جناح تو صرف بہانا ہیں

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد اکرم ظفیر
   ہمارا ملک پوری دنیا میں اس بات کے لیے مشہور ہے کہ یہاں مختلف ادیان و مذاہب، ذات،نسل، زبان اور کلچر کے لوگ ایک دوسرے کے آپسی میل و محبت سے رہتے ہیں۔ھندووں کے تہوار میں مسلمان اور مسلمان کی عید میں ھندو شریک ہوکر ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔اس بات سے قطعی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ملک جب انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا اور 14 اگست 1947 کو اسلامی ملک کے نام پر پاکستان جب وجود میں آیا اسی وقت سے ملک عزیز میں کچھ تعصب پرست تنظیموں  کے ذہن میں مسلمان چبهنے لگے جو انگریزوں کے لیے مخبری کا کام کرتے تھے۔ملک کی آزادی میں انکا دور دور تک واسطہ نہیں۔جس کا نتیجہ ہوا کہ دلتوں سے بدتر زندگی گزار رہے مسلمانوں نے جب تعلیمی و اقتصادی میدان میں قدم رکھ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی توحوصلے کو پست کرنے کے لیے ایک حکومت کے اشارے پر منظم سازش کے تحت وقت وقت پر فرقہ وارانہ فسادات کراکر کمر توڑ دی گئی۔تعلیمی اداروں میں محب وطن کے نام پر ایسا شوشہ چھوڑا گیا کہ اکثریتی طبقے کی نظر میں مسلمان ایک وطن کا دشمن دیکھاجانے لگا۔بات صرف موجودہ وقت کی ہی نہیں ہے بلکہ سیکولرازم کی بات کرنے والی کانگریس نے اقتدار کے لیے جس طرح مسلمانوں کا استحصال کیا وہ پوری دنیا کے سامنے ہے۔کبھی بابری مسجد کا تالا کھولوا کر تو کبھی دھشت گردی  کے نام پر سینکڑوں مسلم نوجوانوں کو جیل کے اندر ڈال ان کی زندگی برباد کردی گئی۔

      اب جب کہ مرکز کی باگ ڈور ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں ہے جو آر ایس ایس کی پیدوار ہیں اور ان کے ہی نظریات کو ملک پر مسلط کرنا چاہتی ہے۔جب مرکز میں اقتدار میں آئی ہے اس وقت سے ملک کے اندر عجیب سی کیفیت پیدا ہوگئی ہیں۔آر ایس ایس،بجرنگ دل، ہندوواہنی،ہندوجاگرن منچ،ہندو کرانتی دل سمیت درجنوں فرقہ پرست تنظیمیں ملک کے پر امن ماحول کو پراگندہ کرنے کی کوشش میں ہے۔چلتے پھرتے مسلمانوں کومارنا پیٹنااور حراساں کرنا روز کامعمول سا بن گیا۔مگر افسوس کہ سرکار کی خاموش مہربانی نے ان کے حوصلے کو اور زیادہ مضبوط کردیا ہے۔جو ملک کی ترقی و خوشحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

       اب جب کہ ایک بار پھر سے ھندتوا تنظیموں نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں چسپاں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر کو لے کر ہنگامہ آرائی کردی جس کی آگ جامعہ ملیہ اسلامیہ تک پہنچی ہے۔حقیقت میں محمدعلی جناح ھندوستان کے مسلمانوں کے لیڈر ہوہی نہیں سکتے لیکن ھندتوا تنظیموں کے لیے محمدعلی جناح اقتدار کے حصول کا ذریعہ ضرور ہوسکتا ہے۔ مسلمانوں کے لیڈر مولانا آزاد،محمد علی جوہر،مولانا محمد علی شوکت،سر سید احمد خان،اے پی جے عبدالکلام سمیت وہ تمام شخصیات ہیں جنہوں نے ملک کی آزادی و ترقی میں کلیدی رول ادا کیا۔

     حقیقت میں اب جب کہ 2019 لوک سبھا انتخابات کی بگل بج چکی ہے اور مرکزی حکومت پوری طرح سے ناکام ہوچکی ہے۔ مہنگائی آسمان چھو رہی ہے،کسان،نوجوان بے روزگار مررہے ہیں ایسے میں سرکار کے پاس کوئی ایسا موضوع ہی نہیں ہے جسے  لے کر عوام کی عدالت تک پہنچے۔تو منظم طریقے سے ملک کے عوام کا دھیان اصل معاملے سے الگ کر جناح،طلاق وغیرہ میں بھٹکائے رکھنے میں یقین رکھی ہیں۔محمد علی جناح کی تصویر تو صرف ایک بہانہ ہے۔چار سال میں سرکار نے ملک کی اقتصادی صورت حال کو آگے لے جانے کے بجائے پیچھے پہنچانے کا کام کیا۔بھگوا دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے کر ملک کی بد سے بد تر حالت پیدا کردی ہیں۔اگر پی جے پی کو محمد علی جناح کی تصویر سے اتنی نفرت ہے تو پھر 2005 میں پاکستان دورے پر گئے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے جناح کے مزار پر عقیدت کے پھول برسائے و جو باتیں ڈائری میں تحریر کی ہے اسے غلط قرار دیا جائے؟ممبئی ہائی کورٹ میں آج بھی جناح کی تصویر لگی اور اب خود انکے ہی لیڈران جناح کے قصدیں پڑھتے ہوئے تھک نہیں رہے ہیں۔

      جس ایم پی نے تصویر کو لے جب لکھا وہ خود یونیورسٹی کورٹ کے ممبر ہے اگر انکی نیت صحیح ہوتی تو وہ اس معاملے کو کورٹ میں اٹھا سکتے تھے۔لیکن یہاں تو ھندتوا کو خوش کر،سیدھے سادھے ھندومسلمان کے بیچ کھائی پیدا کر  اقتدار کی کرسی پر براجمان رہنا ہے۔
محم اکرم ظفیر
                        مشرقی چمپارن،بہار