ذلت و رسوائی کی حقیقت!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد اطہر القاسمی ارریہ/ بنگلور
کہتے ہیں کہ زندگی بڑی عزیز ہے اور عزت بڑی پیاری۔ اسی لئے دنیا کا ہر انسان عزت و وقار کے حصول کیلئے سوجتن کرتا ہے اور ذلت و رسوائی کے ہر موڑ سے بچنے کی پوری کوشش کرتا ہے۔
آئیے آج ہم اس ذلت و رسوائی کی حقیقت کا پتہ لگاتے ہیں۔
جب ہم اپنی زندگی کے شب و روز پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اس جھان رنگ و بو کا ہر فرد بشر رسوائ اور ذلت و خواری سے بچنے کی ہرممکن کوشش کرتا رہتا ہے؛
یہی وجہ ہیکہ :
وہ جھوٹ بولنے سے بچتا ہے اگر راز فاش ہو گیا تو رسوائ ہوگی،چوری نہیں کرتا کہ پکڑے گئے تو رسوائ ہوگی،پھٹے پرانے کپڑے نہیں پہنتا کہ اچھوں کے درمیان رسوائ ہوگی،چھوٹی چھوٹی تقریب میں حیثیت سے زیادہ خرچ کرتا ہے کہ نہیں تو سماج میں رسوائ ہوگی،عید پر مقروض ہونے کے باوجود نئے نئے کپڑے سلواتا ہے کہ پرانے کپڑے پر عیدگاہ میں رسوائ ہوگی،مصیبتوں کے انبار کے درمیان مسکراتا ہے کہ یاران محفل کے درمیان آنسو بہانے سے رسوائ ہوگی،شادیوں میں سود لیکر تام جھام اور فضول خرچی کرتا ہے کہ سماجی حیثیت مجروح ہوگی اور یوں سینکڑوں کے درمیان رسوائ ہوگی۔الحاصل ہر انسان اپنی سماجیات،سیاسیات،معاشیات اور معاشرت یعنی زندگی کے ہر شعبے اور گوشے میں ہر ممکن کوشش کرتا رہتا ہے کہ اسےسماج و معاشرے میں عزت و احترام حاصل ہو ،اس کی حیٹیت عرفی مجروح نہ اور اسے زندگی کے کسی موڑ ہر کسی بھی قسم کی رسوائ کا سامنا کرنا نہ پڑے!یہ بڑی عمدہ انسانی خصلت ہے کہ انسان کے باطن کی طرح اس کا ظاہر بھی صاف ستھرا اور بےداغ ہو!
مگر میرے دوستو!
کل رات بنگلور کی ایک مسجد میں میں نے عشا کی نماز اور تراویح ادا کی،امام صاحب کی آواز میں بڑی دل سوزی تھی،میں نے فرض،تراویح اور وتر تکان کے باوجود بوجھ کے بجائے اس شوق سے پڑھی کہ دل روتا رہا اور رکعتیں تمام ہوگئیں۔
امام موصوف نے عشا کے فرض میں غالبا چوتھے پارہ کی جب یہ آیت پڑھی:
“ربنا انک من تدخل النار فقد اخزیتہ”
اے ہمارے پروردگار!
بلاشبہ آپ نے کل قیامت کے دن اپنے جس بندے کو دوزخ کی آگ میں ڈال دیا تو پروردگار!اسے تو آپ نے ذلیل و رسوا کر دیا ۔ اور بات بھی تو یہ ہے کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والے کا مددگار کون ہوتا ہے؟
دوستو!
آج قرآن مقدس کی اس آیت مبارکہ نے میرے ذہن و دماغ پر ایک عجیب کیفیت پیدا کردی اوردل و دماغ نے پوری زندگی کی ان تمام رسوائیوں،ذلتوں،ناکامیوں اور محرومیوں کو فرضی قرار دے دیا اور آج اچانک مجھے لگا کہ ہماری زندگی،اس کے شب و روز اور اس کی صبح و شام میں مختلف مقامات اور مختلف مواقع پر پیش آنے والی رسوائیاں یا اس کے خطرات؛ہرگز رسوائی نہیں، ہرگز ذلت وخواری اور توہین و تذلیل نہیں؛ اور اگر عارضی طور پر مان بھی لیا جائے تو مٹھی بھر لوگوں کے چند روزہ سماج کے درمیان کی یہ رسوائ قیامت کی اس ابد الآباد کی ذلت و رسوائ کے مقابلہ میں کوئ حیٹیت نہیں رکھتی۔
آج محسوس ہوا اور قرآن مجید سے زیادہ دنیا کی کون سی کتاب احساس دلاسکتی ہے کہ اصل توہین و تذلیل اور محرومی و ناکامی اور ذلت و رسوائی تو یہ ہے کہ:
کل قیامت کے روز باری تعالی اپنے اعمال بد کے نتیجے میں نعوذبااللہ ثم نعوذبااللہ جھنم کے حوالے کردے!!!
دوستو!
آج مجھے لگا کہ ہم دانا و بینا اور زیرک و ذہین اشرف المخلوقات ہوکر بھی کتنے نادان نکلے کہ اس عارضی دنیا کے حصول عزت اور اس کی ذلت و رسوائی سے بچنے کےلئے کیا کیا نہیں کرتے؛مگر اس دارفانی کے بعد دار بقا کے عزت و وقار اور ہمیشہ ہمیش کی ذلت و رسوائی سے حفاظت کیلئے کیا کیا کررہے ہیں؟
آئیے آج ہم آپ رمضان کے اس مقدس مہینے کی سعادتوں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ایسے اعمال و کردار،عبادت و ریاضت اور نیکی و تقوی کی گٹھری باندھ کر پوری زندگی کے لئے زاد سفر بنالیں کہ جب خالق کائنات کے حضور حاضری ہو تو جملہ انسانوں کے عالمی اجتماع کے موقع سے وہ خوش ہوجائے اور اس کی رحمت کا دریا یوں جوش مارے کہ جہنم کی ذلت و رسوائی سے ہمیشہ کی حفاظت کے پروانہ کا اعلان ہوجائے اور عزت و احترام اور پورے شان و وقار کے ساتھ جنت الفردوس میں جگہ عنایت فرمادے۔کہ:
“فمن زحزح عن النار و ادخل الجنہ فقد فاز” ( القرآن)
کہ جو شخص جھنم سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا اصل میں کامیاب وہی ہے!!!

ذلت و رسوائی کی حقیقت!” ایک تبصرہ

  1. لطیف سلطان پوری نے کہا:

    ماشاء اللہ بہت عمدہ کوشش

تبصرے بند ہیں