حکمت و دانائی ہی اصل یے۔

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد صابرحسین ندوی ایم پی
    حکمت،سوجھ،بوجھ اور سمجھداری خدا کی عظیم نعمت ہے، وقت شناسی کے ساتھ زبان کو حرکت دینا اور لب کشائی کرنا قوم و ملت اور انسانی عظمت کے ساتھ ذاتی زندگی کا قوی جوہر ہے،یہ وہ آب گوہر ہے جس کے سامنے سکندر ودارا بھی ناکام ونامراد ہوجاتے ہیں،بڑی بڑی سلطنتیں بھی ہیچ اور خم ہوجاتی ہیں، اس سے نہ صرف میدان کارزار کی فتح ونصرت ملتی ہے؛ بلکہ ’’جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ ‘‘کے تحت دلوں کو فتح کرنے اور انسانی معاشرے کو سبزہ زار کرنے کا عمدہ ترین نسخہ ہے،انسانوںکیلئے انس کا مادہ پرکھنے اور برتنے کا یہی سب سے سلیقہ مند اور کار آمد راہ ہے،دل کو دل سے جوڑنے اور باہمی شقاق و نفرت کو محبت و انسیت میں بدلنے ؛نیز کسی دیرینہ دشمن کو بھی اپنا قائل کرلینے اور اسے صاحب ودوست بنالینے کاشاندار حربہ ہے،تاریخ میں اگر تلوار وتفنگ اور تیرو نشتر نے زمینی فتح کر کے،اور زرہ پوش فوجوں کی صفیں پلٹ کر اپنی بلندی و برتری کا علم لہرایا ہے،اور ہزاروں، لاکھوں گردنوں کو رو بہ سجدہ لا کر؛ اپنی علویت کا لوہا منوایا ہے؛ تو اس سے کہیں زیادہ دانائی وحکمت کے پروردوں نے قلب وجگر میں شادابی و زرخیزی کی ایسی ہوا چلائی؛کہ بغیر کسی ہتھیار و اسلحہ کے ہی انسانوں کے سر کے ساتھ ان کےدلوں پرقابض ہوگئے۔*
     حکمت و دانائی کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے؛کہ قرآن کریم نے لفط ’’حکمۃ‘‘ کا استعمال چھ مرتبہ کیا ہے،اور اس کے متعلق یہاں تک گویا ہے؛ کہ اللہ تعالی حکمت اسی کو دیتا ہے جس کو وہ چایتاہے،اور جسے یہ حکمت عطا ہوجائے ؛اسے نعمت عظمی مل جاتی ہے’’ يُؤْتِي الْحِكْمَةَ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ‘‘(بقرۃ:۲۶۹)،علامہ قرطبی نے لکھا ہے؛ کہ اپنے آپ کو تمام بیوقوفی کے عمل سے بچانا حکمت کہلاتا ہے’’وَأَصْلُ الْحِكْمَةِ مَا يُمْتَنَعُ بِهِ مِنَ السَّفَهِ‘‘(تفسیر قرطبی:۳؍۳۳۰)،علامہ وھبہ زحیلی نے لکھا ہے ؛کہ حکمت کا سب سے اعلی معیار نبوت ورسالت ہے ؛لیکن یہ صرف اسی میں مقید نہیں بلکہ اس سے مرادہر وہ چیز ہے، جو اوہام میں حقائق کی طرف رہنمائی کرے، اور وساوس والہام میں فرق کرے’’ وذلك يرشد إلى تمييز الحقائق من الأوهام، والتفرقة بين الوسواس والإلهام‘‘(تفسیر المنیر للزحیلی:۳؍۶۴)قرآن کریم نے کئی دفعہ اپنے گزشتہ محبوب انبیاء کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی یہ خاص صفت بتلائی ہے،کہ اواہ حلیم تھے،(ھود:۷۵)،حضرت لقمان علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف وحی کو حکمت سے تعبیر کیا گیا ہے،’’ذَلِكَ مِمَّا أَوْحَى إِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ ‘‘(لقمان:۱۲)،اور حضرت داود علیہ الصلاۃ والسلام کے بارے میں کہا گیا ہے حکمت کے ذریعہ انہیں تقویت پہونچائی گئی تھی ’’وَشَدَدْنَا مُلْكَهُ وَآتَيْنَاهُ الْحِكْمَةَ وَفَصْلَ الْخِطَابِ، (سورہ، ص:۲۰)،اس کے متعلق ابن عباس کا ماننا ہے کہ یہاں حکمت سے مراد بیان ووضاحت ہے’’وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: بَيَانُ الْكَلَامِ”(دیکھئے: تفسیر قرطبی: ۱۵؍۱۶۲)۔
    *یاد رکھئے !حکمت ودانائی ہی نے پہلے بھی ہمیں ثری سے ثریا تک پہونچادیا تھا ،اور ان حالات میں جب کہ ہم اچک لئے جانے سے ڈرتے تھے؛ اس مقام تک پہونچا دیا تھا؛ کہ ایک ادنی مسلم  وبادیہ نشیںکا آوازہ پوری حکومت کو تہہ وتیغ کر ڈالتا تھا،آج بھی اسی پتوارسے ہماری کشتی کنارہ پاسکتی ہے،ندی کے اس منجھدار پھنسی ہوئی انسانیت صرف اور صرف اسی راہ سے نجات پاسکتی ہے،اگر ایسا نہ ہوا اور آپ نے سیاسی ہوا کے دوش پر اپنےمنصوبوں کی بنیاد رکھی،اور دانش مندی وعقلمندی سے پرے ہر ’’ایرے غیرے نتھو خیرے ‘‘پر اپنی آراء کا اظہار کرتے رہے،یا حلم وبردباری سے بے نیاز ہوتے ہوئے؛ متعصبانہ ومتشددانہ فتوی داغتےہے،یا آر ایس ایس کی افطار پارٹی،راجناتھ سنگھ اور مودی جی کے مسجدوں کی سیاحت پر انگشت بدنداں ہوکر’’بے سر وپا ‘‘ کی ایس آرائیوں پر قلم کی جولانی کرتے رہے،اور رہ رہ کر طبیعت میں نفرت و بےچینی کو پروان چڑھاتے رہے تو نہ صرف آپ کی ذاتی زندگی کوفت وکلفت سے بھر جائے گی؛ بلکہ آپ یہ نادانی امت کو کسی ایسے غار میں پھینک دے گی، جس کے تاریک ترین اندھیرے سے نکل پانا ناممکن ہوجائے گا، اور عہد ماضی کی بازیابی گویا خواب ثابت ہو کر رہ جائے گی،خوب سمجھ لیجئے!حکمت ودانائی کی خاموشی، بیوقوفی کے شور وغوغہ سے ہزار گنا بہتر ہے؛بلکہ مسند دارمی نےثابت بن عجلان الانصاری کی ایک روایت میں یہاں تک نقل کیا گیا ہے؛ کہ اللہ تعالی حکمت کی بنیاد پر متعینہ عذاب یہ بھی رد فرمادیتے ہیں:’’ إِنَّ اللَّهَ لَيُرِيدُ الْعَذَابَ بِأَهْلِ الْأَرْضِ فَإِذَا سَمِعَ تَعْلِيمَ الْمُعَلِّمِ الصِّبْيَانَ الْحِكْمَةَ صَرَفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ.‘‘(تفسیر قرطبی:۳؍۳۳۰)۔*