جمہوریت آپ کو آواز دے رہی یے!

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمدصابرحسین ندوی،ایم پی
ہم نے اس ملک کی آزادی کیلئے خون،پسینہ ایک کردیا تھا،ملک کا ہر خطہ اور ہر کونہ سے ایک ہی صدا لگائی تھی، جمعیت علمائے ہند،مسلم لیگ، تحریک خلافت، ریشمی رومال اور نہ جانے کتنی تحریکوں کے پلیت فارم سے پورے ملک کو اتحاد وانصرام کے انوکھے دھاگے پرو دیا تھا، ملی ودینی رہنماؤں نے اپنے مدارس و خانقاہوں کو بھی قربان کردیا تھا،مسندیں اور اتالیقی بھی نچھاور کر دی تھی ،گاو تکیہ بھول بیٹھے تھے،محمد علی جناح اور محمد علی جوہر اور شیخ الہند نے اپنی آخری سانس تک قربان کردی تھی،گاندھی اور نہرو نے گانگریس کی راہ سے ملک کے ہر طبقہ میں آزادی کی عجب تحریک و لگن کی فضا عام کردی تھی،انگریزوں کے ستم کی کون پرواہ کرتا تھا،دلی سے شاملی تک لٹکی لاشوں کے بارے میں کون سوچتا تھا؟معاش و معاشرت کی کسے پرواہ تھی؟بس اگر کسی چیز کی دھن اور رد و کد سوار تھی؛تو وہ آزادی کی تھی،گوری چمڑی اکھاڑ پھینکنے اور ایک نئے سرے سے ملک کو آباد کرنے کی تھی،اس کی کھوئی ہوئی عظمت لوٹانے اور اس کے معاشی و حکومتی یگانگت کو پھر سے زندہ کرنے کی تھی۔
    خدا کا بھی اصول ہے اور دنیا نے ہمیشہ اسے آزمایا یے؛کہ قربانیاں اور جاں نثاریاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں، دیر سہی مگر در لوٹ ہی آتا ہے،ہندوستان بھی آزاد ہوا،اور ڈکٹیٹر حکمرانی، یا مطلق العنان بادشاہت، سرمایہ داری وغیرہ؛ کے بجائے جمہوریت کی خوبصورت اوڑھنی اوڑھائی گئ ،ہر کسی کیلئے جینا،رہنا اور اپنے مذہبی وملی تشخص کے ساتھ سالمیت کی ضمانت دی گئی،اب تک اس پر ستر سے زائد سال گزر چکے ہیں،مگر جمہوریت کی چھتری برقرار ہے،اس پر بہت سے نازک دور آئے؛بسا اوقات ایسا محسوس ہوتا ؛کہ اب کی اوڑھنی چاک کر دی جائے گی،یا پھر سے نام نہاد اسے اپنا غلام نہ سہی؛ لیکن ایک ایسی چادر ڈال جائیں گے،جس میں ہر کسی کا دم گھٹنے لگے گا،ہر کسی پر ایک ہی رنگ چڑھ جائے گا اور اس کی متنوع تہذیب و تمدن کی خوبصورتی الوداع ہوجائے گی، حتی کہ اسے غلامی کا دسرا نام ایمر جینسی جیسے بد ترین صورت حال سے بھی گزرنا پڑا؛ لیکن ہر بار انسان نوازوں اور ملک کے وفادار باشندوں نے دوٹوک جواب دیا، اور اس سلسلہ میں اپنی جانین بھی قربان کیں اور مال بھی کام میں لائے۔
     *واقعہ یہ ہے کہ آج ملک عزیز کو ماضی سے کہیں زیادہ نازک دور کا سامنا ہے،ملک ٹوٹنے اور بکھرنے اور چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم ہونے کے کنارے پر کھڑا ہے،ملک کا ہر طبقہ ایک ہی بولی بول رہا ہے،چاروں طرف ایک ہی رنگ چڑھ چکا ہے،عدالت عظمی، منصب اعظم سے لے کے ہر شعبہ ایک ہی اشارہ اور ایک ہی جماعت وپارٹی؛ بلکہ ان میں بھی چند اشخاص کی انگلیوں پر ناچ رہا ہے،ہر جگہ لاقانونیت ہی لاقانونیت ہے،جو کہہ دیں وہی قانون، جو کردیں اور جب کردیں وہی ضابطہ بن جاتا ہے،معیارات بدل چکے ہیں، مدمقابل جماعتوں نے خواب خرگوش کی نیند لے رکھی ہے،لفٹ پارٹیاں دراصل بہائند پارٹیاں بن چکی ہیں،مسلم جماعتوں کا شمار کرنا یا نہ کرنا برابر معلوم ہوتا ہے،اگر اب بھی سمجھ نہ آئے تو حالیہ کرناٹک میں ہوئے سیاسی ناٹک پر غور کیجئے! یاد رکھئے ! اگر آپ سوچتے ہیں؛ کہ ملک کی سیاست سے آپ کا کیا تعلق اور کس کی پارٹی حکومت کرے یا نہ کرے اس سے ہمارا کیا سروکار یا پھر سیاست پر بس معمولی نظر رکھ لینا ہی کافی سمجھتے ہیں؟ تو ملک تو برباد ہوگا ہی آپ کا گھر بھی اجڑ جائے گا،آپ کی معیشت بھی نڈھال ہوجائے گی، کیونکہ یہ ایک ایسا شعبہ ہے جس کا لامحالہ ،دانستہ یا نادانستہ آپ کی زندگی سے مربوط ہے،جس سے کوئی مفر نہیں،اب دیکھنا یہ ہے ؛کہ آپ کی روح میں کونسی روحانیت جنم لیتی ہے، اور آپ کی طبیعت پر کونسا کیف پیدا ہوتا ہے؟کیا آپ ساحل پر کشتی کے ڈوبنے کا نظارہ کرتے ہیں یا پھر عہد ماضی کی طرح آگے بڑھ کر اس کشتی کا پتوار سمبھال کر؛ کنارے لگاتے ہیں۔*

✍ *محمد صابرحسین ندوی*
کوٹراسلطاناباد نیا بسیرا بھوپال،ایم پی