خواتین پر تشدد اور بی جے پی کا تشویشناک رویہ

بہت سے لوگوں کی طرح میں نے بھی بی جے پی ایم پی میناکشی لیکھی کی پریس کانفرنس دیکھی، جوکہ کھٹوعہ اور اناؤ کیس پر گفتگو کررہی تھیں، ان کا کہنا ہے کہ قانون اپنا کام کرے گا۔ پر میرا سوال ہے کہ کیا واقعی ایسا ہورہا ہے؟ کیا آپ کو واقعی قانون کی اتنی فکر ہے؟ کیا واقعی آپ قانون کو اپنا کام کرنے دیں گی؟ کیا آپ کو علم نہیں کہ بی جے پی وزراء کی مدد سے ہندوتوا کے غنڈے چار مہینوں سے پولیس کی تحقیقات میں روڑے اٹکا رہے ہیں؟ اناؤ ریپ کیس کے ملزم بی جے پی ایم ایل اے سے دس مہینوں سے بس سوالات کئے جارہے ہیں، وہ تو بھلا ہو عوام کا کہ اس کا غصہ پھوٹنے کے بعد میڈیا نے اس خبر کو کوریج دیا پورا ملک اس سے واقف ہوسکا، پر ابھی تک اتر پردیش اور نیشل وومن کمیشن میں موت کا سا سناٹا ہے، یہ دونوں کمیشن بھی بی جے پی اہلکاروں کے ہی ذریعہ چلائے جا رہے ہیں.

اسی طرح پریس کانفرنس میں ایک احمقانہ سوال کرتے ہوئے بی جے پی ایم پی میناکشی کہتی ہیں کہ اس طرح کے معاملات میں انہیں ریاست کو کیوں گھیرا جاتا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے؟ ان کے اس سوال پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوسری ریاست کی سرکاروں نے اپنی پارٹی سے جڑے کسی ریپ کے ملزم کی حمایت کی ہے؟ یا اس کو بچانے کی کوشش کی ہے؟ یہ کام تو بی جے پی اور اس کے وزراء کررہے ہیں، اور یہی کام آپ بھی کررہی ہیں.

آپ دیکھ رہے ہیں کہ بی جے پی اپنے ان درجنوں وزراء پر کوئی کارروائی نہیں کررہی ہے جوریپ کے ملزموں کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں، جن میں ایک نام وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کا بھی ہے، جن کا کہنا ہے کہ ریپ کی ذمہ دار خود لڑکی ہے، اس کا مطلب بالکل واضح ہے کہ بی جے پی ان وزراء کی حرکتوں اور بیانات پر خاموش رہ کر خود بھی اس عمل کی حمایت کررہی ہے۔

کھٹوعہ کے ہولناک ریپ کے ملزم کی حمایت میں ہندوتوا کے داعیوں نے ریلی نکالی اور اسے ہندو مسلم رنگ دینے کی کوشش کی، تاکہ معاملہ کو دبایا جاسکے، اس ریلی میں جے شری رام کے نعرے لگائے گئے، جس سے عالمی برادری میں یہ تاثر گیا ہے کہ جے شری رام کے نعرے لگانے والے مجرموں کی پشت پناہی کرنے والے ہوتے ہیں، اوپر سے خواتین کی ترقی کی وزیر بھی پریس کانفرنس کرکے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں، آخر یہ لوگ کس ہندوتوا کے داعی ہیں؟ کون ہندو یہ چاہتا ہے کہ خواتین پر ظلم و تشدد کرنے والوں کی حمایت کی جائے؟ کون ہندو یہ چاہتا ہے کہ خواتین کی عصت ریزی کرنے والوں کو بچایا جائے؟ کون ہندو یہ چاہتا ہے کہ مندروں کو عصمت لوٹنے کا ذریعہ بنایا جائے؟ ہندو حضرات ذرا خود سوچیں کہ کیا بی جے پی اور اس کے حامی ہندوازم کو ایک وحشیانہ اور خوفناک نظریہ کے طور پر پوری دنیا میں متعارف نہیں کروا رہے ہیں؟۔

اسی طرح اناؤ ریپ کیس میں ایک خاتون کو سر عام رسوا کیا گیا اور اس کی دنیا تباہ کردی گئی، انصاف کے متلاشی مظلوم لڑکی کے باپ کو بی جے پی ایم ایل اے کے حامیوں نے پیٹ پیٹ کر مار دیا، پولیس بھی اس کھیل میں ساتھ رہی، اور یہ سب کچھ پولیس کسٹڈی میں ہوا، پر کسی بھی سرکاری عہدہ دار کے کان پر جوں تک نہ رینگی، بلکہ اس بی جے پی ایم ایل اے کی حمایت کی گئی، یہ سب کچھ وہاں ہوا جہاں بی جے پی اکثریت کے ساتھ حکومت کررہی ہے، آخر ریاستی حکومت کو ان مجرمین کو سزا دینے سے کس نے روک رکھا ہے؟ جواب یہی ہے کہ وہی وحشیانہ ذہنیت جو عورتوں کو پیر کی جوتی سمجھتا ہے. اگر عوام کا غصہ نہ پھوٹتا اور میڈیا ٹرائل نہ ہوتا تو یہ معاملہ بھی بی جے پی کے درندے ہمیشہ کے لیے دبادیتے، جیسا کہ دس مہینوں سے دبائے رکھا تھا.

بی جے پی نے بیٹی بچاؤ کا نعرہ تو دیا لیکن بیٹی کو تحفظ دینا تو درکنار بلکہ بیٹی کو خوفزدہ زندگی گزارنے پر مجبور کردیا، عورتوں پر تشدد کرنے والے کارکنان، ایم ایل اے اور ایم پی سب سے زیادہ بی جے پی ہی میں ہیں.

دراصل بی جے پی RSS کی سیاسی ونگ ہے، بھلے ہی وہ اس سے انکار کریں لیکن حقیقت یہی ہے، اور آر ایس ایس قدیم برہمن وادی اور منووادی متشدد نظریات کی حامل تنظیم ہے، جس میں عورتوں کو پیر کی جوتی اور نحوست کا نشان سمجھا جاتا ہے، جو منوواد عورت کو اعتبار کے قابل نہیں سمجھتا، جو منوواد جھوٹ اور عورت کو ایک ہی سکہ کا دو رخ کہتا ہے۔ یہ جس رام راجیہ کی بات کرتے ہیں اس میں عورتوں کے لئے یہی مرتبہ متعین کیا گیا ہے کہ وہ محض ایک لطف لینے کی شے ہو، جس کے اپنے کوئی حقوق نہ ہوں، جو چاہے جس وقت چاہے اور جس طرح چاہے اسے استعمال کرلے، اور اس کے پاس فریاد کرنے کا بھی حق نہ ہو.

اسی لئے آر ایس ایس کی سیاسی ونگ بی جے پی میں موجود ایم ایل اے اور ایم پی اسی نظریات کے حامل ہیں، اور چونکہ ہندوستان کو ہندو راشٹریہ بنانے کا عزم رکھتے ہیں جو دراصل منو راشٹریہ یا برہمن راشٹریہ ہے، اسی لئے یہ وہ منوواد پورے ملک میں عام کرنا چاہتے ہیں جس میں عورتوں کو تقدیر، طوفان، موت، جہنم، زہر، سانپ سے بھی زیادہ خراب تصور کیا جاتا ہے، جو منواواد چاہتا ہے کہ عورتوں کا استحصال بھی ہو اور وہ اپنی زبان پر حرف شکایت بھی نہ لاسکے،  منوواد اور برہمن واد ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت کا عورتوں کے تشدد کے سلسلہ میں جو رویہ سامنے آیا ہے وہ در اصل عام ذہنیت تیار کرنے کی کوشش ہے، لیکن شکر ہے کہ عوام نے اس رویہ کی خوب خبر لی ہے جس کی وجہ سے فی الحال بی جے پی اور اس کے حامی بیک فٹ پر نظر آرہے ہیں. لیکن پھر بھی یہ نظریہ اور رویہ ہندوستان کی تباہی کا غماز اور دنیا میں ہندوستانیوں کی بدنامی کا باعث ہے.

اسامہ طیب ندوی
دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ

اپنا تبصرہ بھیجیں