کا علم حقیقی ہوگا،جب کہ اپنی ریسرچ اور تحقیق ومطالعہ وّّتجربات کی روشنی میں کسی بھیفرد کا علم ظنی اور قیاسی ہوگا۔اس میں کمی کوتا ہی اور تسامح کا امکان ہمیشہ برقرار رہے گا،جبکہ خالق کو اپنی تخلیق کی معلومات پر ذرہ برابر شک و شبہات کی رمق نہیں گزر سکتی۔لہذاوہ رب دوجہاں،ہمارا  خالق ومالک جس نے اپنی خلقت میں بنی نوع انسان کو اشرف المخلوقات بنایاہے،وہ معبود حقیقی اپنے بندو ں کے ایک ایک روحانی وجسمانی عوارض سے واقف ہے۔چناں چہ روزہ کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔ 

”اور تمہارا روزہ رکھ لینا تمہارے لئے بہتر ہے اگر تمہیں سمجھ ہو“

 البقرۃ، 2:  184   

اگر ہم اس آیتِ مبارکہ میں بیان کردہ حقائق کا طبی نکتہ نظر سے مطالعہ کریں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ روزہ عبادت کے ساتھ ساتھ صحتِ انسانی کے لئے بھی بے حدمفید چیز ہے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ روزے سے جسم میں کوئی نقص یا کمزوری واقع نہیں ہوتی، بلکہ روزہ رکھنے سے صرف دو کھانوں کا درمیانی وقفہ ہی معمول سے کچھ زیادہ ہوتا ہے اور درحقیقت 24 گھنٹوں میں جسم کو مجموعی طور پر اتنے حرارے (Calories) اور مائع (پانی) کی مقدار مل جاتی ہے جتنی روزے کے علاوہ دنوں میں ملتی ہے۔ مزید برآں یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ لوگ رمضان میں پروٹین اور کاربوہائیڈریٹ عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مجموعی غذائیت (حرارے) عا م دنوں کے مقابلے میں جسم کو اکثر زیادہ تعداد میں ملتے ہیں اس کے علاوہ ہمارا جسم فاضل مادوں کو بھی استعمال کرکے توانائی کی ضرورت پوری کرتا ہے۔

 روزہ سارے نظامِ ہضم کو ایک ماہ کے لئے آرام مہیا کر دیتا ہے۔ درحقیقت اس کا حیران کن اثر بطور خاص جگر پر ہوتا ہے کیونکہ جگر کھانا ہضم کرنے کے علاوہ پندرہ مزید اعمال بھی سرانجام دیتا ہے جس کی وجہ سے اس پر تھکن طاری ہو جاتی ہے۔ دوسری طرف روزہ کے ذریعے جگر کو چار سے چھ گھنٹوں تک آرام مل جاتا ہے جو روزہ کے بغیر قطعی ناممکن ہے۔ کیونکہ بے حد معمولی خوراک یہاں تک کہ ایک گرام کے دسویں حصے کے برابر بھی اگر معدہ میں داخل ہو جائے تو پورا نظامِ انہضام اپنا کام شروع کر دیتا ہے اور جگر فوراً مصروفِ عمل ہو جاتا ہے۔ سائنسی نقطہ نظر سے ماہرینِ طب کا دعویٰ ہے کہ اس آرام کا وقفہ ایک سال میں ایک ماہ ضرور ہونا چاہیے۔ روزہ کے دوران خون کی مقدار میں کمی ہو جاتی ہے یہ اثر دل کو نہایت فائدہ مند آرام مہیا کرتا ہے۔ زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خلیوں کے درمیان (Inter Celluler) مائع کی مقدار میں کمی کی وجہ سے خلیوں کا عمل بڑی حد تک سکون آشنا ہو جاتا ہے۔ لعاب دار جھلی کی بالائی سطح سے متعلق خلیے جنہیں (Epitheliead) کہتے ہیں اور جو جسم کی رطوبت کے متواتر اخراج کے ذمہ دار ہوتے ہیں ان کو بھی صرف روزے کے ذریعے ہی آرام اور سکون ملتا ہے۔ اسی طرح سے ٹشو یعنی پٹھوں پر دباؤ کم ہو جاتا ہے۔ پٹھوں پر یہ ڈائسٹالک دباؤ دل کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ روزے کے دوران ڈائسٹالک پریشر ہمیشہ کم سطح پر ہوتا ہے یعنی اس وقت دل آرام کی صورت میں ہوتا ہے۔ مزید برآں آج کا انسان ماڈرن زندگی کے مخصوص حالات کی بدولت شدید تناؤ یا ٹینشن کا شکار ہے۔ رمضان کے ایک ماہ کے روزے بطور خاص ڈائسٹالک پر یشر کو کم کرکے انسان کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں۔پھیپھڑے براہِ راست خون صاف کرتے ہیں اس لئے ان پر بلاواسطہ روزے کے اثرات پڑتے ہیں۔ اگر پھیپھڑوں میں خون منجمد ہو جائے تو روزے کی وجہ سے بہت جلد یہ شکایت رفع ہو جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ نالیاں صاف ہو جاتی ہیں۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ کی حالت میں پھیپھڑے فضلات کو بڑی تیزی کے ساتھ خارج کرتے ہیں اس سے خون اچھی طرح صاف ہونے لگتا ہے اور خون کی صفائی سے تمام نظامِ جسمانی میں صحت کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ روزے کے دوران جب خون میں غذائی مادے کم ترین سطح پر ہوتے ہیں تو ہڈیوں کا گودہ حرکت پذیر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں لاغر لوگ روزے رکھ کر آسانی سے اپنے اندر زیادہ خون پیدا کرسکتے ہیں۔ روزے کے دوران جگر کو ضروری آرام اتنا مواد مہیا کر دیتا ہے جس سے بآسانی اور زیادہ مقدار میں خون پیدا ہو سکے۔ خون میں سرخ ذرات کی تعداد زیادہ اور سفید ذرات کی تعداد کم پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق روزے میں حرارتِ جسمانی گر جاتی ہے لیکن جب اصلی بھوک عود کر آتی ہے۔ تو حالتِ جسمانی اصلی حالت کی طرف مائل ہو جاتی ہے اسی طرح جب روزہ کھولا جاتا ہے اور غذا استعمال ہوتی ہے تو حرارتِ جسمانی میں کسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے روزہ رکھنے کے بعد خون کی صفائی کا عمل جاری ہو جاتا ہے۔ قلت الام (یمینا) کی حالت میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ خون کے سرخ خلیات کی تعداد میں ترقی ہو جاتی ہے ایک مشاہدہ کے مطابق معلوم ہوا کہ صرف 12 دن کے روزوں کے تسلسل کی وجہ سے خون کے خلیات کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 36 لاکھ تک پہنچ گئی۔

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہر طب ڈاکٹر رازین معروف نے روزہ کی افادیت کے سلسلے میں انتہائی حوصلہ افزاباتیں لکھی ہیں،جوموصوف کی تحقیق اورریسرچ کا نچوڑ ہیں۔ڈاکٹر رازین کا کہنا ہے کہ اگر مسلمان درست طریقے سے اپنے جسم اور ذہن کو روزوں کے لیے تیار کرلیں تو یہ حیران حد تک بہت زیادہ طبی فوائد کا باعث بنتا ہے۔رمضان کے دوران کچھ چڑچڑے پن، پانی کی کمی، سینے میں جلن اور توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت میں کمی سے ہٹ کر (جو کہ متوقع ہوتی ہے) یہ مہینہ کئی فوائد کا حامل ہوتا ہے۔ڈاکٹر رازین معروف کے مطابق جسمانی وزن میں کمی سے ہٹ کر یہ جسمانی مضبوطی کے فوائد حاصل کرنے کے لیی بھی ضروری مہینہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رمضان کے دوران سحر اور افطار میں متوازن غذا کا استعمال صحت کے فوائد کے حصول کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

ان کے بقول چونکہ روزوں میں مسلمان سورج طلوع ہونے سے لے کر غروب ہونے تک کچھ کھا پی نہیں سکتے تو جسم کے لیے ذخیرہ چربی کو توانائی کے حصول کے لیے جلانا آسان ہوجاتا ہے اور موٹاپے میں کمی آتی ہے۔اسی طرح پٹھوں میں مضبوطی آتی ہے، کولیسٹرول لیول گرتا ہے اور صحت مند غذا کے استعمال کو معمول بنانے سے ذیابیطس اور بلڈ پریشر پر بھی کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔رمضان کے آغاز کے بعد کچھ دن جسم کھانے کے نئے اوقات کے لیے خود کو ایڈجسٹ کرتا ہے جس سے خون میں اینڈروفینز نامی کیمیکل کی مقدار بڑھتی ہے جو روزے داروں کو زیادہ چوکنا، خوش باش اور مجموعی طور پر بہتر ذہنی صحت کا احساس فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا ہے کہ رمضان کے دوران تلی ہوئی غذا سے گریز کرنا چاہئے اس کے مقابلے میں افطار میں کھجور اور دودھ کے مشروبات کا استعمال کرنا چاہئے جو دن بھر کے فاقے کے بعد جسم کو توانائی فراہم کرتا ہے۔اسی طرح زیادہ سے زیادہ پانی پی کر جسم میں اس کی کمی کی روک تھام کی جاسکتی ہے تاکہ کھانے میں بے اعتدالی سے بھی بچا جاسکے۔

ایک یوروپی نیوز ویب سائٹ پر چھپنے والی ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ انسان کی ظاہری خوبصورتی، جلد کی تازگی، بالوں اور ناخنوں کے لیے بھی مفید ثابت ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ روزہ بڑھاپے کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تاثر درست نہیں کہ روزہ انسان کو کمزور کر دیتا ہے۔ روزہ رکھنے سے انسان بڑھاپے کو روکنے کی کامیاب کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ روزے کی حالت میں انسانی جسم میں موجود ایسے ہارمونز حرکت میں آ جاتے ہیں جو بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔ روزے سے انسانی جلد مضبوط ہوتی اور اس میں جھریاں کم ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ روزہ کینسر، امراض قلب اور شریانوں کی بیماریوں کے آگے بھی ڈھال ہے۔ 

انسانی جلد اور ناخنوں پر بھی روزے کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ناخن، سر کے بالوں کی نشونما اور ان کی مضبوطی میں اضافہ ہوتا ہے۔ انسانی اور چہرے کی رنگت پر مرتب ہونے والے اثرات ناخنوں پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ روزے کی حالت میں جسم ان ہارمونز کو پھیلاتا ہے جو جلد کی خوبصورتی اور ناخنوں کی چمک اور بالوں کی مضبوطی کا موجب بنتے ہیں۔ یہاں تک کہ روزے سے انفیکشن بیکٹیریا کی روک تھام اور بڑھاپے کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ انسانی جسم کو روزے کی حالت میں پانی کی زیادہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ سخت گرمی میں جلد جھلس جاتی ہے۔ افطاری کے بعد اور سحری کے اوقات میں پانی کے بکثرت استعمال سے جلد کو تازہ رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گلیسرین کے استعمال سے بھی جلد کو تازہ کیا جا سکتا ہے۔ روزے کے بغیر انسانی جسم کی طاقت اور توانائی نظام انہضام کی وجہ سے صرف ہوتی ہے۔ مگر روزے کے بعد جسم کی توانائی نظام انہضام کی ہدایت پر کام نہیں کرتی۔ روزے کے بعد انسانی جسم میں موجود زہریلا مواد اور دیگر فاسد مادے ختم ہو جاتے ہیں۔ یوں جسم کو فاسد مادوں سے نجات ملتی ہے۔