26

حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ان واقعات سے سبق لیجیے

یوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر ایک صحابی کی زندگی،ان کی روش،ان کا طریقہ اور ان کا طرز عمل زندگی کے ہر شعبے اور گوشے میں ہمارے لئے مشعل راہ شمع زندگی اور نشان منزل ہے ،لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی ان کی خلافت اور طرز حکومت میں فرد اور جماعت کے لئے حکومت اور ادارے کے لئے حاکم اور رعایا کے لئے بے پناہ اور بے شمار نمونے ہیں جس سے بہت کچھ سیکھا اور سبق لیا جاسکتا ہے اور حالات کے مطابق اس پر عمل کرکے کشتی کو بھنور اور منجھدار سے نکالا جاسکتا ہے ۔ لیکن المیہ،ٹریجڈی ور دقت یہ ہے کہ سیرت کی کتابوں کو کھنگال کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے تابندہ اور سنہرے نقوش کو اخذ کرنے اس سے کچھ سیکھنے اور اس پر عمل کرنے اور اس سے سبق و عبرت حاصل کرنے کی اب فرصت ہی کسے ہے ۔ ہم میں سے ہر ایک پر یہ خبط سوار ہے کہ ہم تو حق پر ہیں اور ہمارا علم کامل و مکمل ہے ، اصلاح اور علم کے تو دوسرے محتاج ہیں، اصلاح دراصل دوسروں کی ہونی چاہیے، اسی مزاج اور سوچ نے امت کو اس تنزلی اور پستی و گراوٹ پر پہنچا دیا ہے ۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ اگر کوئ کامیاب اور جمہوری طرز حکومت قائم کرنا چاہتا ہے تو اس کو(حضرت) عمر (رضی اللہ عنہ) کو رول ماڈل بنانا چاہیے ۔ یہاں صرف حکومت اور سلطنت ہی مراد نہیں ہے بلکہ اس میں تحریکیں، جمعیتیں اور تنظیمیں بھی شامل اور داخل ہیں ۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی زندگی اور ان کے طرز خلافت کی خصوصیات و امتیازات کے لئے علامہ شبلی نعمانی رح کی کتاب ۔ الفاروق ۔ کا مطالعہ ہر ایک عالم دین، عہدہ دار اور صاحب اقتدار کو ضرور کرنا چاہیے ۔ *آج کا پیغام* کالم میں ہم اپنے قارئین کی خدمت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اپنے اوپر تنقید و تبصرہ اور نقد و اعتراض پر قوت برداشت، اور تحمل کی ایک تصویر اور جھلک پیش کرتے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہم بھی اس پر عمل کریں گے اور اپنی زندگی میں بھی ایک خوشگوار تبدیلی پیدا کریں گے بئیں طور کے نقد و تبصرہ اگر جائز اور تعمیری ہے، تنقید بجا و درست ہے تو اس کو ضرور انگیز اور برداشت کریں گے ۔ اور اصلاح حال کی فکر کریں گے ۔
ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی آواز سنی جو اپنے گھر میں گا رہا تھا ۔ اپ کو شک گزرا دیوار پر چڑھ گئے دیکھا کہ وہاں شراب بھی موجود ہے اور ایک عورت بھی۔ آپ نے پکار کر کہا کہ ۰۰ اے دشمن خدا ! کیا تو نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تو اللہ کی نافرمانی کرے گا اور اللہ تیرا پردہ فاش نہ کرے گا ؟ اس نے جواب دیا ۔ امیر المومنین جلدی نہ کیجئے اگر میں نے ایک گناہ کیا ہے تو آپ نے تین گناہ کئے ہیں ۔ اللہ تعالٰی نے تجسس سے منع کیا ہے اور آپ نے تجسس کیا ۔ اللہ نے حکم دیا کہ گھروں میں ان کے دروازے سے آو اور آپ دیوار چڑھ کر آئے ۔ اللہ تعالٰی نے حکم دیا کہ اپنے گھروں کے سوا دوسروں کے گھر میں اجازت لئے بغیر نہ جاو اور آپ میری اجازت کے بغیر میرے گھر میں تشریف لے ائے ۔ یہ جواب سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی غلطی مان لی اور اپنی خطا و چوک کو تسلیم کرلیا اور ان کے خلاف انہوں نے کوئ کارروائی نہ کی،البتہ اس سے یہ عہد لیا کہ وہ بھلائی کی راہ ضرور اختیار کرے گا ۔ (تفہیم القرآن)
بعض روایات میں ہے کہ ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ مسجد نبوی میں تقریر فرما رہے تھے قریب میں وہ شخص بھی بیٹھا تھا آپ نے اس کو اپنے قریب بلایا اور کان قریب کرکے کہا کہ ہم نے کسی سے اس واقعہ کا تذکرہ نہیں کیا ۔ تو اس شخص نے بھی کہا کہ امیر المومنین! ہم نے بھی کبھی اس غلطی کو نہیں دہرایا ۔
ایک موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوران خطبہ یہ تقریر کی: کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ لوگ مہر رکھنے اور باندھنے میں افراط و تفریط سے کام لے رہے اب میرا ارادہ اور میری خواہش ہے کہ مہر کی ایک حد اور معیار طے کردوں، ایک بوڑھی عورت سربزم کھڑی ہوگئ اور عرض کرنے لگی امیر المومنین یہ حق آپ کو کس نے دے دیا کہ آپ اس کو اپنی طرف سے متعین اور محدود کریں ۔ قرآن تو کہتا ہے کہ اگر تم مہر کے طور پر قنطار عظیم (خطیر رقم) دینا چاہو تو دے سکتے ہو ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ فورا سرینڈر ہوگئے اور سر محفل اپنی غلطی کو تسلیم کرلیا اور یہ جملہ فرمایا کہ اگر یہ بوڑھی عورت نہ ہوتی تو اج عمر ہلاک ہوجاتا ۔
ایک موقع پر مال غنیمت میں سے یا بیت المال سے وظیفہ کے طور پر لوگوں میں چادریں تقسیم ہوئیں ہر ایک کے حصہ میں ایک ایک چادر آئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں بھی ایک چادر آئ جس ان کی قمیص یا کرتا تیار نہیں ہو پارہا تھا تو آپ نے اپنے صاحبزادے عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے حصے کی چادر لے لی یا انھوں آپ کو خود دے دیا اس طرح آپ کا کپڑا اور قمیص تیار ہوگئ آنے والے جمعہ میں جب آپ نے خطبہ دینا شروع کیا تو ایک شخص کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا کہ امیر المومنین! خطبہ بعد میں دیجئے گا پہلے یہ بتائے کہ اس ایک چادر میں جب کہ سب کو ایک ہی چادر ملی تھی آپ کا یہ کرتا کیسے تیار ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے لڑکے عبداللہ کی طرف اشارہ کیا کہ تم اس کو حقیقت حال سے آگاہ کردو ،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہوکر بتایا کہ میں نے اپنے حصے کی چادر بھی ابا جان کو دے دیا تھا ۔ پھر اس شخص نے کہا ہاں اب آپ خطبہ دیجئے ۔
محترم قارئین باتمکین!
ان واقعات سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اسلام کس طرح کا معاشرہ چاہتا ہے اور فرد کو کس طرح نیک نیتی کے ساتھ اپنے اشکلات و اعتراضات کو پیش کرنے کا حق دیتا ہے تاکہ بدگمانیاں اور غلط فہمیاں دور ہوں ۔ کیا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے بھی بڑھ کر آج کسی کا رعب و دبدبہ اور مجلسی طمطراق کسی کو حاصل ہے ۔ لیکن اتنے بارعب خلیفہ ہوتے ہوئے بھی رعایا کے اعتراض کو پوری دلجمعی کے ساتھ سنتے ہیں خوش دلی کے ساتھ صرف برداشت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنی غلطی کو تسلیم بھی کرتے ہیں ۔
منکر پر نکیر لیکن حکمت کے ساتھ برائ پر روک اور لگام لیکن تدبر کے ساتھ اور غلط اقدام پر قدغن لگانا لیکن بصیرت اور موقع محل اور موقع شناسی کے ساتھ یہ تو اس دین کا مزاج اور امتیاز ہے اس پر چیں بجیں ہونا یہ دین اور شریعت کے مزاج کے خلاف ہے ۔ کیا تاریخ کے یہ واقعات صرف سننے اور سنانے کے لئے ہیں یا عمل کرنے کے لئے بھی ہیں ؟

*نوٹ اوپر کے واقعات کو زبانی ہی لکھ دیا ہے یادداشت کی بنیاد پر اس لئے اس کو روایت بالمعنی ہی سمجھئے گا* ۔

محمد قمرالزماں ندوی

✴✴✴✴✴
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں