روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

عبیدالرحمان عقیل ندویؔ

آج پھر زبان بول اٹھی… قلم ابل پڑا… روح بے چین ہے… اور دل بے قرار ہے… کہ آخر وہ کونسا خواب ہوں میں جسکی تعبیر ہے میری ماں… ? تو پتہ چلتا ہے کہ صرف تین حرفوں میں پرویا ہوا لفظ” ماں” کا ہے .جس میں ایک طرف الفت و محبت… پیارو شفقت ہے تو دوسری جانب دردوکسک… اذیت و مشقت… اور ایثار و قربانی کا انوکھا پن بھی موجزن ہے .لیکن جس ماں نے مجھے اپنے مادر شکم میں رکھ کر دکھ تکلیف کو برداشت کی… وہ ماں جس نے کبھی دکھ کو دکھ نہیں سمجھا… جس نے آنے والے تمام مصائب کا سامنا کیا کبھی فاقے کو گلے سے لگایا تو کبھی غم کو سینہ سے چمٹایا بجلی چمکتی تو گلے سے لگالیتی بارش ہوتی تو اپنا آنچل پھیلا دیتی پیاس لگتی تو ادھر ادھر بھٹکتی پھرتی شاید کہیں پانی کا ایک قطرہ مل جائے بھوک کی شدت سے جب تڑپتا تو اپنا نوالہ میرے منھ میں ڈال دیتی مجھے جب تربیت کرتی تو بامروت خاتون بن کر جب پٹھکارتی تو اپنے آنچل میں اپنا منھ چھپا کر روتیں کیونکہ ادب جو سکھاتی اسلئے آنسوں کا نالہ دکھا کر نہ بہاتیں الف سے اللہ پڑھاتی تو “یقیں محکم , عمل پیہم ” کے ساتھ میم سے محمد صلی الله علیہ وسلم بتاتیں تو” ورفعنا لک ذکرک” کے ساتھ دین اسلام کے بارے میں سکھاتی تو” ان الدین عند اللہ الاسلام” کے پختہ یقینی کے ساتھ جب کھیلنے بھیجتی تو کنکھیوں سے دیکھتی رہتیں کہ کہیں چوٹ نہ لگ جائے میرے جگر کے ٹکڑے کواور کبھی چوٹ جو لگ جاتی تو چلا دیتی میری ماں .
اسی موقعہ سے محترمہ سمیرہ سلطانہ کا یہ شعر یاد آگیاکہ…
“روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں .”
چنانچہ ایک مرتبہ جب میں دیر سے گھر کی دہلیز پر قدم رکھا اور سامنے بیٹھی میری ماں میرا انتظار کررہی تھیں تو سچ مانئے میرے پاس اسکے بیان کی خاطر الفاظ تو نہیں لیکن ایک شعر ضرور ملاحظہ فرمائیں شاید کہ کسی قدر اسکی ترجمانی ہوجائے .
“دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں ”
چنانچہ ایک مرتبہ کی بات ہے جب میں نے رات سوتے ہوئے ڈرا اور پھر یہ کہہ دیا تھا کہ مجھے ڈر لگتا ہے تو آئیے اسی کیفیت کو عباس تابش صاحب کا ایک بہت مشہور شعر ہے جسے نقل کرتا چلوں .
“ایک مُدت سے ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے​ ”
اتنا ہی نہیں جب کبھی بھی پڑھنے کوشہر سے باہر بھیجتی تو دودھ کا پیالہ لئے کھڑی رہتی تاکہ میرے پیارے نبی ﷺ کی پسندیدہ تین چیزیں نہ سہی کم از کم ایک ہی پسند کو اپنے لاڈلے کے منھ میں اتاردوں اور جب اسکو پی کر سیراب ہوجاتا تو اپنا دست شفقت دراز کردیتی اور پیشانی کو چوم کر سنت رسول ﷺ کو دہراتی جب کوچ کرتا تو حد نگاہ تکتی رہتیں اور پھر آنکھوں سے آنسوں بہاتی رہتیں میری پیاری ماں چنانچہ اسوقت تک میری ماں کو سکون نہیں ملتا جب تک کہ اس کا لاڈلا اپنی منزل پوری نہیں کرلیتا…… کاش…… کہ……. ماں کی عظمت کو سمجھ پاتے ان کی قدر کر پاتے کماحقہ نہ سہی کچھ تو ادا کرپاتے ہم جیسا کہ اس رحیم آقا نے متعدد آیات کریمہ میں اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا بھی حکم دیا ہے. مندرجہ ذیل آیات ملاظہ فرمائیے :
” وقضی ربکالاتعبدوا الا ایاہ وبالوالدین احسانا .”
“واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احسانا. ”
“قل تعالوااتل ماحرم ربکم علیک الاتشرکوابہ شیئا وبالوالدین احسانا. ”
اوراس آیت میں اپنے شکرکو والدین کے شکرکے ہمراہ ذکر فرمایا ہے :
” اناشکرلی ولوالدیک الی المصیر .”
مذکورہ بالا آیات کے علاوہ آیئے اس پیغمبر ِاسلام ﷺ کی زبان مبارک پر بھی ایک نظر ڈالتے چلیں .
“اَلْجَنَّۃُ تَحْتَ اَقْدَامِ الْاُمَّھَاتِ .
جنّت ماؤں کے قدموں تلے ہے. ”
لیکن ہر بنی آدم کی فطرت میں یہ داخل ہیکہ ہر اس نعمت کی ناقدری کرتے ہیں جن جن نعمتوں سے اسے نوازا جاتا ہے کبھی جانے میں اور کبھی انجانے میں بہر حال جب سکون قلب کے ساتھ میں یہ سوچتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ میری ماں مجھ پر اتنی مشفق اتنی مہربان ہے اور اس قدر فکر میں ڈوبی رہتی ہیں تو میرا خدا مجھ پر کتنا رحیم ہوگا جو ان جیسی ستر ماؤں سے زیادہ رحم وکرم کرنے والا ہے جس کی رحمت اور نعمت کا کوئی حساب نہیں جس کا ذکر قرآن کریم نے کچھ اس انداز سے فرمایا ہے .”فبای آلا ء ربکما تکذبان “.
مختصر یہ کہ ہم اس ماں کی عزت و عظمت اور رفعت کو سمجھتے ہوئے ان کی خدمت کے ذریعہ اپنے پروردگار کو راضی کرپاتے جس کا وعدہ ایک ایسی زبان مبارک نے فرمایا ہے جس کا کوئی بھی قول و فعل جھوٹا نہیں ہوسکتا جن کے نکلتے بول سے پہلے شرف قبولیت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں… کاش کہ ہم پہلے ہی سمجھ گئے ہوتے .

عبیدالرحمان عقیل ندویؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں