جس کی لاٹھی اس کی بھینس……! 

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

 تحریر نگار………. عبیدالرحمان عقیل ندوی
آج خیال آیا کہ یہ محاورہ ” جسکی لاٹھی اسکی بھینس” جس نے بھی ایجاد کیا ہے  اسکی فہم و فراست  لائق تحسین ہے کیونکہ ہزاروں شب وروز آتے اور جاتے رہے صدیاں گزر گئیں لیکن اس محاورے کی اہمیت و افادیت اب تک برقرار ہے اسکی پائیداری سے تو ایسا لگتا ہے کہ شاید اردو دنیا کی  ازلیت سے ہے اور ابدیت تک رہے گی چنانچہ جب ہم  کسی کے گھر، خاندان، معاشرہ، شہر یا ملک و قوم کی روز مرہ زندگی کا جائزہ لیتے ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں اسی کا تسلط ہوتا ہے جسکی لاٹھی ہوتی ہے خاندان کے اندر بات اسی کی مانی جاتی ہے جسکی …….

پورا معاشرہ اسی کی قدم بوسی کرتا ہے جسکی……….. شہر کے لوگ اسی کےسامنے سرٹیکتے ہیں جسکی ………عہدہ منصبی پر فائز وہی شخص ہوتا ہے جسکی …………. حکومت و اقتدار کی کنجی اسی کو سونپی جاتی ہے جس کی ………. گویا کہ جسکی لاٹھی اسی کی بھینس جیسا معاملہ ہر روز اور ہرجگہ دیکھنے کو ملتی ہیں اور شاید آئندہ بھی ملے ………………لیکن ان تمام باتوں کے ساتھ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ آخراس کا ذمہ دار کون…….. ؟ خود موجد محاورہ یا پھر وہ خود (جسکی لاٹھی اسکی بھینس) اگر موجودہ حالات پر  ہی نظر ڈالی جائےتو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو ہم کہیں وہ دوسرا نہیں کہے اگر ایسا ہم نے کیا تو دوسرا ویسا کیوں کرے  چنانچہ ان باتوں سے اور آگے نکل کر دیکھیں تو تقریبا گھرانوں کی ازدواجی زندگی بھی اس بلا سے خالی نہیں ہے

جیسا کہ کچھ بیگمات اپنے شوہروں پر  شکنجہ کستی نظر آتی ہیں  خواہ اس کسنے پر ظلم و جبر سے بھی گزرنا پڑے تو بھی کوئی حرج نہیں خاندان کا کوئی فرد ہو یا گاؤں علاقہ اور شہر و ملک کا برسر اقتدار بس ہمیشہ ایک ہی نشہ سوار رہتا  ہیکہ ہم ایسا ہی کریں گے لیکن ویسا نہیں یعنی جس سوچ و فکر کو اپنی قوت کے بل پر دوسروں پر لاد سکیں لاد دیا جائے  اب چاہے سیتا سسک سسک کے مرے یا پنکھے سے لٹک کر چنانچہ کچھ اسی طرح کی حکایت میاں صاحبان کا بھی ہے جب جی چاہا اپنی بیگمات پر سخت سے سخت فرامین جاری کردئیے یاپھر گھر سے گھسیٹ کر باہر کر دیا اورکہیں اس سے بدتر ین حالات اس وقت ملک و سماج کےٹھیکیداروں کا ہے جب جی نے کہا نوٹ بندی کا اعلان کروادیا اورجب روپے کم پڑگئے تو جی ایس ٹی لاگوکر دیا

آج افسوس کے ساتھ یہی لکھنا پڑ رہا ہے کہ آج سے صدیوں پہلے ایجاد کیا گیایہ محاورہ آج بھی اپنی معنویت پر برقرار ہے لیکن یہ انسان …………. … ( ……افسوس ……صد………. افسوس …….) ………………. ! کاش کہ خود موجد محاورہ اس کو ایجاد نہ کرتے یا پھر اپنے ساتھ لے کر چلے جاتے …………………..(” جس کی لاٹھی اس کی بھینس.”)…………………………………………….. .
تحریر ………. عبیدالرحمان عقیل ندوی
اسماء پبلک اسکول ڈومریا