جسم کو ساری آلودگیوں اور ناکارہ خلیوں سے روزہ دلاتا ہے نجات

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

ڈاکٹر اسلم جاوید
رمضان المبارک کا مہینہ اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ جاری ہے، اس کی با برکت لمحات سے مستفید ہونے کیلئے اچھی صحت کا برقرار رہنا بے حد ضروری ہے، تاکہ عبادات کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کیا جا سکے، گرمی کے ماہ میں روزہ رکھنے سے جسم میں پانی کی کمی کا احتمال رہتا ہے۔ اس لیے ہیٹ ویو اور گرمی کے مضر اثرات سے بچنے کے لیے خصوصی اہتمام کرنا بہت ضروری ہے۔ان خیالات کا اظہار مسیح الملک حکیم اجمل خان میموریل سوسائٹی کے بانی وجنرل سکریٹری ڈاکٹر اسلم جاوید نے روزہ داروں کیلئے موسم گرما کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ روزے میں بھوک بڑھنے کے سبب جسم کے اندرونی اعضاء میں تحریک پیدا ہوتی ہے توکمزور خلیے اس کی تاب نہ لاکر تلف ہوجاتے ہیں، اس طرح انسان جسم میں موجود ناکارہ خلیوں سے نجات حاصل کرلیتاہے ۔ ڈاکٹر اسلم جاوید بتاتے ہیں کہ بھوک کے اسی رد عمل سے زائد چربی ،رطوبات اورچکنا ہٹ زائل ہوجاتی ہے،جوچستی کاباعث اور جسمانی نشو ونما میں معاون ہے۔روزے کے دنوں میں صحت مند وتوانا غذا کے استعمال سے خون کادورانیہ بہتر ہوجاتاہے،جس کی وجہ سے دماغ کو عمدہ اوروافر مقدار میں آکسیجن اور شوگر مہیاہوتی ہے۔نتیجۃ ًروزے دار کے دماغ میں چستی ونشاط پیداہوتی ہے اوروہ دماغی کام بہتر طریقے سے انجام دے سکتاہے۔ڈاکٹر اسلم جاوید کا کہناہے کہ روزے کا عمل نظام انہضام کے اہم غدود ’’لبلبہ‘‘ کوآرام وسکون پہنچاتاہے، لبلبے کاوظیفہ جسم کو انسولین مہیاکرناہے ،اور انسولین کاکام غذاؤں سے حاصل ہونے والی شوگر کوچربی میں تبدیل کرکے جسم کے ٹشوز میں جمع کرناہے۔جب انسان ضرورت سیزیادہ کھاتاہے تو کھانے سے حاصل ہونی والی وافر شوگر انسولین کے کنڑول سے باہر ہوجاتی ہے ،جس سے لبلبے پر بوجھ بڑھ جاتاہے اور وہ اپنا قدرتی فعل اچھی طرح انجام نہیں دیتا،جس سے خون میں شوگر کی مقدار بڑھتی رہتی ہے۔شوگر کا مریض جب روزہ رکھتاہے تو غذائی قلت کی وجہ سے لبلبے سے نکلنے والی انسولین شوگر کو بآسانی چربی میں تبدیل کردیتی ہے اور شوگر پرکنٹرول ہوجاتاہے۔انہوں نے روزہ داروں کو بطور خاص مشورہ دیاہے کہ سحری میں کم سے کم دو گلاس پانی ضرور پئیں، تاہم کولڈ ڈرنکس سے اجتناب برتیں، کیوں کہ یہ روزے کے دوران پیاس بڑھاتے ہیں۔ اسی طرح دہی اور ریشہ دار سبزیاں دن بھر پانی کی کمی کو پورا رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ کھیرا پانی کا ذخیرہ لیے ہوتا ہے۔ اگر سحری میں کھیرے کو بطور سلاد کھایا جائے تو یہ جسم کے خلیات میں پانی کو جمع رکھتا ہے۔گرمیوں کے دوران پسینے کے راستے جسم کے نمکیات خارج ہوجاتے ہیں یہ نمکیات خون کے اندر شامل ہوتے ہیں جس سے جسم میں پانی کی ایک خاص مقدار بحال رہتی ہیں۔ روزہ داروں میں پانی کی کمی کا احتمال زیادہ رہتا ہے جس کے لیے ناریل کا پانی کافی مفید ہے۔ یہ قدرتی اجزاء سے بھرپور ہے جس میں نمک کی خاص مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم میں پانی اور نمکیات کی کمی کو دور کر دیتی ہے۔ڈاکٹر اسلم جاوید نے مزید کہاکہ روزے کے دوران پانی اور نمکیات کی کمی دور کرنے کے لیے سحری میں پھل بالخصوص گرما، تربوز اور خربوزہ ضرور کھائیں۔ یہ پھل دن بھر جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنے میں کافی مدد گارثابت ہوتے ہیں اس کے علاوہ ان پھلوں میں پوٹاشیم اور وٹامنز بھی موجود ہوتے ہیں جو جسم میں نمکیات اور توانائی کی کمی کو دور کرتے ہیں۔