حافظ قرآن کا رتبہ اور درجہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

موصوف خیالات ڈاٹ کام کے روزانہ کے کالم نگار ہیں .
محمد قمرالزماں ندوی

گزشتہ رات (۱۷ اپریل بروز منگل) راقم کے چھوٹے بچے عزیزم محمد صفوان شیبانی سلمہ کا ختم قرآن تھا۔ تکمیل حفظ قرآن کی مناسبت سے ایک پروگرام بھی رکھا گیا تھا جس میں علاقہ کے اہم علماء کرام اور اہل تعلق،رشتہ دار ،برادران اور کچھ دور دراز کے مہمان بھی تشریف لائے تھے ۔ اہم شرکاء اور مدعویین میں مولانا اسد اللہ صاحب ندوی ،مولانا مفتی جمیل الرحمن صاحب قاسمی پرتابگڑھ گڑھ ،مولانا فاروق صاحب قاسمی پرتابگڑھ، مولانا اسرار احمد صاحب قاسمی ڈروا ، مولانا مشتاق صاحب ندوی فلاح المسلمین تیندوا ۔،مولانا طارق شفیق ندوی گھورکھ پور، مولانا رحمت اللہ ندوی صاحب ندوۃ العلماء لکھنئو مولانا محمد زبیر صاحب ندوی کنڈہ مولانا سفیان فیصل مانک پور مولانا نسیم صاحب ندوی مولانا آدم صاحب ندوی اور دیگر بہت سے علماء کرام اور معززین شریک ہوئے ۔ مولانا اسد اللہ صاحب ندوی کی صدارت اور مولانا محمد فاروق صاحب کی نظامت میں تکمیل حفظ قرآن کی یہ تقریب نہایت تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوئ ۔ اور اہمیت قرآن مجید پر انتہائی مفید اور موثر باتیں ہوئیں ۔
راقم الحروف دو دن سے مسلسل اس پروگرام کی تیاری میں رہا کل یہ موقع ہی نہیں ملا کہ آج کا پیغام لکھ سکوں ۔ آج ایسا لگ رہا تھا کہ دوڈ بھاگ کی وجہ سے آج پیغام لکھنے میں وقفہ اور انقطاع ہو جائے گا ۔ لیکن پھر کوشش کرکے ابھی صبح بعد نماز فجر کچھ لکھنے بیٹھ گیا ذھن میں آیا کہ رات قرآن مجید کی حفظ کی اہمیت و فضیلت پر جو مفید اور قیمتی باتیں آئیں اس کا خلاصہ اور لب لباب آپ قارئین باتمکین کی خدمت میں پیش کردوں ۔

قرآن مجید خدا کی آخری کتاب ہے اس کو یہ خصوصیت اور اہمیت حاصل ہے کہ اس کو یاد کرنا آسان ہے ۔ اس آخری آسمانی ، الہامی کتاب سے مسلمانوں کی شیفتگی و فریفتگی بے مثال تعلق اور محبت نے بھی اس عمل کو آسان اور سہل کردیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ لاکھوں مسلمانوں کے سینوں میں یہ کتاب الہی مکمل طور پر محفوظ ہے ۔ قرآن مجید کے حافظ وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو عربی نہیں جانتے اور اس کے مفہوم سے ناواقف ہیں ۔
حدیث شریف میں حافظ قرآن کی فضیلت بے شمار جگہ وارد ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حاملین قرآن کی فضیلت اس شخص پر جو حامل قرآن نہیں ہے ایسی ہی ہے جیسے خالق کی فضیلت مخلوق پر (کنز العمال )
ایک دوسری حدیث میں حافظ قرآن کے درجات کی بلندی اس طرح بیان فرمائ گئ ہے کہ : حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتے جاو اور بلند ہوتے جاو اور ٹھر ٹھر کر اطمنان سے پڑھو جس طرح تم دنیا میں ٹھر ٹھر کر پڑھتے تھے کیونکہ تمہارا درجہ وہی ہوگا جس جگہ تم قرآن کی آخری آیت پڑھو گے ۔
اولاد کو جو والدین قرآن مجید پڑھاتے ہیں اور حفظ کراتے ہیں ان کے لئے خوش خبری ہے کہ قیامت کے دن ان کو نور کا ایک تاج پہنایا جائے گا، اس کی چمک سورج کی روشنی کی طرح ہوگی اور اس کو دو جوڑے ایسے پہنائے جائیں گے کہ پوری دنیا بھی اس کی قیمت نہیں بن سکتی ،وہ پوچھیں گے کہ یہ ہمیں کس چیز کے بدلے پہنائے جارہے ہیں؟ تو انہیں بتایا جائے گا کہ یہ تمہارے بچے کے قرآن مجید پڑھنے اور حفظ کرنے کا انعام ہے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ محنت و مشقت کے بعد بھی اگر کوئی شخص قرآن مجید روانی اور صحت و سلاست کے ساتھ نہ پڑھ پائے تو اس کے لئے دو اجر ہے ایک تلاوت قرآن کا اور دوسرا اس کی محنت و مشقت اور کوشش کا ۔
اور بھی بہت سی قیمتی باتیں قرآن مجید کے بارے میں اور حافظ قرآن کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے آئیں ۔

قارئین باتمکین!
میرے والدین اور تمام ہی رشتہ داروں کی بے پناہ خواہش تھی کہ میں حافظ قرآن بنوں اس کے لئے ایک تقریب بھی منعقد کی گئی تھی مجھے خوبصورت جوڑا پہنایا گیا تھا اور کافی نقدی انعام بھی دیا گیا تھا لیکن اللہ کی کیا مصلحت تھی کہ تمام تر کوشش اور جدو جہد کے بعد بھی میں حافظ قرآن مجید نہیں بن سکا ایسا نہیں کہ میں بالکل غبی اور کند ذھن تھا لیکن اللہ کی مصلحت و حکمت اللہ ہی جانے ۔ کچھ ظاہری وجہ اور کاوز بھی تھا ناظرہ مکمل کئے بغیر قرآن مجید کا حفظ میرے لئے دشوار تھا میرے مربی اور اتالیق مولانا ریاض احمد ندوی کا حکم اور فرمان تھا کہ روزانہ دو رکوع پہلے دن میں ناظرہ پڑھوں اور رات میں اسی کو یاد کرکے صبح سناوں یہ میرے لئے بہت مشکل ثابت ہو اور میں نے اس لائن کو چینج کرکے مکتب میں داخلہ لے لیا حافظ نہ بننے کا مجھے ہمیشہ قلق رہا اور اس کا بھی کہ تمام رشتہ داروں کی دیرینہ خواہش پوری نہ کرسکا ۔ میرے بعد مجھ سے چھوٹے بھائ محمد شہباز سلمہ کو حفظ کے آمادہ کیا گیا خدا کی شان دیکھئے کہ اس نے صرف ڈیڑھ سال کی قلیل مدت میں حفظ قرآن مکمل کر لیا اور ۲۷ سال سے تراویح پڑھا رہا ہے اور بے مثال حافظ ہے بلکہ ہزاروں میں ایک ہے ۔
میں نے بچپن میں ہی ارداہ کیا تھا کہ میرے جتنے بچے ہوں گے میں ان کو مکتب کی تعلیم دلانے کے بعد پہلے حافظ بناوں گا اور تکمیل حفظ قرآن کی مناسبت سے اچھا پروگرام کروں گا الحمدللہ میں نے اس وعدے کو نبھایا اور دوسرا بچہ عید کے بعد حافظ قرآن بننے والا ہے انشاءاللہ اس موقع پر بھی قرآن کی نسبت سے خاص طور پر علماء اور اہل علم کو مدعو کروں گا ۔

میری شریک حیات نے مجھ سے کہا شادی بالکل سنت کے مطابق کیجئے لیکن تکمیل حفظ قرآن کی مناسبت سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مدعو کیجئے ۔
میں اپنے تمام ہی قارئین باتمکین ! سے درخواست کرتا ہوں کہ میری اولاد کا یہ حفظ قرآن مجید میرے لئے اور میرے والدین اہل و عیال متعلیقن اساتذہ اور تمام محبین بلکہ ساری امت کی نجات اور مغفرت کا ذریعہ بن جائے ۔ اور وہ تاج اور جوڑا ہمیں بھی نصیب ہو جائے جس کا وعدہ حدیث شریف میں حافظ قرآن کے والدین سے کیا گیا ہے ۔

محمد قمرالزماں ندوی
مدرسہ نور لاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ یوپی