رمضان کا مہینہ رحمت, مغفرت, اورجہنم سےخلاصی کامہینہ ہے,

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از محمد صدرعالم نعمانی
صدرجمعیتہ علماء سیتامڑھی

رمضان المبارک کا مہینہ جسے حدیث پاک میں اللہ کا مہینہ کہاگیا ہے ،وہ مسلمان خوش نصیب ہے جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا، اورنیکیوں سے اپنے دامن کو بھر کر اپنے رب کو راضی کرلیا,
رمضان کا مہینہ رحمت الہیٰ کے نزول کا مہینہ ہے ،یہ وہ مہینہ ہے جس میں تورات، انجیل، زبور اور دیگر آسمانی کتابیں نازل ہوئیں، اور سب سے بڑھ کر اس ماہ مقدس میں قرآن کریم کا نزول ہوا ,
رمضان کے مہینہ کے آتے ہی جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ،جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں،اور سرکش شیاطین قید کردیئےجاتےہیں ،
جب رجب کا مہینہ آتا تو اللہ کے رسول جناب محمد الرسول اللہ ﷺ دعاء فرماتے ,اللھم بارک لنافی رجب و شعبان و بلغنا رمضان ، اے اللہ رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما ،اوررمیری عمر کو رمضان تک دراز کردے ، آپ شعبان کے مہینے سے ہی رمضان کی تیاری میں لگ جاتے تھے,اور جب رمضان آتا،تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی کہ آپ پر اللہ کا خوف اس قدر غالب آجا تاتھا, کے آپکے چہرہ مبارک کا رنگ بدل جاتا .اور عبادات میں پہلے کے بنسبت اضافہ ہوجا تھا , ماہ شعبان کے آخری دنوں میں ایک بار آپ ﷺ نے تمام صحابہ کرام کو جمع کیا اور ماہ رمضان کی فضیلت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اے لوگوتمہارے اوپر ایک ایسا مہینہ آپہونچاہے جو بہت ہی مبارک اور بہت ہی عظیم الشان مہینہ ہے،اس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اللہ تعا لی نے اس مہینہ کے روزے فرض کئے جو شخص اس مہینہ میں ایک نفل عبادت کرے گا وہ ایسا ہے جیسے اس نے غیر رمضان میں فرض ادا کیا ،اور جس نے ایک فرض ادا کیا وہ ایسا ہے جیسے غیر رمضان میں ستر فرض ادا کیا ،یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا ہے۔اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے،جوشخص کسی روزہ دار کو افطار کرائےگا تو اس کی مغفرت , اوردوزخ سے آزادی کاسامان بن جائیگا اوراس کواسی قدرثواب ملے گا،جیساکہ روزہ دارکو ملے گا،مگر روزہ دارکے ثواب میں کچھ بھی کمی نہ ہوگی۔اور اگر کسی نے روزہ دار کو پیٹ بھر کرکھانا کھلایا تو حوض کوثر سے اسے سیراب کیاجائیگا کہ اسے جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی،آپ نے فرمایا مہینے کا پہلا عشرہ رحمت ہے، دوسرا عشرہ مغفرت، اورتیسرا عشرہ دوزخ سے خلاصی کا ہے ۔جس نے رمضان کا مہینہ پایا،اسے رحمت الٰہی بھی ملی، مغفرت بھی ہوئی،اور دوزخ سے آزادی کاپروانہ بھی ملا۔
ایک صحابی نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہر شخص تو اس لائق نہیں کہ وہ روزہ دار کو روزہ افطار کرائے،تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ پیٹ بھر کر کھانا کھلانا کوئی ضروری نہیں، یہ ثواب تو اللہ تعا لی ایک کھجور کھلانے، یا ایک گھونٹ پانی پلانے پر بھی دے دیتا ہے۔ یہ مہینہ سراپا رحمت و مغفرت اور جہنم سے خلا صی کا مہینہ ہے،وہ شخص بڑا ہی بدنصیب ہے جو اس ماہ مبارک کے فیوض وبرکات سے محروم رہا اور اپنے آپ کو جہنم سے خلاصی اور جنت کا مستحق نہ بنا سکا۔
رمضان کا مہینہ خداکی رحمتوں ،برکتوں اور نیکیوں کا موسم بہار ہے،رب کائنات کی طرف سے اس مہینے میں خصوصی انعامات کی بارش ہوتی ہے، جس طرح خزاں کے بعد بہار کا موسم آتا ہے کھیتیاں لہلہا اٹھتی ہیں ،درختوں میں قوت وتوانائی آجاتی ہے ،پتے ہرے بھرے نظر آنے لگتے ہیں ،کلیاں چٹخنے لگتی ہیں،طرح طرح کے پھول کھلنے لگتے ہیں ،قسم قسم کے پھل اگتے ہیں،ہر طرف شادابی وہریالی نظر آنے لگتی ہے۔ اسی طرح جب انسان کا دل گناہوں میں زنگ آلود ہوجاتا ہے تو سال میں ایک بار رمضان المبارک کا مہینہ سایہ فگن ہوتا ہے۔اسی لئے ایک موقع پر اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا,اے لوگو رمضان تمہارے اوپر آگیاہے،جو برکت والامہینہ ہے ،اس میں اللہ رب العزت تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں،اور تم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں،تمہاری خطاؤں کو معاف کرتے ہیں ،دعائیں قبول کرتے ہیں،
ماہ رمضان نیکیوں کا ایک ایسا موسمِ بہار ہےجس میں چیزوں کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، رمضان میں نفل کاثواب عام مہینے میں فرض کے برابر،اور ایک فرض کاثواب سترفرائض کے برابر ہوجاتا ہے,
رمضان کا مہینہ مسلمانوں کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا انعام ہے۔ایک حدیث میں ہے کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری اْمت تمنا کرنے لگے گی کہ سارا سال رمضان ہوجا ئے ,
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے کہ میری اْمت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی اْمتوں کو نہیں ملی ہیں، ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے، ان کے لیے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطارکے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔ جنت ان کے لیے ہر روز آراستہ کی جاتی ہے پھر حق تعالیٰ شانہ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے دنیا کی مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں۔
ابن ماجہ کی حدیث ہے ؛دو شخص اللہ کے رسول ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے،اور ایک ساتھ مشرف باسلام ہوئے، ان میں سے ایک بڑا زاہد وعابد تھا،وہ جہاد میں شریک ہوااورشہید ہوگیا،دوسراا س کے ایک سال کے بعد تک زندہ رہا،پھر انتقال کرگیا،حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رات میں خواب دیکھا: میں جنت کے دروازہ کے پاس کھڑا ہوں،وہ شخص جوبعد میں انتقال ہواتھا وہ پہلے جنت میں داخل ہوا،اور جوشخص پہلے شہید ہوا اسے بعد میں جنت میں داخلہ کی اجازت ملی،صبح ہوئی تو میں نے لوگوں کو یہ خواب سنایا،لوگوں کو بڑا تعجب ہوا،رسول اللہ ﷺ کو معلوم ہواتوآپ نے فرمایا: اس میں تعجب کی کیابات ہے,دوسرا شخص جوپہلے جنت میں داخل ہوا ،اس نے رمضان کا مہینہ پایا اور روزہ رکھا،اور سجدہ بھی زیادہ کیا۔
شہید جس کے خون کا آخری قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے ،مگر اس سے بھی بڑا وہ مسلمان خوش نصیب ہے جس نے رمضان کا مہینہ پایا،اور اپنے ایمان کو رمضان کے تقاضوں پر ڈھال دیا،اور کیوں نہ ہو,رمضان کی یہ فضیلت ,اس لئے کہ اسی مہینے میں ایک رات ایسی آتی ہے جو ہزار راتوں اور ہزاردنوں سے نہیں ،ہزار مہینوں سے بہترہے۔
پہلے زمانہ کے لوگ پیدل اونٹ گھوڑا خچرکے ذریعہ سفرکیا کرتے تھے ،اور اب تیز رفتار ہوائی جہاز کے ذریعہ ایک دن میں ،بلکہ ایک گھنٹہ میں اس سے زیادہ مسافت طے کرتے ہے ،اسی طرح لیلہ القدر میں قرب الہیٰ اور رضائے الہیٰ کی رفتار اتنی تیز کردی جاتی ہے ،کہ جو مسافت سینکڑوں مہینوں میں حاصل نہیں ہوسکتی تھی وہ اس مبارک رات میں حاصل ہوجاتی ہے۔
رمضان المبارک کے مہینے کی جتنی بڑی فضیلتیں وارد ہوئی ہیں ،اور اجروثواب کا وعدہ کیاگیاہے ،اتنی ہی وعیدیں بھی ہیں اس کے لئے جس نے نیکیوں کے اس موسم میں بھی رمضان المبارک کی خیرو برکات سے محروم رہا،ایک صحابی رسول بیان کرتے ہیں: کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے ، جب پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ، پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا : آمین ، پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو فرمایا :آمین ۔صحابی رسول نے پوچھا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے ہم نے کبھی آپ کو ایساکہتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ،آپ نے فرمایا میرے پاس حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے تھے،جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو جبرئیل نے کہا ہلاکت اور بربادی ہو اس شخص کی جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اپنی مغفرت نہ کروائ، میں نے کہا : آمین ، دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو حضرت جبریل نے فرمایا : ہلاک اور برباد ہو وہ شخص جو اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو پائے ،اور ان کی خدمت کرکے اپنی مغفرت نہ کروائے، میں نے کہا : آمین ، تیسری سیڑھی پر قدم رکھا تو حضرت جبریل نے فرمایا: ہلاکت اور بربادی ہو اس شخص کی جس کے پاس آپ کا نام لیا جائے پھر وہ آپ پر درود نہ بھیجے ،میں نے کہا : آمین ،
اس شخص سے بڑا بد نصیب انسان اور کون ہوگا جس پر جبرئیل علیہ السلام بد دعا کرے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر آمین کہے ، ایسی بددعا کی قبولیت میں شک نہیں کی جاسکتی ہے ۔
اس لئے ہر مومن کو چاہئے کہ اس ماہ کی آمد پر وہ اپنا محاسبہ کریں ، اپنی گزشتہ کوتاہیوں سے توبہ کریں ، عمل خیر کے لئے کوشاں رہیں، اس مبارک ماہ کی مبارک گھڑیوں کو نیک عمل میں صرف کریں اور خصوصی طور پر وہ اعمال جو اس مبارک ماہ میں محرومی اور حضرت جبریل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی بد دعاؤں کا سبب بنیں ان سے پرہیز کریں۔ رمضان المبارک کے روزے اخلاص و احتساب کی نیت سے رکھیں ، اس کا خصوصی اہتمام کریں اور یہ سوچیں کہ رمضان المبارک کا روزہ دین کا ایک اہم رکن ہے۔