71

جس قوم نے اپنے شیر دل حسینی کو رلا دیا

وہ شخص جو ہمیشہ باطل کو للکارتا رہا، وہ شخص جو ہر موقع پر اپنی قوم کا حوصلہ بڑھاتا رہا، جسنے باطل سے کسی بھی حالت میں سمجھوتے کی بات نہیں کی تھی، وہ شخص جو سنگین ترین حالات میں بھی جرأت مندی کا مظاہرہ کرتا رہا، جب ساری دنیا آلِ سعود کے ریالوں پر ایمان لا چکی تھی تب جس نے اخوان کی پوری دنیا میں کھل کر حمایت کی، جب ساری دنیا کے لوگوں نے فلسطینی مجاہدین کو دہشت گرد کہا تب جس نے علی الاعلان مجاہدین کی ترجمانی کی، دنیا بھر میں اُمتِ مسلمہ کو جھنجھوڑتا رہا، کبھی کویت جاکر خصوصی حلقوں میں اسلامیت کی روح پھونکا، کبھی ترکی کے مسلمانوں میں ایمان اور جہاد کا جزبہ پیدا کیا، کبھی شامی مسلمانوں کو آمادہ کیا کہ وہ داعش کے خلاف کھڑے ہوں، جس نے مصر کے مسلمانوں کی ترجمانی کی، جو خود لفظِ جرأت کی شان تھا، اُس عظیم شخص کو اُسکی قوم نے صرف اس بات پر رونے پر مجبور کردیا کہ اُسنے اپنی راے کا اظہار کرنا چاہا، جو شخص باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا رہا اور جس نے کبھی ریالوں اور ڈالروں کی پرواہ نہیں کی اُسے اُسکی قوم نے آج ملت فروش کہہ کر رلا دیا، اُن لوگوں نے اُسے بت پرستی کا طعنہ دیا جو دہریت کے علم بردار ہیں، اُسی کی قوم کے دو ٹکے کے صحافیوں نے اُس پر سنگین الزامات لگاے، لیکن پھر بھی وہ کہتا رہا کہ میں ملت کے ساتھ ہوں،میں اپنی قوم کے ساتھ ہوں، میری بات تو سن لو، فیصلہ آپ کے ہی ہاتھوں میں ہوگا، میں صرف اس لئے کہہ رہا ہوں کہ بابری مسجد کے سلسلہ میں نرم رویہ اختیار کرلو چونکہ اس میں ہماری ملت کا فائدہ ہے، اور اگر ہم اڑے رہے تو غریب مارے جائیں گے، ہمارے مذہبی قائدین تو اپنی ٹولیوں کے ساتھ محفوظ رہیں گے، لیکن اُن بے سہارا مسلمانوں کا کیا ہوگا جن کی لاشیں بھی اُٹھانے والا کوئی نہیں، میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میری قوم کے غریب مظلوم اور لاچار افراد مزید بے بس نہ ہوجائیں، ہمارے سیاسی رہنماؤں کا کیا؟ وہ تو مضبوظ محافظ دستوں کے ساتھ ہوتے ہیں، اُنکا خون تو درکنار پیسینے کا بھی ایک قطرہ نہیں بہے گا، لیکن میں نے ۱۹۹۲ میں مسلمانوں کے بہتے خون کی ندیاں اور جلتی لاشیں دیکھی ہیں، میں نے مسلم بہنوں کی عزتیں تار تار ہوتے دیکھی ہیں اور یہ بھی دیکھا ہے کہ ان حالات میں ہمارے قائدین اور سیاسی لیڈران بلوں میں گھس جاتے ہیں فلسطینیوں کی طرح مسجدِ اقصی اور مسلمانوں کے تحفظ کے لئے میدان میں نہیں اترتے،. آر ایس ایس ایسا ننگا ناچ ناچتی ہے جسے دیکھ کر روح کانپ جاتی ہے اور جس عدالت میں بابری مسجد کا کیس ہے وہ سب کچھ جاننے کے باوجود بھی خاموش رہتی ہے، پولیس قاتلوں کا ساتھ دیتی ہے، مظلوموں کو سہارا کوئی نہیں دیتا، خون کہیں اور بہتا بہتا ہے ہماری تنظیمیں اور قائدین بیان بازیاں کہیں اور کرتے ہیں، اس لئے میں نے سوچا کہ اگر اس مسئلہ کو ہم اچھے طریقے سے باہر حل کرلیں تو کیا پریشانی ہے؟ ہم اپنی شرطیں رکھیں گے، اور جن شرائط پر ہمارے قائدین متفق ہونگے ہم تسلیم کریں گے، یہ تو صرف میرا نظریہ نہیں تھا مجھسے قبل کئی لوگوں نے اس طرح کی کوششیں کیں، اور اگر نہیں بھی کیں تو میں صرف اچھے نتائج کی اُمید لیکر روی شنکر سے ملاقات کے لئے گیا تھا، میں اپنے نظریات بورڈ میں پیش کرنا چاہتا تھا، لیکن میری بات نہیں سنی گئی، مجھے دہریوں نے بت پرستی کا طعنہ دیا، اُن اخبارات نے مجھے ملت فروش کہا جو خود اپنی عزت کی قیمت بازاروں میں لگاتے ہیں، جن اخبارات کو لوگ پڑھنے سے قبل ہی ناشتہ کا دسترخوان بنالیتے ہیں اُنہوں نے میری نیت پر سوال اُٹھایا،.

وہ شیر دل آج رو رو کر کہہ رہا ہے کہ کیا مجھے کوئی یہ بتاے گا کہ صلح حدیبیہ کن شرئط پر ہوئی تھی؟ حالانکہ صحابہ جنگ کے لئے تیار تھے، عمر پیش پیش تھے، جبکہ ہمارے قائدین تو اسے دہشت گردی کہتے ہیں، میری قوم نہ بابری مسجد میں بت رکھنے سے کسی کو روک سکی، نہ ہی شہید ہونے سے بچا سکی، نہ ہی بت خانہ کی تعمیر سے روک سکی، اور جو عدالت سب کچھ دیکھ کر خاموش رہی اُسی سے انصاف کی بھیک پچیس سالوں سے مانگتی رہی ہے، کیا جنگیں اس طرح لڑی جاتی ہیں؟ کیا خدا کے گھر کی حفاظت اس طرح ہوتی ہے؟ اگر ویران خدا خانہ کی جگہ آباد بت خانہ بنا لیا گیا ہے اور ہم کچھ نہ کرسکے تو کیا اب وہاں ایک اینٹ بھی مسجد کے نام پر پہنچا سکتے ہیں؟ اور اگر عدالت ہمارا غرور اُسی طرح توڑ دے جس طر مسئلہء طلاق پر توڑا تھا تو ہم کیا کریں گے؟ کیا ہم نے کوئی پیش قدمی کا طریقہ سوچا ہے؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، ہوسکتا ہے میں اس نظریہ میں غلط ہوں لیکن میری بات تو سنی جاتی، مجھے پہلے ہی ملت فروش کہہ کر بورڈ سے نکال دیئے جانے کی دھمکی دے دی گئی..
تو مجھ میں بھی حسینی خون ہے، میں نے بھی ردّ عمل میڈیا پر ظاہر کیا، حالانکہ یہ میری غلطی تھی، اور مجھے محسوس ہوچکا ہے، میں نے اپنے عزیز دوست سجاد نعمانی پر بھی الزام لگا دیا، حالانکہ میرا قطعاً مقصد یہ نہیں تھا، جب میں روی شنکر سے ملنے گیا تو مجھے دھمکیاں ملیں کے بورڈ کاروائی کرے گا، میں نے جواباً کہہ دیا کہ جو آر ایس ایس کے لیڈران سے ملنے جاتے ہیں اُنکے خلاف بھی کاروائی کرو، مجھے معلوم ہے کہ سجاد نعمانی انسانیت کی بنیادوں پر ملنے جاتے ہیں، ہاں مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے بات غلط انداز میں غلط موقع پر کہہ دی، لیکن میں کیا کروں کہ میرا اتنا استحصال کیا گیا کہ میں بیان نہیں کرسکتا، گلی کے آوارہ لوگ تو گالیاں دیتے ہی ہیں لیکن اُن قابلِ احترام ہستیوں نے میری بات نہیں سنی جنہیں میں امیر المؤمنین فی الھند کہہ کر مخاطب کرتا ہوں، میں سجاد نعمانی صاحب سے معافی چاہتا ہوں کہ میں نے یہ کہہ دیا کہ جب اُنہیں معلوم ہے کہ ہتھیار آچکے ہیں تو خاموش کیوں ہیں، میں سجاد صاحب کے مقام سے اور اُنکی اہمیت سے واقف ہوں، ہاں مجھسے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے ردّ عمل کا اظہار غلط طریقہ اور غلط جگہ پر کیا، لیکن مجھے اپنے عزیز دوست اسد الدین سے یہ اُمید نہیں تھی کہ وہ اس حد تک جاسکتے ہیں، میں نے اپنے انٹر ویو میں اُن کی ذات کو نیک صفت انسان سے تعبیر دیا تھا، لیکن اُنہوں نے وہ کچھ کہہ دیا جسکی اُمید نہیں تھی، اُنہوں نے اُسی طریقہء تنقید کا استعمال کیا جو کفر اور اسلام کے درمیان کیا جاتا ہے،…خیر! آپ نے میری راے جسے بار بار میں کہتا رہا کہ یہ میری ذاتی راے ہے اُمت کا فیصلہ جو ہوگا وہ میرا ہوگا کا سیاسی فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی. البتہ آپ سب کو اس بات کا حق تھا کہ میری سرزنش کریں کہ آپ کو میری راے پر کفر کا شک ہوا… لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب مکہ کے مسلمانوں کا خون بہنے لگا تو کچھ دنوں کے لئے کعبة اللہ کو بھی چھوڑ کر نبی چلے گئے تھے، آپ کو معلوم ہے کہاں گئے تھے؟ میں بتاتا ہوں، تعلیم کے لئے، تربیت کے لئے، میں بھی تو یہی کہہ رہا تھا، کہ ایک مسجد کا مسئلہ ہے، اگر ہم بھی دشمن کی طرح یہی کہیں کہ ہمیں مسجد ہی چاہئے عدالت کا فیصلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا، تب تو ہم حق پر ہیں، اور ہمیں آج ہی سے چاہئے کہ ہم نوجوانوں کی تربیت کریں تاکہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل کے ہاتھیار بند تربیت یافتہ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا جاسکے، لیکن ہم کچھ نہیں کرسکتے. صرف ہمارے غریب کمزور اور بے بس لوگ مارے جائیں گے
…………………میں صرف اتنا کہنا چاہونگا کہ ان پچیس سالوں میں بابری مسجد کو اشو بنا کر کفر متحد ہوچکا ہے.
کفر خود نہیں چاہتا یہ معاملہ حل ہو..
وہ ۲۰۲۴ کے انتظار میں ہیں جب وہ ملک کو ہندو راشٹر بنا چکے ہوں گے..
میں نے اپنی راے رکھنا چاہتا تھا.
مجھے اتنا ذلیل کیا گیا کہ مجھے وہاں سے نکلنا پڑا.
اور مجھسے میڈیا پر آنے کی غطی ہوگئی…

لیکن جن لوگوں نے مجھے ملت فروش کہا، میری نیت پر حملے کئے، مجھے کافر، بت پرست اور منافق کہا، اُنہوں نے مجھے سخت تکلیف پہنچائی، ہوسکتا ہے میں غلط تھا، لیکن میری بات تو دسن لیتے…
*اسماعیل کرخی ندوی*

جس قوم نے اپنے ایسے رہنما کو رونے پر مجبور کر دیا جو جرأت مندی میں اسلاف کی یاد تھا اُس قوم کا بیڑہ کیوں نہ غرق ہو؟
یقیناً ہم مولانا سلمان صاحب کے طریقہء کار سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں، اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ ہیں، لیکن مسلمانوں نے جو رویہ اختیار کیا وہ بہت ہی افسوسناک تھا.

مولانا کبھی کسی کے سامنے روے نہیں تھے..
لیکن آج درس گاہ میں طلبہ کے سامنے رو پڑے، مجھے حیرت ہے کہ ایک اتنے مضبوط اعصاب کےحامل انسان آج رو پڑا.

ذیل میں ویڈیو کا لنک موجود ہے…………….ضرور دیکھیں…………

حضرت مولانا سید سلمان صاحب حسینی روپڑے ویڈیو ضرور دیکھیں

اسماعیل کرخی

نوٹ : تبصرے  ضرور کرتے جائیں اور اسکی تشہیر میں خیالات ڈاٹ کام کا تعاون کیے جائیں.  …… 

اس پوسٹ پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں