تعلیم یافتہ کون ہے؟

اہم پیغام سب کو معلوم ہونا چاہیےدیکھیں اور شیر کریں!

محمد صابرحسین ندوی ایم پی
اسلام میں تعلیم وتعلم کی اہمیت اور اس کی فضیلت عیاں ہے،یہ خدا کی رضامندی، خوشنودی اور دنیا میں تفوق وبرتری کا سب سے موثر ذریعہ ہے،بالخصوص عصر حاضر میں تعلیمی عروج وترقی کے بغیر حکومت وسیادت کا حصول، اور عہد رفتہ کی بازیابی بہت حد تک ناممکن ہے،آج مغربی برتری کا پرچم اطراف عالم میں پورے آب وتاب کے ساتھ لہرا رہا ہے،جس کے پس پردہ مکر وفریب،حیلہ بازی اور غدر سے زیادہ علمی بیداری وشعور کا دخل ہے،تحقیقات و جستجو کے مزاج نے نت نئے ایجادات کرنے اور انسانی زندگی میں سہولت پیدا کرکے؛ اسے ہر ممکن آسان بنانے کی کوشش ہے،علم کیلئے سرگرداں رہنا اور اس کیلئے دشت وجبل کی پیمائی کرنا سمندروں اور لہروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے؛ ناممکن کو ممکن کردینے کی خواہش بلکہ حرص ہے،ان کا ہر فرد طالب علم نظر آتا ہے،ان کی پیشانی علم کی روشنی سے چمکتی ہے،آنکھوں میں تحقیق کی جوت صاف نظر آتی ہے،اور دل میں نئی بلندیوں تک پہونچنے اور زندگی میں کچھ کر گزرنے کا جنون ابال مارتا ہے۔*
   دراصل یہ ساری خصلتیں وہ ہیں؛ جو کبھی ہماری پہچان ہوا کرتی تھی،دنیائے عالم کا ہر خطہ علم کے پروانوں کی گرد پر گواہ ہوتا تھا؛لیکن افسوس دشمنان اسلام نے ماضی کی زنجیروں کو توڑتے ہوئے، اور اپنے گلے سے لاعلمی کے طوق وسلاسل کاٹتے ہوئے، علمی شمع فروزاں کی، اور دنیا کے امام وقائد بن گئے؛اس درمیان مسلمانوں نے ٹوٹ پھوٹی اور منتشر و غیر منتظم حکومت پر غرہ کرنے، اور چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں منقسم ہوکر زمانے کی ضروریات سے ابدی نگاہ پھیرلی تھی؛جب خواب خر گوش سے بیدار بھی ہوئے، تو مصنوعی اور پس خوردہ نظام تعلیم کے بوجھ تلے؛ ایسے دبے اور کچلے گئے؛ کہ اس سے نبرد ازما ہونا مشکل نظر اتا ہے،تعلیم کے نام پر محض سندیں لے لینا اور اعلی عہدوں کی تمنا میں بعض امتحانات کے اندر ہر صورت میں کا میابی پا لینا ہی علم کا معیار قرار پاگیا ہے؛ہر طرف ایک شور و غوغا ہے،ناکامیابی و کامیابی کا فریب غرق کئے جارہاہے،صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ اشخاص کا دیدار ہونا دشوار کن ہوتا جا رہا ہے؛ایسے افرادجن سے کسی تحریک وانقلاب اور نشات کی امید ہو،جو دیر میں اسلام پرچم لہرا سکے،جو زمانہ خو ایک نئی سمت اور نیا رخ دے سکے۔
   *پروفیسر محسن عثمانی ندوی دامت برکاتھم نے تعلیم یافتہ شخص کی نشاندہی کیا ہی خوب کی ہے،مولانا کا اقتباس پڑھئے اور سوچئے کہ کیا ہم تعلیم یافتہ اصحاب کے زمرے میں ہیں؟آپ رقمطراز ہیں؛ “••••یہ بات ہمیشہ یاد رکھنے اور لوح قلب پر محفوظ کر لینے کی یے؛ کہ تعلیم یافتہ شخص وہ نہیں ہوتا،جو مدرسہ کی یا کسی دانش گاہ کی کوئی ڈگری حاصل کر لے؛ بلکہ وہ ہوتا یے جس کے ہاتھ میں ہر وقت کتاب ہو،اور پھر بھی علم سے اس کی سیرابی کبھی ختم نہ ہو، اور اس کی علمی تشنگی ہمیشہ باقی رہے۔درجہ حرارت کے گھٹنے بڑھنے کی مانند ہر انسان کا درجہ ثقافت بھی ہر روز گھٹتا اور بڑھتا ہے،اگر کسی انسان کو ایک طویل عرصے تک علمی استفادہ کا موقع نہ ملے تو اس کا درجہ ثقافت نقطہ انجماد تک پہونچ جاتا ہے،یعنی اس کا علم منجمد ہوجاتا ہے،کسی موضوع پر کسی دانشگاہ کی سب سے اونچی ڈگری حاصل کر لینا بھی تعلیم یافتہ ہونے، اور مثقف ہونے کی پہچان نہیں یے؛کیونکی ہوسکتا ہے؛ کہ علم سے طویل عرصے تک ناوابستگی کی وجی سے اس کی ثقافت کی سطح صفر کے درجہ تک پہونچ گئی ہو”(مشاہیر علوم اسلامیہ اور نفکرین ومصلحین:۱۲)*

اپنا تبصرہ بھیجیں