برائی دیکھ کر خاموش رہنا بھی گناہ ہے

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو ۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیا : اے میرے رب ! اس شہر میں فلاں بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ تم اس شہر کو اس شخص سمیت الٹ دو،کیونکہ شہر والوں کو میری نافرمانی کرتا ہوا دیکھ کر اس شخص کے چہرے کا انگ ایک گھڑی کے لئے نہیں بدلا ۔ (چہرے پر شکن تک نہیں آیا یعنی اس برائ کو ہوتے دیکھا اور ان لوگوں کو نہ ہاتھ سے روکا نہ زبان سے اور نہ ہی دل سے برا سمجھا اور جانا، بلکہ سب سے الگ تھلگ اپنی عبادت میں مصروف رہا اور دعوت جیسے عمل اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دینے سے غافل رہا) ( مشکوت المصابیح )

صاحب مرقاة نے اس حدیث کی شرح میں لکھا ہے کہ اللہ تعالی کے اس ارشاد کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ بیشک میرے اس بندے نے کبھی بھی میری نافرمانی نہیں کی، مگر اس کا یہ جرم اور گناہ ہی کیا کم ہے کہ لوگ اس کے سامنے خلاف شریعت امور اور کام انجام دیتے رہے اور گناہ کرتے رہے اور وہ اطمنان کے ساتھ ان کو دیکھتا رہا ،برائ پھیلتی رہی اور لوگ اللہ تعالی کی نافرمانی کرتے رہے ،مگر ان برائیوں اور نافرمانی کرنے والوں کو دیکھ کر اس کے چہرے پر کبھی بھی ناگواری اور شکن کے آثار محسوس نہیں ہوئے ۔ (مرقاة)
انسان کی دنیا اور آخرت میں نجات ،کامیابی و کامرانی اور فلاح و سعادت صرف اس میں نہیں ہے کہ وہ صرف خود نیک صالح ، مطیع و فرمانبردار اور شریعت کا پابند رہے بلکہ اس پر لازم ہے کہ اپنی نجات کی فکر کے ساتھ اپنی اولاد اہل و عیال رشتہ دار اور عام طبقئہ انسانی کی نجات اور کامیابی کی فکر کرے ،اس کے لئے کوشاں ہو اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنی زندگی کا حصہ اور مشن بنائے ۔
ارشاد خداوندی ہے : *یا ایھا اللذین آمنوا قوا انفسکم و اھلیکم نارا*
اے ایمان والو! اپنے کو اور اپنی اولاد کو آتش جہنم سے بچاو ۔

ایک سچا اور پکا مسلمان وہ ہے جو اپنی صلاح کے ساتھ دوسروں کی اصلاح کرے اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتا رہے ۔
دعوت الی اللہ کے لوازم میں سے معروف کا حکم دینا اور برائ و منکر سے روکنا بھی ہے ۔ اسی لئے مسلمان داعی کی ذمہ داری ہے کہ وہ نیکیوں کا حکم دے برائیوں سے روکے بلکہ برائ سے مقابلے کے لئے ڈٹ جائے لیکن حکمت اور مصلحت کو بھی نہ چھوڑے اگر اس کے بس میں ہو اور برائ کے ازالے سے کوئ بڑا فتنہ کھڑا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو وہ اس برائ کو اپنے ہاتھ سے روکے اور ایسا نہ کرسکتا ہو تو زبان و بیان سے حق و صداقت واضح کر دے اور اگر یہ بھی نہیں کرسکتا تو باطل کو دل میں برا ضرور سمجھے اور اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی تیاری کرتا رہے ۔ یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس ارشاد گرامی کا مصداق ہے :

تم میں سے جو شخص برائ ہوتے دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روک دے اگر ایسا نہ کر سکے تو زبان سے منع کرے اور اگر ایسا بھی نہ کر سکے تو دل میں برا سمجھے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ اور سطح ہے ۔
(مسلم شریف)

محمد قمرالزماں ندوی

اپنا تبصرہ بھیجیں