دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے نہ بھر آئے کیوں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد صابرحسین ندوی ایم پی
شب وروز کی زندگی میں دل کا درد و اندوہ سے بھرجانا، اور غم و آہ کی سسکیوں سے لبریز ہوکر کراہنا کون نہیں جانتا ؟یہ ہر دل کی کہانی ہے،ہر جان اور ہر صاحب ضمیر کی داستان ہے،بظاہر کوئی فولادی جسم و اعصاب ہی کیوں نہ رکھتا ہو،اسے دیکھ کر کسی دیو کی تصویی کیوں نہ یاد آجاتی ہو،یا وہ خود ہی انگلیوں سے انگارے بجھادینے، اور لوہے پگھلا دینے کا مدعی کیوں نہ ہو،ہو سکتا ہے کہ اس کی زبان شجاعت و بہادری پر رطب اللسان رہتی ہو؛بلکہ ممکن ہے کہ وہ میدان کارزار کا غازی ہو، اور یک بیک صف کی صفیں الٹ دیتا ہو، شہسوار و شہ زور اور اعلی ظرفی اس کی رگوں میں خون کی طرح رواں ہو، یا وہ کسی طوفان سے نبرد آزما ہونے اور اس کا رخ مور دینے؛ نیز کسی سیلاب کی بہتی تیز رو کو پل کے پل روک دینے میں بھی یقین رکھتا ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ مصلح ہو اور معاشرے و سوسائٹی کی نبض پرکھ کر انسانیت کی دوا کرتا ہو، درویشوں کی حالت میں محبت کے راگ سنا کر درس انس سے چمن انسانی معطر کرتا ہو،یا کوئی عام یومیہ مزدور و محنت کش ہو، جو اپنی محنت و جفا کشی سے پہاڑ بھی ریزہ ریزہ کردینے کا حوصلہ رکھتا ہو۔
   *یہ سب کچھ ہو اور ہو سکتا ہے؛ کہ وہ ان سب کا جامع ہو؛لیکن آپ اس کے نہا خانہ کو ٹٹول کر دیکھئے! کسی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر اندازہ لگائے! یا کبھی خلوت گاہ میں محبت کے دو بول کے ساتھ اس کے شانہ بشانہ بیٹھئے! تبھی آپ ایک ایسا انسان پائیں گے، جو سراپا درد وکرب اور اضطراب سے چور چور ہے،اس کا دل ذرہ ذرہ میں بکھرا ہو اہے،اس کی آہ کا کوئی حساب نہیں ہے،وہ رات دن اپنے رب کے حضور ایک داستان رکھتا ہے، ہر لمحہ گویا کسی مہلک مرض کی تشخیص کا خواہ ہو کر؛ اس کا علاج چاہتا یے،وہ ہر وقت کسی انسان یا کہئے کسی دلعزیز کا محتاج اور طلب گار یے، جو نہ اس غم وغصہ اور افسوس کن حیات پر سہارا بن سکے؛ بلکہ کوئی اس کے بہتے آنسوؤں کا حساب لگائے اور اس کا مداوا بھی کرے، اور زیادہ سے زیادہ تسلی و تشفی کا سامان کرے،اور اگر وہ کوئی متدین شخصیت کا حامل ہو، تو ذرا اس کی شب بیداری کی پر پہرا دیجئے! اور اس کے دل کی فغاں کو کان لگا کر سنئے، ہوسکتا ہے؛ کہ اس کے دکی ابلتی ہانڈی آپ کا سینہ چیردے،اور آپ بے ساختہ اس  سے بغل گیر ہوجائیں، اور اس آب وگل کی ساری مشقتوں کو بھول کر بس اسی کا ہو کر رہ جائیں،مگر اس کا حقیقی پہلو تو یہ ہے*:
درد دل اور نہ بڑھ جائے تسلی سے کہیں
آپ اس کام کا زنہار ارادہ نہ کریں
کیونکہ فراز بھی کیا خوب کہہ گئے ہیں:
کیا دل کا بھروسہ ہے یہ سنبھلے کہ نہ سنبھلے
کیوں خود کو پریشاں مرا غم خوار کرے ہے
      مرزا غالب انسان شناس شاعر تھے،اور انسان کی ہی نمائندگی کرتے تھے؛چنانچہ صد فیصد درست کہہ گئے:
دل ہی تو ہے نہ سنگ وخشت درد سے نہ بھر آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
*بلکہ معلوم ہوتا ہے؛ کہ دل کی اس کیفیت کی نمائندگی کرنے والا اس سے زیادہ صریح وہ شعر ہے، جسے علامہ اقبال نے کہا تھا، اور انسانی حقیقت کی صحیح عکاسی کی تھی،کہنا چاہئے کہ بر ملا انہوں نے انسان کی اصل اصیل پر ضرب لگائی اور گویا ہوئے:*
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرو بیاں
*بس اسی درد کو جھیلئے ! اور اگر یہ تعبیر درست نہیں تو کہا جائے کہ حیات اصلیہ کے اسی حقیقت کا لطف اٹھائے ! اپنے آپ کو ذرہ بے نشان بنا دیجئے! غم و اندوہ کی پوٹلی سے کوئی پہاڑ تیار کر دیجئے! اور اپنے آپ کو اس کا مریض نہیں؛ بلکہ اسے اپنا معالج جانئے ! اگر ایسا ہوتا ہے تو شاید زندگی کی بہت سی الجھنیں سلجھ جائیں گی،اور بہت سے ایسے سوال جن میں تقدیر پر لعن و طعن کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ جاتا؛بہت حد تک صبر و ضبط کا دامن ہاتھ لگ آئے گا،اسی طرح وہ تمام حل لا عقد کا گرہ کھل جائے گا،جس نے آپ کی شبانہ روز زندگی حرام کر رکھی ہوگی،آپ ایک تشفی بخش زندگی کی طرف گامزن ہوں گے، اور ایک نئی زندگی و نی روح اور نئے عزم کی منزلین طے کرنے لگیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں