تم کیا گئے کہ رونق شاہین چلی گئی ؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!
 اشفاق احمد القاسمی معھد الکتاب والسنہ ضلع نوادہ بہار

زمانہ کا اصول ہے کہ جوبھی اس روئے زمین پر آیا ہے ،وہ ایک نہ ایک دن اس روئے زمین سے رخصت ہوگیا (کل من علیھا فان و یبقی وجہ ربک ذوالجلال و الاکرام )
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی بے ساختہ زبان پر جاری ہوتی ہے کہ کتنی بے وفا دنیا ہے کہ شاہین کی وفات کی خبر سنکر جسم لرز گیا
بار بار مسیج تقریباً 100

سے زائد پھر بھی دل ماننے کو تیار نہیں اس دوران مفتی خالد صاحب کو فون لگایا نہیں اٹھائے ارشد کا فون لگ نہیں رہا اطہر کو کو فون لگا یا نہیں لگا پھر آخر میی مولانا حبیب الرحمٰن صاحب کو لگا مولانا بھی جب نہیں اٹھا پھر بھی دل مانتا نہیں تھا اچانک سے پھر مفتی صاحب کو لگایا مفتی صاحب سے کہا کہ مفتی صاحب کیا کیا خبریں سننے کو مل رہی ہے کیا حقیقت ہے جواب آیا میی ارشد بول رہا ہوں جی حقیقت ہے اناللہ واناالیہ راجعون پھر کہا کہ کاش میی بہرہ ہوتا اور میرے کانوں میی یہ افسوس ناک خبر نہیں پہنچتی جیسے کہ شاھین کیے موت کی خبر غیر متوقع خبر سنی تو ایسا محسوس ہوا کے سارے ہوش و حواس اڑگئے جیسے کہ عقل پر بجلی گر گئ تکلیف کی شدت سے دل چھلنی ہوکر رہ گیا ،

کرب بے چین حزن و ملال کی اس کیفیت سے دو چار ہوں جسکا علم باری تعالی کے علاوہ کسی کو نہیں رنج و غم کی شدت نے احساس کے تمام تر قوت سلب کردئے ہیی ۔دل غم و اندوز سے لبریز ہے در حقیقت یہ ہے ایک عظیم جانکاہ سانحہ ہے اور ایسی چوٹ ہے کہ جس نے باطن میں زبردست چوٹ ثبت کیا ہے وہ شاھین محبوب دل و جان تھی ،شاھین حضرت مفتی صاحب اور اپنے بھائی اور بہن اور والدین کیلئے سرسبز و شاداب درخت کے مانند تھی وہ پیکر عمل کا نمونہ تھی ، جو مفتی صاحب کے سارے مسائل رہن سہن سے واقف تھی .

آخر میں خداوند سے بار گاہ میں ست بدعا ہوں کہ خداوند قدوس مرحومہ شاھین کو کروٹ کروٹ چین سکون عطاء فرمائے اور قبر کو نور سے بھر دے اور اعلی علین میی مقام کریم عطاء فرمائے ،اور پسماندگان کو انے کے تینوں چھوٹے چھوٹے بچے کو صبرجمیل اور صبر یعقوبی عطاء فرمائے آمین ثم آمین ۔
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں جانے والے میی
اشفاق احمد القاسمی

2 تبصرے “تم کیا گئے کہ رونق شاہین چلی گئی ؟

  1. توحید عالم فیضی دہلی نے کہا:

    اللہ پسماندگان کو صبر جمیل عطاء فرمائے آمین ثم آمین یارب العالمین

    1. admin نے کہا:

      امین

تبصرے بند ہیں