دنیا وسیلہ ہے مقصد اور مطلوب نہیں!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایمان والوں کو یہ بھی بتا دیا اور قرآن مجید نے متعدد موقع پر اس کی نشاندہی کر دی ہے کہ ایک مومن کو دنیا سے کس قدر غرض اور مطلب رکھنا چاہیے، اور آخرت کے لئے کس قدر تڑپ اور اس کی کامیابی کے لئے کس قدر محنت اور جدوجہد کرنا چاہیے، دنیا کی بے ثباتی اور ناپائداری اور آخرت کی کامیابی پر اجر و ثواب کا بھی بار بار تذکرہ قرآن و حدیث میں آیا ہے تاکہ بندہ اپنے مقصد تخلیق سے واقف ہو جائے اور دنیا کی حقیقت سے واقف ہوجائے اور آخرت می کامیابی جو اصل کامیابی ہے اس کو وہ اچھی طرح سمجھ لے ۔

*آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے ایک موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بیان کیا کہ اللہ تعالی نے میرے لئے مکہ کی وادی کو سونا بنانے کی پیش کش کی تو میں نے عرض کیا کہ پرودگار ! مجھے یہ نہیں چاہئے بلکہ مجھے تو پسند ہے کہ ایک دن پیٹ بھر کر کھاوں تو دوسرے دن فاقہ کروں ،کیونکہ جب میں بھوکا رہوں گا تو تیرا ذکر کروں گا اور گریہ و زاری کروں گا اور جب شکم سیر ہوجاوں گا تو تیرا شکر ادا کروں گا ۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ *حضور اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم* نے ایک چٹائ پر آرام فرمایا جس کی وجہ سے جسم مبارک پر چٹائ کے نشانات آگئے ،یہ منظر دیکھ کر *ابن مسعود رضی اللہ عنہ* نے عرض کیا، *یا رسول اللہ!*
حکم ہو تو فرش بچھا دیتے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا : کہاں میں اور کہاں دنیا ؟ میرا اور دنیا کا تعلق بس ایسا ہے جیسا سوار ،راستہ میں کسی درخت کے سایہ میں آرام کرنے کے لئے ٹھہرتا ہے پھر کچھ دیر کے بعد اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔ مسند احمد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صحابی کا بیان ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول!
مجھے کوئ ایسا عمل بتا دئجئے جس سے میں اللہ کا اور لوگوں کا محبوب بن جاوں ،آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ۰۰ دنیا سے بے رغبتی کرو تو اللہ تعالی تم سے محبت کرے گا اور لوگوں کے احوال سے دور ہو تو لوگ تجھ سے محبت کرنے لگیں گے ۔( ابن ماجہ )

جن احادیث کا اوپر تذکرہ کیا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا سے متعلق جو نظریہ اور عمل پیش کیا گیا نیز اسوئہ رسول کے جو نمونے پیش کئے گئے اگر اس پر عمل کر لیا جائے اور دنیا کو اسی طرح برت لیا جائے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے برت کر دکھا دیا تو آج پھر پوری دنیا میں امن و شانتی سکون و اطمینان اور اقدار انسانی کے وہ نمونے پیش کئے جاسکتے ہیں جن کے دیدار سے آج دنیا محروم و قلاش ہو چکی ہے ۔ آج ساری خرابیوں اور برائیوں کی جڑ اور بنیاد دنیا اور دنیاوی عہدہ و منصب اور اس کے عیش و عشرت میں جنون کی حد تک مشغولیت ہے جب پاکیزہ اسلام کی مبارک اور پاکیزہ تعلیم یہ ہے کہ *الدنیا خلقت و انتم خلقتم للآخرة* ۔ یعنی دنیا تمہارے لئے پیدا کی گئ ہے اور تم آخرت کے لئے پیدا کئے گئے ہو ۔
انسان کا دنیا اور متاع دنیا پر شیفتہ اور فریفتہ ہوجانا اور دیوانگی کی حد تک دنیا سے لگ جانا اور حقیقی طور پر اس سے دل لگانا در اصل مقصد تخلیق کے منافی ہے ،اسلام کے نزدیک دنیا صرف ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے ۔ اس کو مقصد اور ہدف بنا لینا اور اسی کی تگ و دو میں لگے رہنا اپنی ساری صلاحیت اور انرجی اسی کے لئے لاس کر دینا ایک کافر ،مشرک اور دنیا دار کی شان و پہچان ہو ہو سکتی ہے لیکن مسلمان کی نہیں ۔
بظاہر دنیا بہت ہی خوشنما اور شریں ہر وہ نگاہوں اور دلوں کے لئے آراستہ کر دی گئی ہے ۔ انسان اس کے فتنہ میں گرفتار ہو کر اس کی آزمائش کی موجوں میں تیرنے لگتا ہے اور اس کی فانی نعمتوں اور لذتوں میں غوطہ کھانے لگتا ہے ،حالانکہ دل اگر اس کی حقیقت و حیثیت کو جان لے تو وہ کبھی دنیا کو آخرت پر ترجیح و فوقیت نہیں دے سکتا ۔
خالق کون و مکاں کے نزدیک اس دنیا کی حیثیت مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں ہے اس سے اس دنیا کی بے ثباتی ذلت و دنائت اور کمتری و بے وقعتی ثابت ہوتی ہے ۔
آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس دنیا کی بے وقعتی اور کمتری کو ایک مثال سے یوں سمجھایا ہے :
*ان مطعم ابن آدم قد ضرب للدنیا مثلا فانظر ما یخرج من ابن آدم ،و ان قزحہ و ملحہ قد علم الی ما یصیر* ۔( المعجم الکبیر للطبرانی عن ابی ابن کعب ۱/۱۹۸)
انسان کے کھانے کی چیزوں کو دنیا کے لئے بطور مثال بیان کیا گیا ہے کہ انسان اس میں مسالہ و نمک ملا کر تیار کرتا ہے ،پھر اس کا جو انجام ہوتا ہے اس پر غور کر لو ۔

اس دنیا اور سے فائدہ اٹھانے کی مثال ہم کشتی اور سمندر سے سمجھ سکتے ہیں کہ سمندر کو دنیا کو فرض کر لیجئے اور کشتی کو انسان ،کشتی سمندر اور پانی پر ہی چلتی چوبیس گھنٹے وہ پانی ہی کے ساتھ رہتی ہے لیکن کبھی اس کو اپنے اندر داخل ہونے نہیں دیتی کیوں کہ اگر پانی کشتی کے اندر چلا جائے گا تو کشتی غرق ہوجائے گی اور سوار ڈوب جائیں گے ۔
اس مثال سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ہم دنیاوی اسباب و وسائل سے کس طرح فائدہ اور کس حد تک فائدہ اٹھائیں اور کس طرح دنیا کو برتیں ۔
محمد قمرالزماں ندوی