جنگ بدر :حق و باطل کا پہلا تاریخ ساز معرکہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

الحاج محمد ہاشم قادری مصباحی
جمشید پور جھارکھنڈ

جنگ بدر کو گزرے ہوئے چودہ سو سال سے زیادہ ہوچکے ہیں لیکن اس کی یاد آج بھی مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کردیتی ہے۔ صدیوں بعدآج بھی مقامِ بدر کفار کی شکست فاش اور مسلمانوں کی فتح و کامرانی کی گواہی دیتاہے کیوں نہ ہو خود رب تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام میں اس کا ذکر فرمایا۔چنانچہ سورہ انفال میں پوری تفصیل سے اور سورہ آ ل عمران و سورۃ الصف ،آیت 11،سورۃ المؤمنون ، سورۃ البقرہ ، سورۃ عنکبوت وغیرہ میں اس جنگ کے حال کو بیان فرمایا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہا ہے: وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍوَاَنْتُم ْاَذِلَّۃٌ ج فَاتَّقُوْااللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن۔(القرآن سورہ آل عمران، آیت 124)ترجمہ: اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی جب تم بالکل بے سروسامان تھے تو اللہ سے ڈرو کہیں تم شکر گزار ہو(کنز الایمان) تیرہ سال تک کفار مکہ نے محمد الرسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے ۔ ان کا خیال تھا کہ مٹھی بھر یہ بے سروسامان مسلمان بھلا ان کی جنگی طاقت کے سامنے کیسے ٹھہر سکتے ہیں ۔ لیکن یہ توحید کے متوالے سچے عاشق رسول ذرہ برابرپیچھے نہیں ہٹے ۔ ان کا ایمان انتہائی مضبوط ، ان کا عشق بے لوث۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد فرمائی اور صرف تین سو تیرہ(313) مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لاؤلشکر کو ان کی تمام تر مادی طاقت کے ساتھ خاک چاٹنے پر مجبور کر دیا ۔

جنگ بدر:

اسلام کی جنگوں میں جنگ بدر سب سے پہلی اور کفر و شرک میں امتیاز پیدا کرنے والی جنگ ہے۔ اس لئے کہ اسلام کی عزت و شوکت کی ابتدا اور کفروشرک کی ذلت و رسوائی کی ابتدا اسی غزوہ سے ہوئی۔اسی لئے اس میں شریک ہونے والے صحابہ کرام کی قرآن و حدیث میں بڑی فضیلت آئی ہے۔ صحابہ کرام کا ایمان بالیقین کی منزل سے آگے تھا۔ اللہ و رسول کے فرمان پر ایمان اتنا راسخ تھا جس کی مثال آج تک دنیا میں نہیں ملی نہ آنے والے صبح قیامت تک ملے گی۔

ہجرت مدینہ:

حضور ﷺ نے جب ہجرت مدینہ فرمائی تو کفار قریش نے ہجرت کے بعدہی مدینہ طیبہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردی تھیں ۔جنگ بدر سے پہلے اتفاقی جھڑپ جو صحابہ اور قریش مکہ سے ہوئی اور اس میں عمرو بن خصومی کا قتل ہوگیا،جس نے کفار مکہ کے غصہ کو مزید بھڑکا دیا اور اس واقعہ سے بھڑک کر کفار مکہ نے زبردست جنگی تیاریاں شروع کردیں ۔ آقا ﷺ کو جب ان حالات کی خبر ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو جمع کیا ۔ اس واقعہ اور کفار ِ مکہ کی تیاریوں کا ذکر فرمایا۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام نے جواب میں نہایت جوشیلی ، جاں نثاری و فدایانہ تقریر کی۔ حضرت سعد بن عبادہ (خزرج کے سردار) نے عرض کیا۔یا رسو ل اللہ ﷺ خدا کی قسم اگر آپ حکم فرمائیں تو ہم سمندر میں کودنے کو تیار ہیں ۔ حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا،ہم حضرت موسیٰ کی امت کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ آپ او رآپ کا رب خود جاکر لڑے، ہم تو یہیں بیٹھے ہوئے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں سے، بائیں سے، سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے ۔ پھر آپ نے اور تمام صحابہ نے اعلان کیا کہ ہم لوگ واقعی آپ کے تابعدار ہوں گے ، جہاں آپ کا پسینہ گرے گا ہم اپنا خون بہادیں گے۔ آپ بسم اللہ کیجئے اور جنگ کا حکم فرمائیں ۔ ان شاء اللہ اسلام ہی غالب آئے گا۔ سرکار دوعالم ﷺ نے جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کے اس جذبہِ سرفروشانہ اور جوش ایمانی کو دیکھا تو آپ کا چہرہ اقدس فرط مسرت سے چمک اٹھا۔پھر آپ نے اپنا چہرہ مبارکہ آسمان کی طرف اٹھا کر ان سب کے لئے بارگاہ خدا وندی میں دعائے خیر فرمائی اور ارشاد فرمایا: خدا وند قدوس نے مجھے قافلہ و لشکر میں سے کسی ایک پر فتح عطا کرنے کا وعدہ فرمایاہے۔

بلا شبہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ سچا ہے اور قسم با خدا!میں ابھی سے کفار کے سرداروں کی قتل گاہ دیکھ رہا ہوں ۔ یہ تھا صحابہ کرام کا ایمان کامل اسلام پر مر مٹنے کا جذبہ ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی آزمائش فرمائی۔ قرآن مجید میں ہے۔اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُواالْجَنَّۃَ وَلَمَّا یَاْتِکُمْ مَثَلُ الَّذِیْنَ خَلَوْ امِنْ قَبْلِکُمْ ط مَسَّتْھُمُ الْبَاْسآئُ وَالضَّرَّآئُ وَ زُلْزِلُوْ ا حَتّٰی یَقُوْلَ الرَّسُوْلُ وَالَّذِیْنَ آمَنُوْ ا مَعَہٗ مَتٰی نَصْرُاللّٰہِ ط اَلَآ اِنَّ نَصْرَاللّٰہِ قَرِیْبٌ(القرآن سورۃ البقرہ، آیت 214)ترجمہ: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤگے اور ابھی تم پر اگلوں کی سی روداد (حالت) نہ آئی پہنچی انہیں سختی اور شدت سے ہلا ہلا ڈالے گئے یہاں تک کہ کہہ اٹھا رسول اور اس کے ساتھی ایمان والے کب آئے گی اللہ کی مدد سن لو بے شک اللہ کی مدد قریب ہے۔(کنزالایمان) اتنی آزمائشوں کے بعد ہی اللہ نے ان سے راضی ہونے کی خوشخبری سنائی۔لقد رضی اللہ عن المؤمنین بے شک اللہ راضی ہوا ایمان والوں سے(القرآن، سورۃ فتح، آیت 18)آقائے دو عالم ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا نہ کہو ،اگر کوئی شخص احد پہاڑ کے برابر بھی سونا(اللہ کی راہ میں )خرچ کر ڈالے تو ان کے ایک مدغلّہ کے برابر بھی نہیں ہوسکتا اور نہ ان کے آدھے مد کے برابر۔(صحیح بخاری، راوی عبد اللہ بن داؤد، ابو معاویہ، شعبہ ، جریر، محاضر،اعمش، رضوان اللہ تعالیٰ علیھم اجمعین، حدیث نمبر3673)

جنگ بدر:

جنگ بدر17؍رمضان المبارک ، جمعۃ المبارک 2؍ہجری بمطابق 13؍مارچ ۶۲۴عیسوی کو ہوئی۔ اسی سال بہت بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے۔ تحویل قبلہ بھی اسی سال ہوا۔ اسی سال زکوٰۃ کا حکم نازل ہوا۔ اسی سال جہاد کی اجازت ملی۔اسی سال امت محمدی پر روزہ فرض ہوئے(پہلے ہی سے روزہ فرض تھا ،اس کی صورت دوسری تھی) ۔اسی سال آیات جہاد نازل ہوئیں اور مسلمانوں نے جنگ بدر سے جہاد کا آغاز کیا۔ مدینہ منورہ سے تقریباً 110؍کلومیٹر کے فاصلے پر بدر ایک کنواں ہے جس کا مالک ایک شخص مسمیٰ بدر ابن عاصم میر نے کھودا تھا۔ اسی کے نام سے یہ گاؤں تھا جہاں زمانہ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ جب محمد الرسول اللہ ﷺ نے مکہ کی سرزمین میں اللہ کی وحدانیت کا اعلان فرمایا اور فرمایا کہ صرف اور صرف اللہ ہی کی عبادت سچ ہے ۔ حق ہے تو آہستہ آہستہ لوگ حق کو قبول کرنے لگے اور اسلام میں داخل ہونے لگے ۔مدینہ میں بھی اسلام پھیلنے لگا ۔ یہ بات کفار مکہ کو پسند نہ آئی۔ ان کے لئے یہ انتہائی تکلیف دہ بات تھی۔ قریش مکہ ہمیشہ اسلام کو مٹانے اور ا س کے ماننے والوں کو ختم کرنے کے لئے منصوبے بناتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کو ہر وقت مدینہ پر اور مسلمانوں پرحملے کا خوف لگا رہتاتھا۔ اس صورتحال کی نزاکت کا یہ حال تھا کہ صحابہ کرام ہتھیار لے کر چلتے ،ہتھیار لے کر سوتے اور خود حضور ﷺ اس طرح کی حفاظتی تدابیر اختیار فرماتے ۔ آپ ﷺ اشاعت دین میں لگے رہتے ۔ آپ اور آپ کے جاں نثار ساتھی مدینہ اور اطراف میں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں لگے رہتے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کے اثرات تیزی سے دور دراز علاقوں تک پہنچنے لگے۔ لوگ اسلام کی حقانیت حضور ﷺ کے اخلاق سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہورہے تھے۔ ان کوششوں سے بحرین کا سردار عبد القیس مدینہ کی طرف اسلام قبول کرنے آرہا تھا کہ کفار مکہ نے راستے میں ہی روک لیا۔ رجب ۲؍ہجری میں آقا ﷺ نے عبد اللہ بن حجش کی قیادت میں بارہ آدمیوں کا ایک دستہ اس لئے بھیجا کہ قریش کے تجارتی قافلوں کی نقل وحرکت اور ان کی تیاریوں پر نگاہ رکھیں ۔ اتفاقی طور پر قریشی قافلہ مل گیااور جھڑپ ہوگئی،جس میں عمرو بن الحضری کا قتل ہوگیا۔(جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے)دو گرفتار کرکے لائے گئے۔حضور کو قتل کی خبر سن کر تکلیف ہوئی۔ آپ ﷺ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ قیدیوں کو رہا کرا دیا اور مقتول کو خون بہا ادا کیا۔ اس واقعہ کو قریش مکہ نے خوب پروپیگنڈہ (Propaganda)کیا اور عرب کے تمام قبائل کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اکسایااور اسلام کے خاتمے کا منصوبہ بناکر مسلمانوں سے بدر کے مقام پر جنگ کا آغاز کیا۔

اس معرکے کا ذکر دنیا کی تمام تاریخ میں موجود ہے۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا(Encyclopedia Britannica) جو کہ ۳۲؍جلدوں پر تاریخ کی مستند کتاب مانی جاتی ہے، اس میں اس کا تفصیل سے ذکر ہے۔ لیکن افسوس جیسے اور تاریخ دانوں نے اسلام دشمنی کی وجہ کر تاریخ سے انصاف نہیں کیا ہے۔ اسی طرح اس کے مصنف نے بھی بددیانتی سے کام لیاہے۔ خاص کر جنگ کے بعد آقا ﷺ کا یہ فرمان کہ قیدیوں سے حسن سلوک سے پیش آؤ اس کا ذکر سرے سے غائب ہے۔ بہرحال، جنگ بدر کا ذکر تو کلام الٰہی میں صراحت (Details)کے ساتھ موجود ہے۔(اوپر آیتوں کا حوالہ گزرچکا ہے)اللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح مبین کے بارے میں احسان جتایاہے۔ جنگ بدر میں دونوں لشکروں کا موازنہ(Compare) :اسلامی مجاہدین313،کفار950 ،لشکر اسلامی اونٹ70 ،کفار700،لشکر اسلامی گھوڑے3 ،کفار 700،لشکر اسلامی تلواریں 8 ،کفار 950 ، لشکر اسلامی زرہیں 6،کفار 950 ، وغیرہ وغیرہ۔ کفار کے لشکر میں کھانے پینے کا بہت کثرت سے تھاروز گیارہ اونٹ ذبح کرکے کھاتے جبکہ اسلامی لشکر میں سامان کی حالت یہ تھی کہ کسی کے پاس ایک صاع کھجوریں ، کسی کے پاس دو صاع۔ کفار کے لشکر میں عیش و عشرت کا سامان کافی تعداد میں تھا اور وہ پانی کے پڑاؤ کے قریب تھے۔ طوائفوں (Call Girl) اور گانے بجانے کا سامان تھا جبکہ مسلمانوں کے پاس ایک خیمہ(Camp) تک نہ تھا۔ صحابہ کرام نے کھجور کے پتوں سے اور ٹہنیوں سے ایک جھونپڑی تیارکرکے حضور ﷺ کو اس میں ٹھہرایا۔ آج اس جگہ مسجد بنی ہوئی ہے۔ (مدارج النبوۃ، جلد 2، صفحہ 147)

جنگ بدر کی ترتیب:

انسائیکلو پیڈیا ٹانیکا کا مصنف لکھتاہے :محمد ﷺ نے اپنی ظاہر حیات طیبہ کے ۵۵؍سال گزارنے کے بعدپہلی بار آپ نے 13؍مارچ 62 4 عیسوی بمطابق 17؍رمضان المبارک 2 ہجری میں جنگ بدر میں شرکت فرمائی۔ پہلی ہی جنگ میں آپ نے لشکر کی ترتیب ایسے بہترین طریقے سے انجام دی کہ دنیا کے سامنے ایک مثال قائم فرمادی۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ آپ کواللہ تعالیٰ نے تمام علوم و فنون کے ساتھ علم وفن حرب بھی ودیعت فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے علم غیب سے آپ کو نوازا تھا۔ جنگ بدر کے دن حضور ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ میدان جنگ کا معائنہ فرمایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے زمین پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا:یہ فلاں کے گر کر مرنے کی جگہ ہے، یہ فلاں کے مر کر گرنے کی جگہ ہے، یہ فلاں کا مقتل ہے اور یہ فلاں کی جائے کشتن ہے اور ایک ایک مارے جانے والے کا نام اور اس کے مقتل کا نشان بتایا اور ان میں سے کوئی بھی حضور ﷺ کی بتائی ہوئی جگہ کے بر خلاف نہ مارا گیا۔ چنانچہ اسی جگہ سے ایک بالشت بھی ہٹ کر نہ مرا۔ یہ ہے علم غیب مصطفی ﷺ (مدارج النبوۃ جلد 2، صفحہ 144سے 147 تک)

جنگ بدر کی لڑائی کے دن صبح فجر میں حضور نبی کریم ﷺ جہاد کی تلقین کی اور آپ نے صف بندی کی اور لشکر جرار کو شکست دینے کے آ ہنی عزم سے میدان جنگ کی طرف بڑھے ۔ مسلمانوں کے لئے سخت آزمائش کا وقت تھا ۔ اس لئے کہ اپنے ہی بھائیوں سے مقابلہ کرنا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے بیٹے عبد الرحمٰن سے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو اپنے باپ عتبہ سے وغیرہ وغیرہ مقابلہ کرنا تھا۔ سب سے پہلے جہنم کا ایندھن عمر الحضری کا بھائی عامر میدان میں نکلا اور مد مقابل کو بلایا۔ مقابلے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ایک غلام نکلا اور چشم زدن میں اس مغرور کا خاتمہ کردیا۔ یہ اپنے بھائی کا انتقام لینے آیا تھا۔(جس کا ذکر اوپر ہوچکاہے) وہ جہنم رسید ہوگیا۔ اس کے بعد عتبہ بن ربیعہ اس کا بھائی شیبہ اور اس کا بیٹا ولید بن عتبہ میدان میں نکلے اور مبارز (جنگ کے لئے تیار ہوکر آنے والا لڑنے والا) تین انصاری صحابی نکلے۔ ان تینوں نے ان سے مقابلہ کرنے سے انکار کر دیاکہ ہم بکری چرانے والے چرواہے سے نہیں لڑیں گے ۔ یہ ہمارے ہم پلہ نہیں ہیں اور غرور میں چلاکر کہا ۔’’اے محمد (ﷺ) مقابلے میں قریشی بھیجو، ہم بہادر ہیں چرواہوں سے نہیں لڑتے ۔چنانچہ حضور ﷺ کے ارشا د پر حضرت حمزہ (بعد میں امیر حمزہ کے نام سے مشہورہوئے) حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیدہ مقابلے کے لئے نکلے۔مغرور قریشی سرداروں نے ان کے نام پوچھے اور ’’ہاں تم ہمارے ہم پلہ ہو‘‘۔مقابلہ شروع ہوا ، چند لمحوں میں حضرت حمزہ نے شیبہ کو جہنم رسید کردیا اور حضرت علی نے ولید کو قتل کر ڈالا اور لشکر اسلام سے تکبیر کی آواز بلند ہوئی۔

اسی دوران عتبہ اور حضرت عبیدہ نے زبردست جنگ لڑی اور دونوں زخمی ہوکر گر پڑے ۔ حضرت علی اپنے مد مقابل کو جہنم رسید کر عتبہ کی طرف لپکے اور ایک ضرب میں اس کا کام تمام کردیااور عبیدہ کو لشکر میں اٹھا لائے۔ کفار نے نامور سردار وں کو کٹتے دیکھ کر یکبارگی حملہ کر دیا تاکہ اکثریت کے بل بوتے پر لشکر اسلام کو شکست دیں ۔ زبردست جنگ جاری تھی۔ کفار قریش کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ مسلمان خوب شجاعت ،جواں مردی سے لڑ رہے تھے۔ اسی دوران اسلامی لشکر کے دو کم عمر بچے جو حضور کی اجازت سے جنگ میں شامل ہوئے تھے،معاذ بن عمروبن جموع اور معاذ بن عضر حضرت عبد الرحمٰن بن عوف کے پاس آئے اور ان سے پوچھا ، چچا جان، آپ ابو جہل کو پہچانتے ہیں ، وہ کہاں ہے ، ہم نے سنا ہے وہ آقا ﷺ کو گالیاں بکتاہے۔ آپ نے اشارے سے بتادیا وہ گھوڑے پر سوار تھا ۔ یہ دونوں ننھے مجاہدین پیدل دوڑ پڑے ۔ دونوں نے ابو جہل پر حملہ کیا ۔ زبردست مقابلہ ہوا ۔ ابو جہل نے معاذ بن عمرو پر حملہ کیا۔ آپ کا بازو کٹ کر لٹک گیا۔ آپ نے پیرسے دباکر اسے ہٹایا اور ایک ہی ہاتھ سے ابو جہل پر زبردست وار کیا اور اسے واصلِ جہنم کردیا ۔ زور کا نعرہ لگا۔ ابو جہل کے قتل ہوتے ہی کفار قریش میں کھلبلی مچ گئی اور اتنے بڑے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدد بھیجی ۔ قرآن مجید میں ہے: اِذْ تَسْتَغِیْثُوْنَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّ کُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰئِکَۃِ مُرْدِفِیْن(القرآن ، سورۃ انفال، آیت 8)ترجمہ: جب تم اپنے رب سے فریاد کرتے تھے تو اس نے تمہاری سن لی کہ میں تمہیں مدد دینے والا ہوں ہزارفرشتوں کی قطار سے(کنز الایمان) مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ جنگ بدر میں اولاً ایک ہزار فرشتے آئے ،پھر تین ہزار،پھر پانچ ہزار ۔صحابہ نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ ان کے آگے کافر بھاگا جا رہا ہے ۔اچانک کوڑے کی آواز آئی اور کافر خود بخودقتل ہوگیا۔(نور العرفان صفحہ 282،283) جنگ شروع ہوتے ہی کفار کو مسلمان بہت زیادہ دِ کھنے لگے تھے، جس سے ان پر رعب چھا گیا اور بھاگ کھڑے ہوئے۔(تفسیر نو ر العرفان صفحہ 290 ) مسلمانوں کے کل چودہ(14)لوگ شہید ہوئے اور قریش کے ستّر (70) لو گ مارے گئے جن میں سے ۳۶؍لوگ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 70؍ سے زیادہ گرفتار ہوئے ۔ کفار قریش کے مقتولین میں ان کے تقریباً تمام نامور سردار شامل تھے اور گرفتار ہونے والے بھی ان کے معززین تھے۔

بدر کے جنگی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک:باوجود قدرت و طاقت کے قصور وار کو معاف کردینا ،عفو و درگزر سے کام لینا اور اس سے حسن سلوک کرنا یہ بہت بڑا کام ہے۔ قرآن کریم میں ہے۔فَاعْفُ عَنْھُمْ وَصْفَعُ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْن (القرآن سورۃ المائدہ، آیت 13)ترجمہ: تو آپ معاف فرماتے رہئے ان کو اور درگزر فرمایئے۔ بے شک اللہ تعالیٰ محبوب رکھتا ہے احسان کرنے والوں کو۔ یعنی وہ ستاتے رہیں آپ نظر انداز کرتے رہیں اور اے مجموعہ ہر خوبی و دلبری آپ اپنا کام کریں ، عفو ودرگزر سے کام لیں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک ﷺ کو مکارم اخلاق کی کتنی بے نظیر تعلیم دی ہے۔ اسی لئے تو حضور ﷺ نے فرمایا: ادبنی ربی فا حسن تادیبی ۔ یعنی میری تعلیم و تربیت میرے رب نے فرمائی اور خوب فرمائی۔ (تفسیرضیاء القرآن جلد ایک، صفحہ 451)دوسری جگہ فاعفو وصفحو ۔آپ درگزر کرتے رہو اور نظر انداز کرتے رہے۔(القرآن سورۃ البقرہ، آیت109) اور بھی آیات کریمہ آپ کے اعلیٰ اخلاق کا اعلان کرتی ہیں ۔ آپ کمال عفو درگزر فرمانے والے تھے۔ مطلب یہ کہ آپ نے اپنی ذات کے لئے کسی سے انتقام نہ لیا، جس نے آپ کے مال کو برباد کیا یا آپ کو برا بھلا کہا یا تکلیف پہنچائی ،اسے آپ نے معاف کردیا۔ البتہ جس نے اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کیا یا مرتد ہوگیا تو آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اسی لئے حدیث شریف میں ہے ما انتم لنفسہ ۔ حضور ﷺ نے اپنی ذات کے تعلق سے کسی سے انتقام نہ لیا اور انتھا ک حرمات اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کی حرمتوں کو پامال کرنے پر سزا دی۔ حضور ﷺ اسیران بدر کو صحابہ میں تقسیم کرکے انہیں آرام سے رکھنے کا حکم دیا۔ صحابہ کرام نے اپنے محبو ب قائد کے فرمان پر اس حد تک عمل کیا کہ خود کھجوریں اور سوکھی روٹی کھا کر قیدیوں کو کھانا کھلایا۔ یہ قیدی صحابہ کے حسن سلوک سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان میں بہت سے مشرف بہ اسلام ہوئے جن میں عباس بن عبد المطلب اور عقیل بن ابو طالب وغیرہ شامل تھے۔ ان قیدیوں کے بارے میں حضور ﷺ نے صحابہ کرام سے مشورہ طلب فرمایا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کرکے دشمن کی طاقت کو توڑنے کا مشورہ دیا۔

حضرت ابو بکر صدیق نے فدیہ لے کر چھوڑ دینے کا مشورہ دیا۔ آپ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے اتفاق کرتے ہوئے اسیرانِ جنگ سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا۔ جوقیدی غریبی کی وجہ کر فدیہ نہیں دے سکے اوروہ پڑھے لکھے تھے، تو آپ ﷺ نے دس دس صحابی کو پڑھانے کے عوض رہا فرمادیا۔ تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اس سے مسلمان لگائیں ۔ افسوس کہ آج بھی مسلمان تعلیم میں پیچھے ہے ۔طرح طرح کے جھگڑوں میں پڑ کر وقت کو برباد کررہے ہیں ۔ ہمارے لئے حضور کی زندگی ہر شعبے میں راہِ عمل او رراہِ نجات ہے۔ ہم تمام مسلمانوں کو حضور ﷺ کو ہی رول ماڈل (Role Model)بنانا چاہئے۔ جنگ بدر کی فتح میں اللہ تعالیٰ کی مدد صحابہ کرام کا ایمان بالیقین کے ساتھ ساتھ نبی ﷺ کی گریہ و زاری اور دعا کرنا جواب میں اللہ نے فتح و نصرت کا وعدہ فرمایا۔ صحابہ کا ذوق شہادت ،بہتر جنگی انتظام، مشہور قریشی سرداروں کی موت سے کفار مکہ میں گھبراہٹ وغیرہ صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی پابندی جو آج مسلمانوں میں بہت کم ہوتی جارہی ہے ۔ اللہ کی مدد و نصرت سے حق وباطل میں حق کو فتح ملی۔ اللہ ہم سب کو حکم الٰہی و رسول کی پیروی کرنے اور اس پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین!