دین بچاؤ دیش بچاؤ کانفرنس میں تقریباً ١٥ لاکھ سے زائد مسلمانوں کی شرکت

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں امارت شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام آج دین بچاؤ دیش بچاؤ کے عنوان سے ایک تاریخی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں انداز ے کے مطابق ١٥ لاکھ سے زائد مسلمانان ہند نے شریک ہوکر دینی غیر ت وملی حمیت کا بھر پور ثبوت پیش کیا اور لاکھوں کے مجمع نے امیر شریعت کے سامنے دین و شریعت اور ملک کی حفاظت کا حلف لیا ۔ گذشتہ دیڑھ ماہ سے اس ریلی کی تیاری چل رہی تھی جو آج شام کو چھ بجے اختتام کو پہونچی۔دن بجے میں ایک بجے شروع ہوئی تھی ،سوشل میڈیا پر بھی یہ ریلی مسلسل چھائی اور ہزاروں کی تعداد میں یوزرس نے ریلی کی تصویر اپنے فیس بک ،ٹوئٹر اکاﺅنٹ اور وہاٹس ایک گروپ پر شیئر کرکے اس کے پیغام کو دور تک پہونچانے کی کوشش کی اس تاریخی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی نے کہاکہ ہمارا ملک بدترین دور سے گذر رہاہے، حکمراں ،ملک میں دہشت پھیلارہے ہیں، یہ خوف کے بیوپاری ہیں ،

نفرت کی کاشت کاری کررہے ہیں،جھوٹ کی آبیاری ان کا پیشہ ہے،ان چیزوں نے پورے ماحول میں بے یقینی کی فضا بنادی ہے،اور یہ بے یقینی ہرسطح پر چھاگئی ہے۔حدیہ ہے کہ قانون کا مطلب بتانے والی ،بے لگام انتظامیہ کو قابو میں رکھنے والی،،وطن عزیز کی جمہوریت کی حفاظت کرنے والی اورآئین کی پاسدارعدلیہ خود پریشان ہے،چار سینئر ججز پریس کانفرنس کرکے بتارہے ہیں کہ جمہوریت کو خطرہ ہے،عدالتیں آزاد نہیں ہیں، ایک خاص نظریہ کو تھوپنے کے لئے عدالتوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مولاناولی رحمانی نے اپنے خطاب میں مزید کہاکہ آئین کی حکمرانی ،قانون کی بالادستی ،انصاف اور مساوات اوربنیادی حقوق کمزور پڑتے جارہے ہیں، ایک طرف دلہے صاحب ہیلی کاپٹر سے سسرا ل جارہے ہیں،دوسری طرف یہ خواہش بھی پوری نہیں ہوسکتی کہ بارات میں دولہا گھوڑے پر سوار ہو، اور سوار ہوا تو زندگی موت کے حوالہ کردی گئی،جھولے میں کوئی گوشت لے جارہاہے تو اس کی درگت بنادی جائے گی،مسلمان کو پہچان کر اس کی اتنی پٹائی کی جائے گی کہ وہ مرجائے،اونچی تعلیم گاہوں کا ماحول ایسی گھٹن والا بنادیا اور ایسے جبروظلم کی فضا بنائی گئی کہ طالب علم خود کشی کرلے،اس کا جرم کیا ہے؟،صرف ایک !

شڈولڈکاسٹ ،شڈولڈ ٹرائب سے تعلق رکھتاہے، وہ مظلوم طبقہ سے تعلق رکھتاہے، وہ مسلمان ہے، وہ اقلیتی طبقہ کا فرد ہے، یہی جرم ہے اس کا،چرچوں پہ حملے کئے گئے،پادریوں کو ختم کیا گیا،جرم یہ تھاکہ ان کی تعداد تھوڑی ہے،کیا یہی قانون کی حکمرانی ہے،؟ کیا یہی آئین کی بالادستی ہے۔؟ایک کھرا سچ یہ ہے کہ ظلم ایجاد کرنے والوں، ظلم ڈھانے والوں کا ایک بڑا طبقہ تیار ہوگیا ہے ،جس نے الگ الگ ناموں کی تنظیم بنارکھی ہے، اور وہ بہانے دھونڈ کے پیداکررہاہے جفاکے لئے! مسلمانوں کا خون بہاکر انہیں مزہ آتاہے، مسلمانوں کے دوکانوں کو آگ لگاکر انہیں خوشی ہوتی ہے، ان کو برباد کرکے ان کو سکون ملتاہے، ایس سی/ایس ٹی کو موت کے گھاٹ اتارا جارہاہے، ظالموں کی یہ جماعت انہیں عزت کے ساتھ بٹھانے کے لئے تیار نہیں،یہی ذہنیت آئین ہند سے کھلواڑ کررہی ہے، دستور کو بدلنا چاہتی ہے، انسانوں کے خون کو سستا اور گائے کے پیشاب کو مہنگا کررہی ہے۔

اسی طبقہ کے لوگ واٹس اپ کے ذریعہ دل آزار اور اہانت آمیز پیغام بھیجتے ہیں، اذان کو بند کرانے کی کوشش کرتے ہیں، مسجدوں کو نقصان پہونچاتے ہیں، مذہبی کتابوں کی توہین کرتے ہیں، قانون کی دھجیاں اڑاتے ہیں، اور ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہ حالات وہ لوگ پید ا کررہے ہیں، جن کے نمائندے حکمرانی کررہے ہیں، یہ حکمران سماج میں دشمن عناصر کی پرورش اور پرداخت کررہے ہیں اوران کا شکار مسلمان ،ایس سی /ایس ٹی ،عیسائی اور اقلیتیں ہیں، یہ سب مظلوم ہیں، ان کے درد کا مداوا ،پریشانیوںکا علاج ،اور ہونے والے مظالم کے خاتمہ کا طریقہ یہ ہے کہ یہ مظلوم طبقہ ،یہ الگ الگ رہنے والا کمزور طبقہ ،ظلم کے خلاف ،زیادتی کو مٹانے کے لئے ایک جٹ ہوجائیں اور مشکل وقت میں یہ مظلوم طبقات ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

توحید عالم فیضی