9

جھگڑالو اور قیل وقال والی ذہنیت سے بچیں

سماج اور سوسائٹی میں میں ایسے لوگ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کو قیل و قال بحث و مباحثہ لا یعنی تکرار گرما گرم مناظرہ طول و طویل گفتگو اور لا یعنی نکتہ آفرینی میں بڑا مزہ آتا ہے، ہر بات میں کیڑا نکالنا اور باتوں باتوں میں جھگڑنے کے لئے اور تکرار کے لئے آمادہ ہوجانا ان کا محبوب مشغلہ ہوجانا ہے ،ایسے لوگ کسی بھی سماج اور معاشرے کے مصیبت اور درد سر بن جاتے ہیں ۔ جن ادارے، مراکز اور جامعات و مدارس میں ایسے منفی ذہنیت کے لوگ پائے جاتے ہیں وہاں ائے دن انتشار و خلفشار کا ماحول بنا رہتا ہے اور لوگ ذہنی طور پر انتشار اور بے سکونی کے شکار رہتے ہیں ۔
حدیث شریف میں ایسے جھگڑالو ذہنیت رکھنے والے اور قیل و قال کرنے والے کے لئے بڑی وعیدیں ہیں شریعت میں ایسے لوگوں کو ناپسند کیا گیا ہے اور ان کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا گیا ہے ۔
جھگڑالو ذہنیت یہ منفی ذہنیت ہے، اس ذہنیت کے منفی اور ناپسندیدہ ہونے کا اندازہ ان احادیث و اقوال رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاسکتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: *ابغض الرجال الی اللہ الالد الخصم* اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض وہ شخص ہے جو ضدی قسم کا جھگڑالو ہو ۔
ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
*کفی بک اثما ان لا تزال مخاصما* ۔۔۔۔۔۔۔۔ترمزی۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے لئے یہی گناہ کافی ہے کہ تو ہمیشہ جھگڑتا ہی رہے ۔
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالٰی تمہارے لئے تین باتوں کو پسند کرتا ہے اور تین باتوں کو ناپسند کرتا ہے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ وہ تین باتوں کی وجہ سے تم پر غضبناک ہوتا ہے ۔ اس نے جو چیزیں تمہارے لئے پسند فرمائ ہیں وہ یہ ہیں کہ تم اسی کی بندگی اختیار کرو اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ قرار دو، اور یہ کہ تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ اور یہ کہ اس کی خیر خواہی کرو جس کو خدا نے تم پر حاکم بنایا ہے اور اس نے تمہارے لئے جو چیزیں ناپسند کی ہیں وہ ہیں : قیل و قال، کثرت سوال اور اضاعت مال ۔ ۔۔۔ مسلم ۔۔۔۔۔۔
اس آخری حدیث میں جن تین ناپسندیدہ باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے علماء نے لکھا ہے ان میں پہلی چیز کا تعلق آدمی کے فکر اور اس کی ذہنی کیفیت سے ہے ۔ دوسری چیز کا تعلق براہ راست آدمی کے اخلاق و کردار اور اس کی سیرت سے ہے اور تیسری چیز اس بات سے تعلق رکھتی ہے کہ آدمی اپنی عملی زندگی ذمہ دارانہ گزارتا ہے یا نہیں ۔ یہ تین باتیں ہم قافیہ بیان ہوئ ہیں ۔ اس لئے ان کو آسانی سے یاد رکھا جاسکتا ہے ۔ آج کے پیغام کا اوپر جو عنوان ہے اس مناسبت سے صرف حدیث کے پہلے ٹکڑے پر تھوڑی سی گفتگو ہوگی ۔
محترم قارئین!
حدیث شریف میں پہلی چیز جو اللہ تعالی کو ناپسند ہے وہ ہے قیل و قال، یعنی لاحاصل باتیں اور بے معنی بحث و مباحثہ، کسی بات میں کھود کرید، بے جا بحث و مباحثہ اور حجت بازی سخت ناپسندیدہ چیز ہے، یہ بگڑ ے ہوئے ذہن کی علامت ہے ۔ ایسا شخص جو قیل و قال کا دلدادہ ہوتا ہے اسے بس اسی میں دلچسپی ہوتی ہے ۔ اس کی قوت و توانائی کا برا حصہ قیل و قال کی نذر ہوجاتا ہے ۔ اس کے یہاں غور و فکر اور گہرے سوچ بچار اور سمع و طاعت کا جذبہ اور صلاحیت مجروح ہوکر رہ جاتی ہے ۔ اس میں ایک طرح کا کبر بھی پیدا ہو جاتا ہے ۔ وہ ہر بات میں عیب ڈونڈھ نکالنے ہی کو اپنی فتح مندی تصور کرتا ہے ۔ایسا شخص سماج کے لئے بھی مضر ہوتا ہے ۔ کتنے ہی لوگ اس کی باتوں کے فریب میں آجاتے ہیں ۔ اور وہی بے اعتدالی ان کے اندر بھی سرایت کرجاتی ہے ۔ وہ ان کا ذوق و مزاج بھی بگاڑ دیتا ہے ۔ اور ایک بڑا نقصان اس سے یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی دین کی اصل لذت و کیفیت سے محروم ہوجانا ہے ۔
آج جب سے جدید آلات و وسائل کی بھرمار ہوئی ہے ہر رطب و یابس کے ہاتھ میں یہ آلات پہنچ گئے ہیں فضول بکواس لا یعنی باتیں اور قیل وقال کی کثرت حد سے زیادہ ہوگئ ہے بعض منفی اور قیل وقال والی ذہنیت کے لوگوں کا صرف یہی مشغلہ رہ گیا ہے کہ بے فائدہ موضوع پر بحث کریں اور اپنی قیمتی انرجی اور قیمتی اوقات کو ضائع اور برباد کریں، اللہ تعالٰی ہم سب کی ایسی ذہنیت اور خواہ مخواہ قیل و قال اور بلا فائدہ و فضول مباحثہ اور بحث و تکرار سے حفاظت فرمائے اور ہمارے ان اوقات کو دین کی خدمت کے لئے قبول کر لے آمین

محمد قمرالزماں ندوی

مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں