دیہی ہندوستان اور غریب ریاستوں میں صحت کے مسائل

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

حکیم نازش احتشام اعظمی

ترقی کے خوش نما دعووں کے باوجود ہمارے ملک کی لگ بھگ 48 فیصد آبادی ہندوستان کی جن پسماندہ تر اور غریب ترین ریاستوں میں زندگی بسر کرتی ہے ان صوبوں کی تعداد سرکاری اعدادو شمار کے مطابق 9ہے۔ہم نے یہ تعداد اس لئے بیان کی ہے تاکہ ہمارے شعبہ صحت اور عام ہندوستانیوں کو درپیش مشکلات کا اندازہ لگایا جاسکے۔خیال رہے کہ ہندوستان کی مذکورہ بالا 9ریاستوں کو خود حکومت نے پسماندہ ریاستوں کی فہرست میں شامل کیا ہے،جس کی تمام تفصیل حکومت ہند کی متعلقہ ویب سائٹ پر موجود ہے۔مندرجہ 9غریب ترین ریاستوں کی رپوررٹ بتاتی ہے کہ یہاں شعبہ صحت کی حالت افسوس ناک حدتک مایوس کن ہے۔رپورٹ بتاتی ہے کہ ان ریا ستوں میں نوزائیدہ بچوں کی اموات کے 70 فیصد کیس ہوتے ہیں اور 62 فیصد خواتین کی دوران زچگی اموات ریکارڈ کی گئیں ہیں، جسیایسے وقت میں اطمینان بخش نہیں کہا جاسکتاجب ہمارا ملک ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں اپنا نام درج کرانے کی تگ ودومیں سرگرم ہے۔ان ریاستوں کے علاوہ مجموعی طور پر پورے ملک بچوں کی حالت مزید خراب ہوتی جارہی ہے،غربت میں بے تحاشہ اضافہ ہورہا ہے اور علاج میں درپیش مشکلات کی وجہ سے ان کے اندر طرح طرح کی بیماریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔مگر ان کے تدارک کی کوشش ابھی بھی مشکوک ہیں۔ہمارے شعبہ صحت کی حالت کس درجہ حیران کن ہے اس کا اندازہ بس اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ غریب ترین ریاستوں میں سے صرف اتر پردیش، بہار، مدھیہ پردیش اور راجستھان وغیرہ کی ہی رپورٹ دیکھی جائے تو معلوم ہوتاہے کہ پورے ملک میں نوزائیدہ بچوں کی مجموعی اموات میں سے 58 فیصداموات صرف ان ریاستوں میں ہی ہوتی ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے ذریعہ جاری کردہ ایک اعداد و شمار کے مطابق ان ریاستوں میں عوامی صحت اور خاندانی بہبود کے لئے طے شدہ بجٹ میں سے انتہائی کم رقم خرچ کی جاتی ہے جو ہماری انتظامی صلاحیتوں اور محکمہ صحت کی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سستی اور عدم دل چسپی کی جانب اشارہ کرتا ہے۔کہاں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ان غریب ریاستوں میں عوامی صحت اور خاندانی بہبود کے فنڈ سے بھی زیادہ خرچ کیا جا تا، تاکہ کسی بھی غریب شہری کو صحت کی عظیم دولت سے محروم رہ جانے کی شکایت نہیں رہتی،مگر معاملہ با لکل اس بر عکس نظر آتا ہے۔ان ریاستوں میں عوامی صحت کے بگڑ نے اور نوزائیدہ بچوں اور دوران تولید خواتین کی اموات کی دوسری اہم وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کمیونٹی صحت مراکز اور پرائمری ہیلتھ سینٹر کی تعدادضروت سے بھی  کم ہے اوراس پر المیہ یہ بھی ہے کہ ان صحت مراکز میں ڈاکٹروں اور دیگرورکرز کی تعداد بھی نا کافی ہے۔

دہائیوں سے وہاں اس اہم ترین شعبہ کو عوام کی امیدوں اور ضرورتوں کے مطابق فعال بنانے اور عملہ کی کمی پوری کرنے کی مثبت کوشش بھی نہیں ہورہی ہے۔اس سلسلے میں متعلقہ محکمہ کے وزراء اور افسران کی جانب سے عموماً یہی جواب دیا جاتا ہے کہ ان ریاستوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں ڈاکٹر زاور ہیلتھ ورکرز جانا ہی نہیں چاہتے۔سوال یہ ہے کہ جب بحالی ہی نہیں ہوگی تو ان علاقوں میں نئے عملے جائیں گے کیسے۔دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان دوردراز علاقوں میں ماڈرن پیتھی کے ڈاکٹرز نہیں مل رہے ہیں یاانہیں وہاں جانا پسند نہیں ہے تو یہاں لاکھوں کی تعداد میں بی یو ایم ایس،بی اے ایم ایس اور دیگر دیسی طریقہ علاج کے تعلیم یافتہ مستند اور قابل گریجویٹس موجود ہیں اور وہ چاہتے بھی ہیں کہ حکومتوں کی جانب سے انہیں عوام کی صحتی خدمات انجام دینے کا موقع دیا جائے۔اگر ان دیسی طریقہ علاج کے سند یافتہ ڈاکٹروں کو ہی یہ موقع فراہم کردیا جائے تو بڑی حد تک غریب ریاستوں اور دیہی علاقوں میں صحت کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے اور نوزائیدہ بچوں اور دوران زچگی ہلاک ہوجانے والی ماؤں کی قیمتی زندگی کو بچایا جاسکتا ہے۔مگر اس کیلئے مضبوط سیاسی قوت ارادی کی ضرورت ہے جس کا اجمالی طور پر پورے ملک فقدان نظرآتا ہے۔جب تک ہماری سیاسی لیڈر شپ اس معاملے میں قوت ارادی سے آراستہ نہیں ہوگی اورعوامی صحت کیلئے ایماندارنہ فکر نہیں لے گی اس وقت تک اس مسئلے کو حل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی نمائندوں کے اندر اس شعبے کی فکرلینے اور قوت ارادی پیدا کرنے پر کس طرح انہیں مجبور کیا جائے۔اس کا سیدھا ساجواب یہی ہے کہ اس کے لئے خود عوام یعنی رائے دہند گان کو اپنے اندر بیداری لانی ہوگی۔انہیں اپنے سیاسی نمائندوں کی آنکھوں میں آ نکھیں ڈال کر یہ بتا نا پڑے گا کہ آپ نے ہماری صحت اور نوزائیدہ بچوں کی اموات کے مسائل کو دور کرنے کا ڈھیروں لبھاونا وعدہ کیا تھا۔ہم آپ کے وعدوں پر اعتبار کر کے اپنی نمائندگی اور قیادت کا موقع آپ کو دیا۔مگر اقتدار ہاتھ میں آتے ہی آپ ہم غریبوں سے کئے گئے سبھی خوش نما وعدے فراموش کر گئے،لہذ اب ہم نے بھی طے کیا ہے کہ اس وقت تک ہم آپ کی باتوں اورجھانسے میں نہیں آئیں گے جب تک ہمارے اس ہلاکت خیز مسائل کو عملی طور پر حل نہیں کیا جاتا۔نیتاؤں اور اپنے سیاسی نمائندوں سے دوٹوک بات کرنے کا جذبہ لوگوں کے اندر اجتماعی قوت کو یکجا کرکے ہی پیدا کیا جاسکتا ہے۔

تعلیمی لحاظ سے آگے بڑھ رہے معاشرے میں اب اس قسم کاحوصلہ جٹانا آسان ہوگیا ہے۔آپ نے بارہا دیکھا ہوگا کہ دوردراز دیہی مقامات پر اپنی بنیادی ضروریات اور انتخابی وعدے پورے نہ کئے جانے پر گاؤں کے لوگوں نے متحد ہوکر سرے سے انتخابات کا ہی بائیکاٹ کردیا اور اس کے بعد اولیت کی بنیاد پر ان گاؤں والوں کی اجتماعیت اور بیداری کو دیکھ کر حکومتیں سہم گئیں اور ان کے مسائل حل کردیے گئے۔اپنے مطالبات کیلئے مخالفت اور مزاحمت کا یہ طریقہ کتنا درست اورمناسب ہے، اس پر علیحدہ سے بحث ہو سکتی ہے، لیکن وعدوں کے سراب میں بے بس ہوچکے دیہی عوام کے ذریعہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کیلئے اگر دباؤ بنانے کا کوئی طریقہ اختیار کیا جاتاہے تو اس میں کھوٹ دیکھنے کے بجائے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ان کے مسئلہ کو سمجھا جائے اور گزشتہ چند برسوں میں ملک کے اندر جو سیاسی تبدیلی اورعوام کی قوت ارادی نے جو قدم اٹھائے ہیں اس کا مستعدی کے ساتھ نوٹس بھی لیا گیا اور سیاسی قوتوں کو انہیں نظر انداز کرنا مہنگا بھی پڑا ہے،یہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اگر عوام کے اندر اسی طرح بیداری آتی رہی تو دھوکے اور فرسودہ وعدوں کی سیاست ایک دن خود ہی دم توڑ دے گی۔ دوسری جانب شہر کے ووٹ بھی عوامی مسائل خصوصاً شعبہ صحت کو فعال بنانے میں ایک نتیجہ خیز اسلحہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ وہ اپنے اس آئینی حق کا محتاط استعمال کریں تو سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی نیند ٹوٹے گی۔شہروں میں جہاں صحت کے شعبے اپنی ذمہ داریوں سے جی چراتے ہیں اور انہیں یہ خوف نہیں رہتاکہ ان کی گوشمالی بھی کی جاسکتی ہے۔ انہیں عوامی بیداری سے سبق لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔حکومتیں عوام کے رجحانات کو بھانپ کر اپنی کارکردگی درست کریں گی اور عوام کو بے یارو مددگار چھوڑنے سے پہلے ان پر اپنی بقا کا خوف سوار ہوجائے گا،عوام کی بیداری کا خوف ہی انہیں جھوٹے وعدے اور عوام کو نظرانداز کرنے کے رویے سے باز رکھ سکتا ہے۔قومی دارالحکومت دہلی میں بھی حکومت دہلی کی جانب سے صحت کے شعبہ کو مستعد اور عام آدمی کی پہنچ اس تک آسان بنانے کی کوشش ضرور کی گئی ہے۔مگر یہاں بھی سیاسی کھینچ تان کی وجہ سے عوام کی ضرورتوں اور امیدوں کے مطابق یہ اہم منصوبہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہے۔