تیرہویں قسط سفر کنڈہ

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

*مدرسہ نور الاسلام کنڈہ اور کار پیام انسانیت*

*طارق شفیق ندوی*
*لکچرر میاں صاحب انٹر کالج گھورکھ*

ملک کے موجودہ ستم ظریفانہ اور پراگندہ حالات روز بروز واقع ہونے والے فسادات، انسانی جان و مال کی ارزانی ،معصوم بچیوں کی سے ساتھ عصمت دری کے واقعات اور انسانیت کے اعتبار و وقار کی گم ہوتی روایات آج نوشتئہ تقدیر سی بن گئی ہے ۔ اتنے طویل و عریض ملک میں جہاں اکثریت غیر مسلموں کی ہے اور ماحول میں مسلسل ایک دوسرے کے خلاف بدگمانیوں کا غبار پھیلایا جا رہا ہے ۔ فاصلے بڑھائے جار ہے ہیں اور نئ سیاسی صف بندی کے ذریعہ مسلمانوں میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا جارہا ہے، مسلمانوں کے خلاف نفرت کا زہر مسلسل گھولا ہی جارہا ہے ان حالات میں پیام انسانیت کے کاموں اور خدمت خلق کے ذریعہ اس فاصلہ کو پاٹنے اور دوریوں کو ختم کرنے کی سخت ضرورت ہے ان حالات میں مسلمانوں اور خاص طور پر مدارس سے جڑے لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ خدمت خلق اور پیام انسانیت کے کاموں کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیں اور حلف الفضول جیسا کوئ پیکٹ اور معاہدہ مخلص اور ہمدرد برادران وطن کے ساتھ مل کر کریں کہ ملک میں ظلم اور نا انصافی نہیں ہونے دیں گے اور امن و شانتی پریم و محبت اور اخوت و بھائی چارے کا ماحول قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں گے ۔

آج کے حالات میں ایک مومن صادق کی حیثیت یہ نہیں ہے کہ وہ محض تماشائی بن کر رہے ۔
*الحمد للہ* مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپگڑھ کے حالیہ سفر میں میرے فاضل دوست مولانا محمد قمرالزماں ندوی نے بتایا کہ ہمارے مدرسہ میں خدمت خلق اور پیام انسانیت کا کام بڑے منظم اور مرتب طریقہ سے ہورہا ہے اور برادران وطن کی ایک بڑی تعداد جو انٹکچول طبقہ سے تعلق رکھتی ہے وہ بھی ان کاموں سے جڑے ہوئے ہیں اور ہر موقع پر ساتھ رہتے ہیں مہینہ میں دو بار سرکاری ہاسپٹل میں مریضوں میں پھل تقسیم کیا جاتا ہے اور اس میں مدرسہ کے اساتذہ طلباء غیر مسلم حضرات اور اسکول کے طلبہ بھی شریک رہتے ہیں ۔ پچھلے دو جمعہ ٹھنڈا پانی اور پیٹھا تقسیم کرکے انسانیت کے پیغام کو اور مانوتا کے سندیش کو عام کیا گیا، تقریبا دو سے ڈھائی ہزار لوگوں کو پیٹھے کے ساتھ پانی پلایا گیا ۔ اس کام سے کنڈہ قصبہ میں لوگوں کے درمیان بڑا اچھا پیغام گیا۔ ٹرک اور بس والوں کو مدرسہ کے طلبہ نے روک روک کر پانی پلایا اور دعائیں لیں، اور ان کاموں میں جو اخراجات آتے ہیں وہ خود پیام انسانیت فورم کنڈہ یونٹ کے ممبران اور مدرسہ کے اساتذہ برداشت کرتے ہیں ۔ پیام انسانیت کے ان کاموں کی نگرانی مولانا محمد زبیر صاحب ندوی مولانا محمد بلال صاحب ندوی کے حکم اور اشارے پر کر رہے اور تمام اساتذہ اور طلبہ نیز مدرسہ کے خیر خواہ حضرات اور ایک بڑی تعداد برادران وطن کی بھی اس میں شامل ہے ۔ ہندوستان کے تمام اہل مدارس کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ حالات میں مدارس کی چہار دیواری کو صرف درس و تدریس کے لئے کافی نہ سمجھیں اور اسی پر اکتفا نہ کریں کہ ایک بندھا ٹکا نظام پر عمل کر لیا جائے اور بس اسی پر اکتفا کر لیا جائے بلکہ ضرورت ہے کہ چہار دیواری سے نکل کر انسانی خدمت کے کاموں میں لگا جائے اور برادران وطن سے خوشگوار تعلقات بنا کر اور انسانی خدمت انجام دے کر غلط فہمیوں کا ازالہ کیا جائے فاصلے دور کئے جائیں اور نزدیکیاں بڑھائ جائیں ۔
مولانا سید ابو الحسن علی ندوی رح اس کے لئے بے چین رہتے تھے وہ چاہتے تھے کہ یہ کام حالات کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ انجام دئے جائیں اور حضرت مولانا رح اس کے لئے جتنا کر سکتے تھے اتنا انہوں نے کیا ۔

مولانا رح کے اس کام کو برادران وطن بھی بڑی اہمیت دیتے تھے ،پیام انسانیت کے جلسوں میں شرکت کرنے والے سیکڑوں غیر مسلموں کے تاثرات حضرت مولانا کی تحریروں اور تحریک کے دفتر میں موجود ہیں ۔ دو تین واقعات اور نمونے آپ حضرات قارئین کی میں پیش کرتے ہیں تاکہ اس کام کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکے ۔
بڑوت مغربی یوپی سے تعلق رکھنے والے ایک گاندھی وادی کانگریسی لیڈر چودھری رام سروپ صاحب ایک بار راجیو گاندھی سے ملنے گئے جب وہ وزیر اعظم تھے دہلی جاکر ان سے ملاقات کی اور ان پر بہت زور دیا کہ میں نے تمہاری والدہ اندرا گاندھی کو گود کھلایا ہے ،اس بڑھاپے میں ایک ضروری مشورہ دینے تمہارے پاس آیا ہوں ،اگر واقعی تمہیں ہندوستان سے محبت ہے اور تم یہ چاہتے ہو کہ ہندوستانی ترقی کرے اور پوری دنیا کی قیادت کرے تو تم پورے ملک کے بجٹ کے آدھے آدھے دو حصے کرو ،آدھا حصہ تو پورے ملک کے تمام کاموں میں خرچ کرو اور پورے بجٹ کا آدھا حصہ مولانا علی میاں کو پیام انسانیت کے خرچ کے لئے دو،جب ملک کے شہری علی میاں کے خوابوں کے انسان بن جائیں گے تو ہندوستان پھر سے سونے کی چڑیا بن جائے گا ۔
آنجہانی وی پی سنگھ سابق وزیر اعظم ہندوستان سے لکھنئو میں میڈیا کے لوگوں نے ایک پریس کانفرنس میں اس زمانہ میں سوال کیا تھا جب وہ بہت بیمار تھے کہ آپ اپنی کوئی پہلی اور سب سے آخری خواہش بتائے تو انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ میں علی میاں کے خوابوں کا ہندوستان دیکھ کر مرنا چاہتا ہوں ۔جس میں ایسے انسان بستے ہوں جن کی انسانیت مری ہوئی اور سوئ ہوئ نہ ہو ۔ ( ماہنامہ ارمغان جنوری 2018 ء)
یقینا مدرسہ نور الاسلام کنڈہ کے ذمہ داران اساتذہ اور طلبہ کنڈہ اور اطراف کنڈہ کے بردارن وطن سے ملکر علی میاں ندوی رح کے خوابوں والے ہندوستان کے لئے بھر پور اور انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔

تمام مدارس اسلامیہ کو چاہیے کہ اس کو آڈیل اور نمونہ بنائیں اور اپنے اپنے علاقوں میں پیام انسانیت کے کاموں کو فروغ دیں تاکہ ہندوستان میں امن و امان اور شانتی کا ماحول قائم ہو سکے اور ہندوستان صحیح معنوں میں گنگا جمنی تہذیب کا عکس اور جھلک پیش کر سکے ۔