رمضان المبار ک کے انوار وبرکات

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

از: محمد حامد ناصری قاسمی
استاذحدیث: دارالعلوم الایمان، کنشاسا، کونگو، افریقہ
روح اور جسم کے مجموعے کا نام حضرت انسان ہے۔ اس کے جسم کو مٹی سے بناکر اللہ پاک نے اس میں روح ڈال دی، پھر دنیا میں بھیج دیا گیا اور اس کی ضروریات کے لیے مثلا، اناج، غلّہ، پھل، پھول، اور پانی وغیرہ کا انتظام خالق انسان نے زمین سے کیااور مختلف موسموں میں، مختلف غذائیں پیدا کیا۔ زمین کو انسان کی تمام اشیاء ضروریہ کا مخزن بنایا۔ اس سے انسان اپنی جسمانی اور دنیاوی ضرورتیں پوری کرتا ہے؛ جب کہ روحانی غذا کا انتظام اللہ پاک نے آسمان پر رکھا اور جیسے جیسے ضرورت ہوئی روحانی غذاؤں کے ساتھ انبیاء –علیہم السلام– کو بھیجا اور ان غذاؤں کے استعمال کرنے کا طریقہ سکھلایا۔
انہیں روحانی غذاؤں میں سے ایک غذا روزہ ہے۔ یہ غذا صرف اور صرف رمضان کے موسم میں میسر ہوتی ہے۔ پورے سال میں یہی ایک مہینہ ہے جس میں ہم روزہ رکھ کر، اپنی روحانی غذا حاصل کرتے ہیں اور اس مہینہ کا اہتمام کرکے رمضان کے انوار وبرکات سے محظوظ ہوتے ہیں۔
رمضان المبارک کی بڑی فضیلتیں قرآن وحدیث میں آئی ہیں۔ امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ ماہ رمضان کاروزہ فرض عین ہے۔ عذر شرعی کے سوا کسی بھی صورت میں چھوڑنے کی اجازت نہیں۔ اللہ پاک نے روزے کی فرضیت کا ذکر قرآن کریم میں یوں فرمایا: ترجمہ: اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے (امتوں کے) لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ۔ (البقرہ:183)
حضرت تھانوی( رحمہ اللہ) نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ روزہ رکھنے سے عادت پڑے گی نفس کو اس کے متعدد تقاضوں سے روکنے کی اور اسی عادت کی پختگی، بنیاد ہے تقوی کی۔ یہ روزہ کی ایک حکمت کا بیان ہے؛ لیکن حکمت کا اسی میں انحصار نہیں ہوگا خدا جانے اور کیا کیا ہزاروں حکمتیں ہوں گی۔ (بیان القرآن)
رمضان کی خصوصیات:
رمضان المبارک کی فضیلت وبرکت کا ان تحریروں میں کما حقہ احاطہ کیا جانا ممکن نہیں۔ اکابرین کے رسالے موجود ہیں، ان میں سے ایک مقبول ترین رسالہ شیخ الحدیث مولانامحمد زکریا کاندھلوی (رحمہ اللہ) کا بھی ہے۔ اس کا مطالعہ بہت مفید ہے۔ نمونہ کے طور پر میں یہاں چند باتیں ذکر کروں گا۔ سب سے اہم اور خاص بات یہ ہے کہ اللہ پاک نے امت محمدیہ (علی صاحبہا الصلاۃ والسلام) کے لیے اس ماہ کا انتخاب فرمایا کہ یہ مہینہ شروع ہوتے ہی روزے کو فرض قرار دیا۔ کسی اور مہینہ میں اگر روزہ رکھا جائے؛ تو فرضیت ادا نہیں ہوگی۔ دوسری اہم بات یہ کہ اس ماہِ مقدس میں قرآن کریم کا نزول ہوا، جس کو اللہ پاک نے انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ بنایا، اور ہدایت یافتہ انسان ہی دراصل دنیا وآخرت میں کامیاب ہے۔ اللہ پاک قرآن کریم میں فرماتا ہے: ترجمہ: (وہ تھوڑے دن) ماہ رمضان ہے جس میں قرآن مجید بھیجا گیا ہے، جس کا (ایک) وصف یہ ہے کہ لوگوں کے لیے (ذریعہ) ہدایت ہے اور (دوسرا وصف) واضح الدلالتہ ہے ،منجملہ ان (کتب) کے جو (زریعہ) ہدایت (بھی) ہیں اور (حق و باطل میں) فیصلہ کرنے والی (بھی) ہیں سو جو شخص اس ماہ میں موجود ہو اس کو ضرور اس میں روزہ رکھنا چاہیے سو جو شخص بیمار ہو یا سفر میں تو دوسرے ایام کا (اتنا ہی) شمار (کرکے ان میں روزہ) رکھنا (اس پر واجب) ہے الله تعالیٰ کو تمھارے ساتھ (احکام میں) آسانی کرنا منظور ہے اور تمھارے ساتھ (احکام و قوانین مقرر کرنے میں) دشواری منظور نہیں اور تاکہ تم لوگ (ایام ادا یا قضا کی) شمار کی تکمیل کرلیا کرو (کہ ثواب میں کمی نہ رہے) اور تاکہ تم لوگ الله تعالیٰ کی بزرگی (وثنا) بیان کیا کرو اس پر کہ تم کو (ایک ایسا) طریقہ بتلادیا (جس سے تم برکات و ثمرات صیام رمضان سے محروم نہ رہو گے) اور (عذر سے خاص رمضان میں روزہ نہ رکھنے کی اجازت اس لیے دیدی) تاکہ تم لوگ (اس نعمت آسمانی پر الله کا) شکر ادا کیا کرو۔ (البقرہ:185)
یہاں ایک شبہ ہوسکتا ہے کہ اللہ پاک نے سورۂ قدر میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے قرآن کریم کو شب قدر میں نازل کیا، اور یہاں مطلق رمضان کا ذکر ہے، اسی شبہ کو ذکر کرکے حکیم الامت (رحمہ اللہ) نے اس کا جواب دیا ہے۔ حکیم الامت فرماتے ہیں: “قرآن مجید میں دوسری آیت میں آیا ہے کہ ہم نے قرآن مجید شب قدر میں نازل فرمایا اور یہاں رمضان شریف میں نازل کرنا فرمایا ہے، سو وہ شب قدر رمضان کی تھی اس لیے دونوں مضمون موافق ہوگئے اور اگر یہ وسوسہ ہو کہ قرآن مجید تو کئی سال میں تھوڑا تھوڑا کرکے نبی (ﷺ) پر نازل ہوا ہے، پھر رمضان میں یاشب قدر میں نازل فرمانے کے کیا معنی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر دفعتًا رمضان کی شب قدر میں نازل ہوچکا تھا۔ پھر آسمان دنیا سے دنیا میں بتدریج کئی سال میں نازل ہوا پس اس میں بھی تعارض نہ رہا۔ (بیان القرآن)
اس ماہ مبارک کی تیسری خصوصیت یہ ہے کہ یہ مہینہ تزکیہ نفس سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان اس ماہ میں نفس کی غلامی نہیں کرتا؛ بل کہ اپنے نفس کو غلام بناتاہے، اللہ کے حکم کے تابع کرتا ہے، تیس دن مسلسل بغیر کسی حیلہ کے اپنی خواہشات کو مار کر، اپنے نفس کی صفائی میں لگ جاتاہے۔ یہ تیس دن کا روزہ نفس کے لیے تربیتی کیمپ کا حکم رکھتا ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان اپنے علاقے کے نظام الاوقات کا اعتبار کرتے ہوئے، ایک وقت میں، ایک آواز پر، اپنے روزے کو شروع اور ختم کرتے ہیں۔
اس ماہ مبارک کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صبر کا مہینہ ہے۔ انسان اس ماہ مبارک میں، تمام خواہشات نفسانی اور لذات جسمانی کو ترک کرکے، صبر کا دامن تھامتا ہے، گرمی کی تمازت، سردی کی شدت، کام کا بوجھ، پیسوں کی محبت، پیٹ کی آگ، ان سب کو تیاگ دیتا ہے، اور ایک اللہ کے حکم کے سامنے اپنے آپ کو حوالے کردیتا ہے۔ نبی کریم(ﷺ)نے اس ماہ مبارک کو صبر کا مہینہ قرار دیا ہے، اور صبر کا بدلہ جنت ہے۔ (الترغیب والترہیب،1482کتاب الصوم)
اس ماہ مبارک کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ اس کو رحمت کا مہینہ کہا گیا ہے۔ مسلمانوں سے ارادی وغیر ارادی طور پر پورے سال گناہوں کا ارتکاب ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ گناہوں کے انبار تلے دب جاتا ہے، جب رمضان المبارک کا مہینہ آتا ہے تو اللہ کی رحمتوں کا نزول اس کے گناہوں کو بھی ڈھانپ لیتی ہے۔ بندہ اس موسم کا فائدہ اٹھاکر اپنےگناہوں کی مغفرت طلب کرتا ہے، تو اللہ معاف فرمادیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس ماہ کا اول عشرہ رحمت ہے۔ (الترغیب والترھیب،1482)
اس ماہ کی چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ روزانہ اللہ پاک اپنے منادی سے بندوں کو نیکی کی طرف بلواتا ہے، اور گناہ کرنے والے بندوں کو گناہوں سے رکنے کی تلقین کرواتا ہے۔ (سنن الترمذی: 682/ابواب الصوم عن رسول اللہ ﷺ) اس لیے ہم سب کو اللہ پاک کے منادی کا جواب دیتے ہوئے، زیادہ سے زیادہ اعمال صالحہ کی کوشش کرنا چاہیے اور گناہوں سے بچنا چاہیے۔
اس ماہ مبارک کی ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ انسان اس مہینہ میں اعمال خیر کے اندر زیادتی کردیتا ہے، اور شیطانی وسوسوں سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس سے شیطانی اعمال کا صدور نہیں ہوتا، جو جہنم میں جانے کا سبب بنتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رمضان کی برکت سے اللہ پاک شیطانوں کو قید کردیتا ہے ،تاکہ بندہ کے اعمال میں خلل نہ ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں اور شیطان قید کردیے جاتے ہیں۔( صحیح البخاری: 1899/کتاب الصوم)
اس ماہ مبارک کی آٹھویں خصوصیت یہ ہے کہ مؤمن بندہ جو بھی اعمال خیر کرتا ہے، اس کا ثواب اس کو کئی گنا ملتا ہے۔ حدیثوں میں ستر گنا زیادہ ثواب کا ذکر آیا ہے؛ لیکن یہ تعداد کثرت ثواب بیان کرنے کے لیے ہے؛ کیوں کہ اللہ کی ذات ثواب کے عدد کا احاطہ نہیں کرتی، اللہ جس کو جتنا چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ حدیث پاک میں ہےکہ اس مہینہ میں اگر کسی نے نفلی عمل کیا تو گویا اس نے رمضان کے علاوہ میں ایک فرض ادا کیااور اگر کسی نے اس ماہ میں ایک فرض اداکیا تو اس نے گویا رمضان کے علاوہ میں سترفرض ادا کیے۔( الترغیب والترھیب،1483)
اس ماہ مبارک کی نویں خصوصیت یہ ہے کہ اگر کسی نے رمضان المبارک کا مکمل روزہ رکھا، تو آئندہ رمضان تک یہ روزے اس کے لیے کفارہ ہوں گے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تک بندہ گناہ کبیرہ سے بچتا رہے گا، اس کے لیے رمضان سے رمضان کے درمیان کا حصہ کفارہ ہے۔ ( مسلم،233/کتاب الطہارۃ/ مسند احمد،9197)
اس ماہ کی دسویں خصوصیت یہ ہے کہ بندہ کے رزق میں اللہ پاک ظاہری وباطنی برکت رکھ دیتا ہے، اس کے رزق میں زیادتی ہوجاتی ہے اور وہ جو بھی خرچ کرتا ہے اس کا ثواب، خرچ کرنے والے کو تو ملتاہی ہے، جس پر خرچ کیا جارہا ہے اس کو بھی ملتا ہے، یعنی لینے اور دینے والے دونوں ثواب میں برابر ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: اور اس ماہ میں مؤمن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے، اور جس نے کسی روزہ دار کو افطار کرایا، تو یہ افطار کرانا اس کے گناہوں کی مغفرت کا سبب اور جہنم سے خلاصی کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور افطار کرنے اورکرانے والے کو بغیر کسی کمی کے ثواب ملتا ہے۔(الترغیب والترھیب،1483)
اس ماہ کی گیارہویں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں شب قدر ہے اور اس رات کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہزار مہینوں کی رات سے بہتر ہے۔ ہزار مہینہ کا مطلب یہ ہے کہ شب قدر 83/سال 4/ماہ سے افضل ہے۔اگر کوئی شخص شب قدر میں عبادت کرلیتا ہے، تو اس کو تراسی سال چار ماہ سے زیادہ دنوں کی عبادت کا ثواب ملےگا۔ یہ خصوصیت صرف نبی آخر الزماں ﷺ کی امت کے لیے ہے، پہلی امتوں کو یہ فضیلت حاصل نہیں تھی۔
علامہ صاوی نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بنی اسرائیل کے ایک شخص کے مجاہدانہ کارنامے کا ذکر ہوا، کہ اس نے ایک ہزار سال تک مسلسل اللہ کے راستہ میں جہاد کیا، تو آپ ﷺ کو تعجب ہوااور اپنی امت کے لیے، اس کی تمنا کرنے لگے۔ اللہ پاک سے کہا: کہ اے اللہ آپ نے میری امت کی عمر سب سے کم رکھی ہے ،اور اعمال کے اعتبار سے بھی یہ کم ہیں، تو اللہ پاک نے آپ ﷺ کو شب قدر عنایت فرمایا اور یہ اس امت کی خصوصیت میں سے ہے۔ (حاشیۃ الصاوی،6/306)
میں نے ماہ مبارک کی گیارہ خصوصیات کا ذکر کیا، اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری خصوصیات ہیں، جس کا احاطہ یہاں ممکن نہیں۔ اس ماہ مبارک کا جو مخصوص عمل ہے، اس کے بھی بہت سارے فوائد ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ بہتر ہے۔ (البخاری،1904) اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ پاک بغیر کسی واسطہ کے بندہ سے اس کا معاملہ کرتا ہے، وجہ یہ ہے کہ یہ مخصوص عمل خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے، اس لیے اللہ پاک خود اس بندہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، چناں چہ حدیث قدسی ہے: “روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دونگا”۔ (صحیح البخاری،7492/مسلم،1115)
اس ماہ مبارک میں کرنے اور نہ کرنے کے کام:
عبادات کے کچھ اصول ہوتے ہیں، ان اصول پر عمل پیرا ہوکر عبادتوں کی روح حاصل کی جاسکتی ہے، مثلا نماز ہے، اس کا اصول یہ ہے کہ جو چیزیں نماز سے باہر حلال تھی، مثلا کھانا پینا، بات کرنا، چلنا پھرنا، ہنسنسا، کھیلنا، کودنا وغیرہ یہ سب نمازمیں منع ہوجاتا ہے، اسی طرح حج اور زکاۃ کے بھی اصول ہیں کہ ان اصول کو توڑ کر عبادت کی روح تک نہیں پہنچا جاسکتا، بلکہ اکثر اوقات تو عبادتیں فاسد ہوجاتی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح روزہ میں بھی کچھ کام ہیں جو کرنے اور نہ کرنے کے ہیں، کہ ان کو اپنا کر ہم روزہ کی روح حاصل کرسکتے ہیں اور روزہ کی روح جیسا کہ قرآن نے کہا تقوی ہے، آج ہم روزہ تو رکھ لیتے ہیں مگر اس کی روح (تقوی) کی خوشبو تک ہمیں میسرنہیں ہوتی، اس کی وجہ وہی ہے، کہ اصول کو بالائے طاق رکھ کر ہم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ روزہ نام ہے سحری کرکے پورے دن بھوکے پیاسے رہنے کا، تو ہمارے اندر تقوی کیسے آئےگا؟
روزہ کی روح حاصل کرنے کےلیے سب سے زیادہ ضروری اور اہم چیز اخلاص ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ایک مسلمان کو چاہیےکہ روزہ کی حقانیت اور اس کے فرض ہونے پر ایمان رکھے، پھر روزہ رکھنے پر جو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اس پر اللہ کی ذات سے پر امید رہے، پھر روزہ رکھے، تو ان شاء اللہ یہ روزہ انھیں تقوی کے قریب تر کردےگا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: “جس نے ایمان کے ساتھ، ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھا؛ تو اس کے گزشتہ صغیرہ تمام گناہ معاف ہوجائیں گے”۔ (صحیح البخاری،38کتاب الایمان/مسلم،760کتاب المساجد)
روزہ کی روح حاصل کرنے کےلیے جو دوسری اہم چیز ہے، وہ اپنے اعضاء کو فحش کام سےبچانا، گالی گلوج اور جھگڑے فساد سے بچنا ہے، اگر کوئی روزہ دار ان فحش کام سے نہیں بچتا ،تو روزے کی روح حاصل نہیں کرسکتا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ بری بات نہ کرے اور نہ جہالت کی بات کرے۔ اگر کوئی شخص اس سے جھگڑا کرے یا گالی گلوج کرے؛ تو اس کو کہے کہ میں روزہ سے ہوں”۔ (البخاری،1904/کتاب الصوم)
روزہ کی روح حاصل کرنے کےلیے ضروری ہے کہ انسان جس طرح فحش کام سے بچتا ہے، فحش بات اور جھوٹ سے بھی بچے۔ اگر جھوٹ سے نہیں بچے گا؛ تو روزہ رکھنے کا فائدہ نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:” جو جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑے، تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ صرف کھانا پینا چھوڑے رکھے”۔ (صحیح البخاری،1903)
رمضان چوں کہ عبادتوں، ریاضتوں اور تلاوتوں کا مہینہ ہے؛ اس لیے ان چیزوں کی کثرت کرنا چاہیے۔ ایک نفل عبادت کا ثواب ایک فرض کے برابر، ایک فرض کا ثواب ستر فرض کے برابر اس لیے نوافل کا اہتمام ہو، فرائض سے غفلت نہ کیا جائے، اس ماہ کا تعلق قرآن سے ہے اس لیے کثرت سے قرآن کی تلاوت کی جائے۔
رمضان میں نافرمانی کیوں؟
پہلے حدیث گزرچکی ہے کہ رمضان میں شیاطین قید کردیے جاتے ہیں، تو اب سوال یہ ہے کہ روئے زمین پر ماہ مبارک میں اللہ کی نافرمانی کیوں ہوتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اولادِ آدم کو گمراہ کرنے والی دو قوتیں متحرک ہیں، صرف ایک قوت کو بے بس کردیا جاتا ہے اور دوسری قوت جو انسانی نفس ہے، اس کو قابو کرنا روزہ دار کا کام ہے اور ہم اس کو قابو میں نہیں کرتے۔ اس کو قابو میں کرنے کا طریقہ اوپر گزرا کہ رمضان کے روزے اللہ ورسول ﷺ کے بیان کردہ ہدایات کی روشنی میں رکھے جائیں، اس سے تقوی حاصل ہوگا اور جب تقوی آئے گا؛ تو نافرمانیاں ختم ہوجائیں گی۔
ماہ رمضان میں ایک کام جو اہم ہے، وہ ہے تراویح ہے۔ علما نے لکھا ہے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے، جو حضرات آٹھ پڑھتے ہیں اور آٹھ کو ہی سنت کہتے ہیں، وہ آٹھ ہی پڑھیں اور جن حضرات کے یہاں بیس سنت ہے، وہ بیس ہی پڑھیں؛ لیکن ایک دوسرے کو طعن وتشنیع نہ کریں؛ ورنہ ان آٹھ اور بیس کا ثواب بھی اکارت ہوجائے گا۔ لیکن پڑھنا ضرور ہے کیوں کہ یہ موقع سال میں صرف ایک بار ہی آتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تراویح کے سلسلہ میں ارشاد فرمایاکہ جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان میں قیام کیا(تراویح پڑھی) تو اس کے گزشتہ صغیرہ گناہ معاف ہوجائیں گے۔ (البخاری،37/کتاب الایمان)
اس مہینہ میں ایک دوسرا اہم کام جو کرنے کا ہے، وہ اعتکاف ہے، علما نے اس کو سنت مؤکدہ علی الکفایہ لکھا ہے، مطلب یہ کہ اگر محلہ کی مسجد میں کسی نے بھی آخری عشرہ میں اعتکاف نہیں کیا؛ تو سارے محلہ والے گنہ گار ہوں گے، اس لیے کم از کم ایک آدمی ہم میں سے اعتکاف میں ضروور بیٹھے۔ پوری زندگی نبی کریم ﷺ کا معمول رہا، آپ نے کبھی بھی اعتکاف نہیں چھوڑا؛ بلکہ ایک سال تو آپ ﷺ نے پورے مہینہ اعتکاف کیا۔ (صحیح البخاری،813/کتاب الاذان)
خلاصہ یہ کہ ماہ رمضان اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ چند دنوں کے لیے آن پہنچاہے، اللہ پاک نے اس ماہ کے لیے پورے سال جنت کو سنوارا ہے، اس ماہ میں روزہ رکھنے والوں کے لیے جنت کی حوروں کو سنوارا ہے.(جمع الجوامع للسیوطی،6990) اس لیے اس کی قدر کرتے ہوئے اپنے اوقات کو عبادتوں اور ریاضتوں میں صرف کرنا چاہیے۔ ہمیں فضول اور لا یعنی کام سے بچنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس ماہ مبارک کی قدر کرنے کی ہمت، طاقت اور توفیق دے!آمین!