رمضان اورقرآن:مناسبت اور تقاضے

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

مولانااسرارالحق قاسمی
جب سے دنیاقائم ہے اور روئے زمین پر انسان بستے ہیں تبھی سے اللہ تبارک و تعالیٰ کی جانب سے انسانوں کی ہدایت وکامیابی کے لئے نبیوں اورکتب و صحائف کے ارسال کا سلسلہ بھی جاری ہے۔جس طرح انسانوں کو صحیح راستہ دکھانے اور صحیح راستہ پر قائم رکھنے کے لیے باری تعالی نے ہر دور میں نبیوں و رسولوں کو مبعوث کیا ، جنہوں نے لوگوں کو حق کی دعوت دی ، انہیں حق و باطل کا فرق بتلایا ، ان کے سامنے اس بات کو واضح کیا کہ انسان کس راستہ کو اختیار کر کے کامیاب ہوسکتا ہے اور کس راستہ پر چل کر ناکام ہوسکتا ہے ۔ نبیوں نے انسانوں کو یہ بھی بتلا یا کہ ایک اللہ پر ایمان لانا چاہئے اور اسی کی عبادت کرنی چاہئے ۔ اسی میں کامیابی ہے ۔ اللہ کے علاوہ کسی اور کو معبود سمجھنا یا اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرناسراسر گمراہی ہے ۔ اسی طرح انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے اور کامیاب زندگی گزارنے کے لیے باری تعالی نے کتب و صحائف بھی نازل فرمائیں ،چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام پر توریت نازل فرمائی ، حضرت عیسی علیہ السلام پر انجیل نازل فرمائی اور آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن مجید کونازل فرمایا ۔تمام آسمانی کتابوں و صحیفوں میں لوگوں کو بتایا گیا کہ اللہ ایک ہے اور وہی عبادت کے لا ئق ہے ۔ قرآن کریم میں اللہ کی وحدانیت کے بارے میں ایک انتہائی جامع سورۃ نازل فرمائی گئی ۔فرمایا گیا: اللہ ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے ، نہ اس نے کسی کو جنا ہے اور نہ وہ جنا گیا ہے اورنہ اس کے برابر کوئی ہے ‘‘ان آیتوں کے علاوہ بھی قرآن میں متعدد آیتیں اللہ کے ایک ہونے پردلالت کرتی ہیں ۔ وحدانیت کی تعلیم اس لیے دی گئی کہ انسان کا عقیدہ اللہ پر مضبوط ہوجائے اور بندہ کا تعلق اللہ سے گہرا ہوجائے ۔ کیونکہ جس بندہ کا تعلق اللہ سے ہوجاتا ہے وہ کامیاب و بامراد ہوجاتا ہے ۔
آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید واحدایسی آسمانی کتاب ہے ، جس میں آج تک کوئی تحریف نہ ہوسکی ، نہ کسی سورۃ میں، نہ آیت میں ، نہ کسی نقطہ میں ، نہ کسی زیر ، زبر اور پیش میں ۔ جب کہ اس سے پہلے جو کتابیں نازل ہوئی تھیں وہ تحریف کی شکار ہوگئیں ۔ در اصل اللہ تعالی نے قرآن کی حفاظت کاذمہ خود لیا ہے ۔اللہ سبحانہ و تعالی نے فرمایا : ’’بے شک ہم ہی نے قرآن اتا را اور بے شک ہم ہی اس کے نگہبان ہیں‘‘ ( سورہ حجر : ۹) ظاہر سی بات ہے کہ جس کی حفاظت کا وعدہ خود اللہ سبحانہ و تعالی نے لیا ہو ، اس میں کسی طرح کی تحریف و تبدیلی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ اللہ تعالی ہی کا کرم ہے کہ اس نے قرآن کریم کو اپنے بندوں پر یاد کرنا آسان کردیا ۔ چنانچہ ہر زمانہ میں اس کے حافظوں کی بڑی تعداد موجود رہی ہے ۔ آج بھی جب کہ زمانہ پر فتن ہے ، معاشرہ میں تیزی کے ساتھ زوال آرہا ہے ، اہل ایمان اغیار کی تہذیب و تمدن کو قبول کر رہے ہیں اور مادی علوم و فنون میں دلچسپی لے رہے ہیں ، پھر بھی دنیا بھر میں لاکھوں حفاظ موجود ہیں اور ان کی تعداد آئے دن بڑھتی جارہی ہے ۔
قرآن کریم اور رمضان المبارک کے مہینے میں خاص مناسبت و انسیت پائی جاتی ہے کیوں کہ اسی مہینے میں قرآن کریم لوح محفوظ سے سمائے دنیاپر نازل کیاگیا اور پھر وہاں سے بتدریج ۲۳؍سال کے عرصے میں نبی اکرمﷺپرنازل کیاگیا ۔یوں توہمیشہ ہی قرآن پاک کی تلاوت میں ثواب ہے مگراس ماہ میں قرآن کی تلاوت کا بڑا ثواب رکھا گیا ہے ،اس لیے کہ اس مہینہ میں ہر نیک عمل کا ثواب دس گنا سے سات سو گنا تک کر دیاجاتا ہے ۔ تلاوت کرتے وقت یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ اس کو ٹھیک طور سے پڑھا جائے ، حروف کی ادائیگی کاخاص خیال رکھا جائے اور جو قرآن کی تلاوت کے اصول بیان کیے گئے ہیں ان سب کی رعایت کی جائے ۔اللہ تعالی خود قرآن کی ٹھیک ٹھیک تلاوت کرنے کی ترغیب دیتا ہے : ’’ جن لوگوں کو ہم نے کتاب عنایت کی ہے ، وہ اس کو ایسا پڑھتے ہیں جیسا پڑھنے کا حق ہے ، وہ اس پر سچے دل سے ایمان لا تے ہیں ‘‘ ۔(البقرہ : ۱۲۱)رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ،چاہے وہ مختصر ہوتی یاطویل آہستہ آہستہ ٹھہر ٹھہر کر کرتے تھے۔ چنانچہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورہ فاتحہ کی ایک ایک الگ الگ آیت پڑھتے تھے ،پہلے بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیم پڑھتے پھررکتے،اس کے بعد اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِین پڑھتے ،پھررکتے اوراس کے بعد اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِےْمپڑھتے ، پھر رکتے اور اسی طرح ٹھہرٹھہرکرآخری سورۃ تک پڑھتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تلاوت اسی طرح ہوتی تھی ، آپ ؐ ہر آیت پر رکتے اور اس سے اگلی آیت کو نہیں ملاتے تھے۔ ( بخاری ومسلم)لہذاہمیں بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے سب سے پہلے الفاظ کی ادائیگی میں مکمل احتیاط کرنی چاہئے اور ساتھ ہی کوشش کرنی چاہئے کہ سنت کے مطابق تلاوت کریں ،ایک ایک آیت کواطمینان سے پڑھیں اوراسی طرح پورے قرآن کی تلاوت کریں۔رمضان کے مہینے میں توخاص طورسے اس پہلوپرتوجہ دینے کی ضرورت ہے،کیوں کہ انفرادی طورپر ایک انسان قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے تلاوت کے آداب واصول کی رعایت توبڑی حد تک کرتاہے،مگر تراویح کی نماز میں جو قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے اس میں عام طورپر آدابِ تلاوتِ قرآن کوملحوظ نہیں رکھاجاتا ،بلکہ کئی بار توقرآن پاک کی بے حرمتی تک معاملہ پہنچ جاتا ہے اورتلاوتِ قرآن میں بہت سی فحش غلطیاں بھی سامنے آتی ہیں۔عام طورپرحفاظ تراویح کی نماز کوجلدی مکمل کرنے کے چکرمیں اتنی تیزی کے ساتھ قرآن پڑھتے ہیں کہ پیچھے مقتدیوں کوکچھ ہوابھی نہیں لگتی۔کئی بار توخود مقتدیوں کا تقاضا ہوتا ہے کہ حافظ صاحب خوب تیزی کے ساتھ قرآن پڑھیں اور تراویح جلد ختم کریں۔یاد رکھئے کہ اس ماہ مبارک کوقرآن کریم سے ایک خاص لگاؤ ہے اوراسی وجہ سے حضور اکرمﷺ خود بھی دوسرے مہینوں کے بالمقابل اس مہینے میں قرآن کی تلاوت زیادہ اہتمام سے کرتے تھے اورصحابہ کرامؓکوبھی اس کی تلقین کیاکرتے تھے،اہتمام کا مطلب صرف پڑھنانہیں ہے بلکہ آداب تلاوت کوپوری طرح ملحوظ رکھتے ہوئے پڑھنا مطلوب ہے۔ہمیں بھی رمضان المبارک کے مہینے میں قرآن کی تلاوت نہایت اہتمام و احتیاط اور آداب و اصول کی رعایت کے ساتھ کرنی چاہئے ،ساتھ ہی تراویح سنانے والے حفاظ ،مساجد کے ذمہ داران و مقتدی حضرات کوبھی چاہئے کہ وہ تراویح کو جلدی ختم کرنے پر توجہ دینے کے بجائے قرآن پاک کواچھی طرح سننے اور سنانے پر توجہ دیں ۔حدیث میں اللہ کے نبی ﷺکا ارشاد ہے کہ جو شخص رمضان کے مہینے میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام لیل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے تمام گناہوں کومعاف کردیتا ہے،ظاہر ہے کہ اس عظیم بشارت کا حقدار وہ شخص تونہیں ہوسکتا جو تراویح کی نمازہواجیسی رفتارمیں پڑھاتایاپڑھتااور جلدازجلدمسجد سے نکل بھاگنا چاہتا ہے۔ہمیں اگر اس عظیم الشان خوشخبری کا حقدار بنناہے تواس ماہ مبارک میں دیگر نیکیوں کااہتمام کرنے کے ساتھ خود بھی نہایت احتیاط اور آداب کی رعایت کے ساتھ قرآن کی تلاوت کرنی ہوگی اور ساتھ ہی تراویح میں بھی قرآن کوقواعدوآدابِ تلاوت کے ساتھ سننے سنانے کاماحول بناناہوگا۔عام طورپرتیزی میں قرآن کی تلاوت کا معاملہ وہاں پیش آتاہے جہاں پانچ یا دس یا پندرہ دن کی تراویح پڑھی جاتی ہے،چوں کہ حافظ کوزیادہ مقدار میں پڑھناہوتاہے اس لئے وہ خود بھی جلد از جلدمتعینہ مقدار کوپوراکرنے کی کوشش میں ہوتا ہے اورمقتدی حضرات بھی یہی چاہتے ہیں،ایسے لوگ عموماً پانچ ،دس یاپندرہ دن کی اپنی تراویح پوری کرلینے کے بعد بقیہ دنوں میں سرے سے تراویح نہیں پڑھتے،حالاں کہ تراویح میں ایک قرآن سنناسناناایک سنت ہے اور پورے مہینے تراویح کی نماز پڑھنا علیحدہ سنت ہے،اگر ہم ایک سنت کو جلدی(وہ بھی جیسے تیسے)مکمل کرلیتے ہیں تو اس سے دوسری سنت پوری نہیں ہوگئی،ہمیں اس کا بھی خاص خیال رکھنا چاہئے۔کیا ہی اچھاہوکہ ہم پورے ماہِ مبارک میں پابندی سے تراویح کا اہتمام کریں اور قرآن کریم کواس طرح سنیں اور سنائیں جیساکہ اس کا حق ہے۔اس سے ہمیں عبادت کامزابھی آئے گااور ساتھ ہی اجروثواب بھی پوراپوراحاصل ہوگا۔