24

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے

محترم قارئین باتمکین !
کل کے پیغام میں راقم نے *مسلم پرسنل لا بورڈ ملت اسلامیہ ہندیہ کے لئے سرمائہ ملت کا نگہبان* کو موضوع بنایا تھا اور بورڈ کی تاریخ، پس منظر، قیام، اور خدمات پر اپنی معلومات کو نذر قارئین کیا تھا ۔ مضمون اور موضوع سے متعلق کافی باتیں رہ گئ تھیں ارادہ یہی تھا کہ اختصار کے ساتھ آج وہ تفصیلات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ لیکن کل اور آج کے حالات( مسلم پرسنل لا بورڈ، بابری مسجد اور مولانا سلمان صاحب کا حالیہ موقف) سے اتنا دکھی ہوں کہ سمجھ میں ہی نہیں آ رہا ہے کہ کیا لکھوں اور کہاں سے لکھوں، اس لئے اس مضمون اور پیغام کو آج کسی اور دن کے لئے موخر کرتا ہوں ،کیونکہ جسم کا انگ انگ اور رواں رواں متاثر ہے پورا بدن چھلنی ہے ۔
ایک دو زخم نہیں سارا بدن ہے چھلنی
درد بیچارہ پریشاں ہے کہاں سے اٹھے

موجودہ حالات اور واقعات نے پوری امت مسلمہ ہندیہ کو ہلا کر رکھ دیا ہے ،جس پرسنل لا بورڈ کی عظمت کو میں کل سلام کر رہا تھا ،اس کی تاریخ، خدمات، اور قیام و پس منظر کو موضوع بناکر اکابر کی خدمات کو داد تحسین پیش کر رہا تھا آج اپنے ہی کچھ رہنما اور قائد اس کے وجود، اہمیت اور خدمات کا سرے سے منکر نظر آرہے ہیں،اسلاف کی قربانیوں کو بے حیثیت ثابت کر رہے ہیں اور اس کے وجود،حیثت عرفی اور اس کے نام ہی پر سوالیہ نشان کھڑا کر ریے ہیں ۔ آج یقینا حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رح حضرت مولانا علی میاں ندوی رح مولانا منت اللہ رحمانی رح قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رح اور مولانا نظام الدین صاحب رح وغیرہ کی روحوں کو تکلیف پہنچی ہوگی کہ خلف نے سلف کو کیا اور کیسا بدلہ دیا اور کس طرح ان کی کوششوں محنتوں اور جدوجہد جہد پر پانی پھیر دیا ۔ اور آج ہم سب کے پیر و مرشد سالار قافلہ حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب ندوی مدظہ العالی پر کیا گزری اور گزر رہی ہوگی ۔ جو بلا شبہ ایک فرشتہ صفت اور بے ضرر انسان اور قائد ہیں ۔
اغیار تو اسی انتظار میں تھے کہ کب یہ تماشہ ہو اور ہم تماشائی بنیں اس ڈرامہ اور منظر کو دیکھیں ۔
آج احساس ہوا کہ کہ سمندر جیسا علم اور پہاڑ جیسی معلومات اور علم و تحقیق میں سمندر جیسی گہرائ و گیرائ یہ اصل کمال اور خوبی نہیں ہے اور نہ اس سے انسان کو فورا متاثر ہونا چاہیے، اصل کمال یہ ہے کہ انسان کے اندر براھیمی و خلیلی نظر پیدا ہوجائے ،اور ہوس چھپ چھپ کر سینہ میں جگہ اور مقام نہ بنا پائے ۔ لیکن یہ نظر اللہ تعالٰی ہرکس و ناکس کو نہیں دیتا ،اس کو پیدا کرنا بہت ہی مشکل اور دشوار ہے یہ وہبی بھی ہے اور کسبی بھی اور کسبی کے لئے اہل اللہ اور صدیقین کی صحبت ضروری ہے اور صرف صحبت ہی ضروری اور کافی نہیں، ان اللہ والوں کی عزت اور قدر دانی بھی ضروری ہے اگر دل میں قدر اور احترام نہ ہو تو پوری زندگی کوئی بڑوں کی جوتیاں سیدھی کرتا رہے سفر حضر میں ان کا رفیق بن کر گھومتا رہے لیکن وہ محروم کا محروم ہی رہتا ہے ۔ براھیمی نظر پیدا کرنا یہ کام دنیا میں کوئ آسان کام نہیں ہے اسی لئے تو اقبال مرحوم کہہ گئے تھے
براھیمی نظر مشکل سے ہوتی ہے مگر پیدا
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصوریں

اگر پیر حرم میں بصیرت اور براھیمی نظر نہ ہو تو حرم اور اہل حرم دونوں ان کی کم نگاہی اور بے نگاہی سے ذلیل اور رسوا ہوجاتے ہیں ۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا ۔

حرم رسوا ہوا پیر حرم کی کم نگاہی سے
جوانان تتاری کس قدر صاحب نظر نکلے
محترم قارئین باتمکین!
شاعر مشرق علامہ اقبال مرحوم نے ایک قائد کے لئے جن خصوصیات کا ہونا لازمی اور ضروری قرار دیا ہے اور ان اوصاف کے بغیر صحیح قائد بننا اور صحیح قیادت کرنا ناممکن ہے ۔ وہ اوصاف اور خوبیاں یہ ہیں :
نگہ بلند،سخن دلنوز جاں پر سوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

نگاہ کی بلندی ،دلوں کو چھو لینے والا سخن اور سینے کی تڑپ کے بغیر کسی قیادت کا تصور جغرافیے کے اس نقشے سے زیادہ کچھ بھی نہیں جو دریاؤں اور سمندروں کی شکل و صورت تو رکھتا ہے لیکن دریاؤں کی موجوں کے اضطراب سے محروم ہے ۔
یاد رکھئیے بلند نگاہی قیادت کو معتبر بناتی ہے،دلوں میں اتر جانے والے سخن قیادت کی گرفت کو مضبوط کرتے ہیں ۔ سینے کی تڑپ اور بے چینی قیادت کو محبوبِیت کی منزل سے آشنا کرتی ہے نگاہ کی بلندی سخن کی دلنوازی اور جان کی پر سوزی سے جب کوئ قیادت عبارت ہوتی ہے تو مردہ قوم کے لئے زندگی کا سبب بن جایا کرتی ہے ۔
بار الہا ! خدایا اس ملت کو ایسی ہی قیادت اور ان ہی اوصاف ( نگہ بلند،سخن دلنواز اور جاں پرسوز ) سے متصف قائدین ہر موڑ پر نصیب فرما اور ہمیں ان کی قیادت میں ایک مخلص مومن بندے کی طرح چلنے کی توفیق نصیب فرما آمین
اللہ تعالی مرشد الامت حضرت مولانا سید محمد رابع صاحب حسنی ندوی دامت برکاتھم کا سایہ تادیر ہم لوگوں پر قائم رکھے اور ان کی قیادت اور امارت میں ہم سب کو سمع و طاعت کے ساتھ چلنے کی توفیق نصیب فرمائے اور مسلمانوں کے اس متحدہ پلیٹ فارم کو جو کہ بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رھبانی کی مانند ہے ہر فتنہ سے اس کی حفاظت فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں